شاعری

میں خود سے مایوس نہیں ہوں

میں خود سے مایوس نہیں ہوں انساں سے مایوس ہوں تھوڑا دھرتی پر آنے سے پہلے وہ اور میں ساتھ رہا کرتے تھے جنت میں لیکن اس کو صدیاں بیتیں اب اس سے میرا کیا رشتہ ویسے وہ بھی مجھ جیسا ہے میری طرح کھاتا پیتا چلتا پھرتا ہے ہم دونوں ہم شکل ہیں اتنے کچھ بھی کرے وہ چاند پہ جائے دھرتی پر جنگ کرے ...

مزید پڑھیے

تسکین انا

جب کوئی قرض صداقت کا چکانے کے لیے زہر کا درد تہ جام بھی پی لیتا ہے اپنا سر ہنس کے کٹا دیتا ہے زندگی جبر سہی جبر مسلسل ہی سہی سہتا ہے اور اس جبر کو سو رنگ عطا کرتا ہے حرف کا صوت کا صورت کا فسوں کاری کا میں اسے دیکھ کے چپکے سے کھسک جاتا ہوں یہ تو میں خود ہوں وہ احمق جس کی اپنی رسوائی ...

مزید پڑھیے

آخری لفظ پہلی آواز

کن حرفوں میں جان ہے میری کن لفظوں پر دم نکلے گا سوچ رہا ہوں ابجد ساری یاد ہے مجھ کو لیکن اس سے کیا ہوتا ہے اب تو کسی بھی حرف کا چہرہ یوں لگتا ہے جیسے وہ آواز ہو اس پہلے انساں کی جو خود کو سایوں کے جہاں میں تنہا پا کر چیخ پڑا ہو اور اس کی آواز گلے میں گھٹ کر کچھ نکلی اور اس سے پہلے کہ ...

مزید پڑھیے

ایک حزنیہ

لفظوں سے معنوں کا رشتہ پہلے شاید کچھ ہوتا تھا جب ہم تتلایا کرتے تھے اور اپنی کچی سی زباں میں دل سے دل تک جا سکتے تھے لیکن اب لفظوں سے معانی اپنا رشتہ پوچھ رہے ہیں اب ہم کو قدرت ہے زباں پر تتلانا ہم بھول چکے ہیں

مزید پڑھیے

نظام شمس و قمر کتنے دست خاک میں ہیں

نظام شمس و قمر کتنے دست خاک میں ہیں زمانے جیسے تری چشم خوابناک میں ہیں شراب‌ و شعر میں عریاں تو ہو گئے لیکن فضائے ذات کے پردے ہر ایک چاک میں ہیں شگفت لالہ و گل میں بھی سب کہاں نکھرے نہ جانے کتنے شہیدوں کے خواب خاک میں ہیں ترا وصال زمستاں کی رات ہو جیسے وہ سرد مہری کے پہلو ترے ...

مزید پڑھیے

ناز پروردۂ جہاں تم ہو

ناز پروردۂ جہاں تم ہو درد و غم ہو جہاں جہاں تم ہو یہ زمیں بھی اگر نہیں میری ہائے کیوں زیر آسماں تم ہو میں نے کی تھی شکایت دروں بے سبب مجھ سے بد گماں تم ہو میں زمانے سے خود سمجھ لیتا وقت کے میرے درمیاں تم ہو پھوٹتی ہے وہیں سے درد کی لے پردۂ ساز میں جہاں تم ہو تم کو پا کر بھی ...

مزید پڑھیے

بھیس کیا کیا نہ زمانے میں بنائے ہم نے

بھیس کیا کیا نہ زمانے میں بنائے ہم نے ایک چہرے پہ کئی چہرے لگائے ہم نے اس تمنا میں کہ اس راہ سے تو گزرے گا دیپ ہر راہ میں ہر رات جلائے ہم نے دل سے نکلی نہ خراش غم ایام کی دھوپ تیرے ناخن سے کئی چاند بنائے ہم نے دامن یار نے حق اپنا جتایا نہ کبھی اشک امڈے بھی تو پلکوں میں چھپائے ہم ...

مزید پڑھیے

تمہاری قید وفا سے جو چھوٹ جاؤں گا

تمہاری قید وفا سے جو چھوٹ جاؤں گا ازل سے لے کے ابد تک میں ٹوٹ جاؤں گا خبر نہیں ہے کسی کو بھی خستگی کی مری مجھے نہ ہاتھ لگاؤ کہ ٹوٹ جاؤں گا تمہاری میری رفاقت ہے چند قوموں تک تمہارے پاؤں کا چھالا ہوں پھوٹ جاؤں گا ہزار ناز سہی مجھ کو اپنی قسمت پر حنائے دست نگاریں ہوں چھوٹ جاؤں ...

مزید پڑھیے

غم کدے وہ جو ترے گام سے جل اٹھتے ہیں

غم کدے وہ جو ترے گام سے جل اٹھتے ہیں بت کدے وہ جو مرے نام سے جل اٹھتے ہیں رات تاریک سہی میری طرف تو دیکھو کتنے مہتاب ابھی جام سے جل اٹھتے ہیں رات کے درد کو کچھ اور بڑھانے کے لئے ہم سے کچھ سوختہ جاں شام سے جل اٹھتے ہیں میں اگر دوست نہیں سب کا تو دشمن بھی نہیں کیوں مگر لوگ مرے نام ...

مزید پڑھیے

یہ بھی شاید ترا انداز دل آرائی ہے

یہ بھی شاید ترا انداز دل آرائی ہے ہم نے ہر سانس پہ مرنے کی سزا پائی ہے کیسا پیغام کہاں سے یہ صبا لائی ہے شاخ گل صبح بہاراں ہی میں مرجھائی ہے دل کے آباد خرابے میں نہ شب ہے نہ سحر چاندنی لے کے تری یاد کہاں آئی ہے تو مرے چاک گریباں سے تو محجوب نہ ہو میں نے کب تیری محبت کی قسم کھائی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 113 سے 5858