شاعری

کھڑکی دروازہ کھولو

کھڑکی دروازہ کھولو جو بھی کہنا ہے کہہ دو آڑی ترچھی ایک لکیر دیکھو سوچو اور سمجھو پیروں کی بیڑی کھنکی سناٹو تم بھی بولو کیسی خوشیاں کیسے غم پتو ٹوٹو اور بکھرو دل بدلا شکلیں بدلیں تم بھی بدلو آئینو انسانوں کی بستی ہے اس جنگل میں کیوں ٹھہرو گزرے دنوں کو یاد نہ کر مردہ لوگوں ...

مزید پڑھیے

وجود مٹ گیا پروانوں کے سنبھلنے تک

وجود مٹ گیا پروانوں کے سنبھلنے تک دھواں ہی اٹھتا رہا شمع کے پگھلنے تک کسے نصیب ہوئی اس کے جسم کی خوشبو وہ میرے ساتھ رہا راستہ بدلنے تک اگر چراغ کی لو پر زبان رکھ دیتا زبان جلتی بھی کب تک چراغ جلنے تک جہاں بھی ٹھہرو گے رک جائے گا تمہارا وجود تمہارے ساتھ چلے گا تمہارے چلنے ...

مزید پڑھیے

واپس گھر جا ختم ہوا

واپس گھر جا ختم ہوا کھیل تماشا ختم ہوا پیچھے مڑ کر کیا دیکھو جو پیچھے تھا ختم ہوا دھیرے دھیرے درد اٹھا رفتہ رفتہ ختم ہوا تم بھی ہارے میری ہار جانے کیا کیا ختم ہوا صحرا دریا جنگل شہر لمبا رستہ ختم ہوا پیپل برگد پنگھٹ پر آنا جانا ختم ہوا کس کی یادیں کس کا نام درد کا رشتہ ختم ...

مزید پڑھیے

ہر قدم سانپوں کی آہٹ اور میں

ہر قدم سانپوں کی آہٹ اور میں آگے پیچھے سرسراہٹ اور میں اک طرف چڑھتے ہوئے دریا کی سانس اک طرف جنگل کی آہٹ اور میں گاؤں کی پگڈنڈیوں سے شہر تک چہرہ چہرہ بوکھلاہٹ اور میں ایک چہرہ روشنی سا ذہن میں بند کمرہ جگمگاہٹ اور میں سرد ماتھے پر پسینے کی تپش شمع کی لو تھرتھراہٹ اور میں اک ...

مزید پڑھیے

شدت کرب سے کراہ اٹھا

شدت کرب سے کراہ اٹھا جب اٹھا درد بے پناہ اٹھا میرے آگے چلا نہ زور طلسم میرے پیچھے غبار راہ اٹھا بے سبب رات بھر چراغ جلے میں دھواں بن کے خواہ مخواہ اٹھا دل بغاوت پہ کب تھا آمادہ سر تھا جو پیش بادشاہ اٹھا چھوڑ دے آج شرم کا دامن اے پری زاد اب نگاہ اٹھا مجھ سے قائم تھی بزم کی ...

مزید پڑھیے

یہی معمہ مرے پیش و پس پڑا ہوا ہے

یہی معمہ مرے پیش و پس پڑا ہوا ہے مرا بدن ہے کہ مٹی میں خس پڑا ہوا ہے میں ایک نقش بناتا ہوں اک نگلتا ہوں مرا ہنر پس حرص و ہوس پڑا ہوا ہے کوئی بھی پیڑ جو دیکھوں تو ایسا لگتا ہے پرندگی کے لئے اک قفس پڑا ہوا ہے خدائے ارض اسے اب تو شکل دے کوئی مرا وجود تہ خاک و خس پڑا ہوا ہے جو ہو سکے ...

مزید پڑھیے

وہ جو گفتگو میں شریک تھے بھلا کیسے مجھ سے بگڑ گئے

وہ جو گفتگو میں شریک تھے بھلا کیسے مجھ سے بگڑ گئے مری عمر بھر کے مکالمے اسی ایک بات پہ اڑ گئے وہ جو چاہتوں کے امین تھے وہ جو ہر کسی کا یقین تھے وہ جو زندگی سے حسین تھے وہی لوگ ہم سے بچھڑ گئے جنہیں آندھیوں نے کھڑا کیا جنہیں خود ہوا نے بڑا کیا بڑی خامشی سے گذشتہ شب وہی پیڑ جڑ سے اکھڑ ...

مزید پڑھیے

نظم

گھروں میں رہیے وبا بدن سے نکل کے آنکھوں تک آ گئی ہے ہوا کے تیور بدل گئے ہیں پرندے پیڑوں سے ڈر گئے ہیں ہزاروں انسان مر گئے ہیں نماز جمعہ کا سارا منظر بدل گیا ہے طواف کعبہ بھی رک گیا ہے اور ایسا لگتا ہے یہ زمیں اب کے اپنی حجت تمام کرنے میں لگ گئی ہے مرے عزیزو اب ایسے موسم میں اس وبا کا ...

مزید پڑھیے

سفر ہی آدرش کا سفر ہے

آج بھی رات سونے سے پہلے میرے بیٹے نے مجھ سے کہا میں اسے کوئی اچھی کہانی سناؤں تو میں نے اسے ایک دل کش جزیرے میں اچھے گزرتے دنوں کی کہانی سنائی جو مجھ سے مرے باپ نے یہ کہی اور اس نے وراثت میں اس داستان کو سنا ہم نے بچپن میں سر سبز و شاداب نیلے جزیرے میں پریوں پھلوں اور پھولوں چہکتی ...

مزید پڑھیے

کشمکش میں ہے مری جان بڑی مشکل ہے

کشمکش میں ہے مری جان بڑی مشکل ہے دل میں ارمانوں کا طوفان بڑی مشکل ہے ایک ٹوٹا ہوا دل یعنی شکستہ ساحل اور اٹھتے ہوئے طوفان بڑی مشکل ہے تم پہ مرتا ہوں مگر جان نہیں دے سکتا کیونکہ ہو تم ہی مری جان بڑی مشکل ہے روز آتے ہو تصور میں قیامت بن کر اور کرتے ہو پریشان بڑی مشکل ہے دل بڑی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 104 سے 5858