شاعری

یہی بہت ہے ہوا میں ابھی نشاں مرا ہے

یہی بہت ہے ہوا میں ابھی نشاں مرا ہے دیے کی لو سے یہ اٹھتا ہوا دھواں مرا ہے جو تیرے ساتھ کھڑے ہیں وہ تیرے ساتھ نہیں تجھے میں کیسے بتاؤں فلاں فلاں مرا ہے تو کند خنجر و تلوار سے ہی کاٹ مجھے مرے عدو نہ پریشاں ہو امتحاں مرا ہے میں جب بھی چاہوں اسے بازووں میں بھر لوں گا وہ شخص جتنا بھی ...

مزید پڑھیے

نشان دیکھ مرے جسم کے بتا مجھ کو

نشان دیکھ مرے جسم کے بتا مجھ کو کہاں کہاں سے ترے ہجر نے چھوا مجھ کو میں ایسے چاک سے اور خاک سے نہیں ہوں خوش نئے سرے سے مرے کوزہ گر بنا مجھ کو میں اپنے ساتھ ہوں آسودہ رہنے والا شخص تجھے میں کہتا نہیں تھا کہ چھوڑ جا مجھ کو یہ ہجرتیں تو مرا مسئلہ نہ تھا فاخرؔ مگر وہ شخص بہت دور لے ...

مزید پڑھیے

اسی لئے ہے مصیبت کا سامنا گھر کو

اسی لئے ہے مصیبت کا سامنا گھر کو دکھا رہا ہے یہ مجھ کو میں آئینہ گھر کو اک ایک جزو کا انکار کرنا پڑتا ہے میاں مذاق نہیں ہوتا چھوڑنا گھر کو مسلسل ایک سکوت اور مسلسل ایک سکوت سکھا رہا ہوں مصیبت میں بولنا گھر کو پرندے رنگ جمانے کو اب نہیں آتے کہا بھی تھا کہ مرے بعد دیکھنا گھر ...

مزید پڑھیے

ہم ہیں دراصل اک سرائے کوئی

ہم ہیں دراصل اک سرائے کوئی چھوڑ جائے تو چھوڑ جائے کوئی مالکہ تو جواب دہ ہے مجھے گھر رہے کوئی گھر بنائے کوئی یہ زمینیں سگی نہیں ہوتیں ان پرندوں کو کیا بتائے کوئی یہ مرے حافظے کی برکت ہے بھول جانے پہ یاد آئے کوئی گر کے بستر پہ روز سوچتا ہوں کاش پاؤں مرے دبائے کوئی یہ محبت نہیں ...

مزید پڑھیے

اور کچھ دن قیام کر مرے ساتھ

اور کچھ دن قیام کر مرے ساتھ میری وحشت تمام کر مرے ساتھ مجھ اکیلے سے کچھ نہیں ہوگا تو مرا انہدام کر مرے ساتھ یہ مرے سامنے سفید ہوا پیڑ کا احترام کر مرے ساتھ جیسے حق ہے تمام کرنے کا اس طرح سے تمام کر مرے ساتھ دیکھ باتوں کا بھوکا شخص ہوں میں چپ نہ کر بس کلام کر مرے ساتھ

مزید پڑھیے

کام دریا سے اور لوں گا میں

کام دریا سے اور لوں گا میں اس سے پانی نہیں بھروں گا میں تب مرا اصل دیکھنے آنا راکھ سے جس سمے اٹھوں گا میں چاک کو بھی خبر نہیں اس کی تیرے ہاتھوں سے کیا بنوں گا میں جب مجھے دنیا دیکھنی ہوگی تیری آنکھوں میں جھانک لوں گا میں گھر بناتے ہوئے نہ سوچا تھا گھر زیادہ نہیں رہوں گا میں تو ...

مزید پڑھیے

یہ کیسے خوف ہمیں آج پھر ستانے لگے

یہ کیسے خوف ہمیں آج پھر ستانے لگے ہمارے پاس رہو تم کہ دل ٹھکانے لگے غبار شہر سے باہر تری رفاقت میں سکوت شام کے لمحے بڑے سہانے لگے کبھی جو لوٹ کے آئے کسی مسافت سے تو اپنے شہر کے منظر وہی پرانے لگے سزا کے خوف سے کیوں اس قدر لرزتا ہے کر ایسا جرم کہ رحمت بھی مسکرانے لگے یہ کائنات ...

مزید پڑھیے

جو مال اس نے سمیٹا تھا وہ بھی سارا گیا

جو مال اس نے سمیٹا تھا وہ بھی سارا گیا وہ خواہشوں کے تصادم میں آج مارا گیا خمار عشق کی غارت گری ہے دونوں طرف ہماری عمر گئی اور سکوں تمہارا گیا بپھرتی موج کے آگے یہ کس کو یاد رہا کہاں پہ ناؤ گئی اور کہاں کنارا گیا بس ایک جان بچی ہے چلو نثار کریں سنا ہے نام ہمارا ہی پھر پکارا ...

مزید پڑھیے

جیسے کہ اک فریم ہو تصویر کے بغیر

جیسے کہ اک فریم ہو تصویر کے بغیر ہم خواب دیکھتے رہے تعبیر کے بغیر لازم نہیں کہ پیار میں رشتہ ہو جسم کا خوشبو ہے ساتھ پھول کے زنجیر کے بغیر کوشش تو کر کے دیکھنا تقدیر کچھ بھی ہو مت ہار ماننا کبھی تدبیر کے بغیر ملکوں کی فکر چھوڑ کے قبضہ دلوں پہ کر مل جائے گا جہان یہ تسخیر کے ...

مزید پڑھیے

بادباں شخص پھر پکارے تجھے

بادباں شخص پھر پکارے تجھے کشتیوں سے بندھے کنارے تجھے ایک عرصے سے گھر سے باہر شخص کیا بتائے گا گھر کے بارے تجھے کس کی جرأت تھی ورنہ فتح کرے اپنی مرضی سے ہم ہیں ہارے تجھے تو ہے مشروط اس محبت میں ناز اٹھانے ہیں اب ہمارے تجھے

مزید پڑھیے
صفحہ 105 سے 5858