تلاش
مجھے ہو ڈھونڈھنا گر تو نئے رستوں میں ڈھونڈو گے نئی سوچوں میں پاؤ گے نئے رشتوں میں ڈھونڈو گے بنا ہے بادلوں میں جو مرا گھر ہے مرا در ہے مجھے ملنے کی چاہت ہے تو پھر اونچے ہمالہ کی بلندی سے نہ گھبراؤ چلے آؤ وگرنہ اے مرے سائل پلٹ جاؤ تو بہتر ہے
مجھے ہو ڈھونڈھنا گر تو نئے رستوں میں ڈھونڈو گے نئی سوچوں میں پاؤ گے نئے رشتوں میں ڈھونڈو گے بنا ہے بادلوں میں جو مرا گھر ہے مرا در ہے مجھے ملنے کی چاہت ہے تو پھر اونچے ہمالہ کی بلندی سے نہ گھبراؤ چلے آؤ وگرنہ اے مرے سائل پلٹ جاؤ تو بہتر ہے
میں نے رومیؔ سے کہا مجھ کو بتا رینگتا کیڑا ہوں کہ شہباز دوست میں ہوں محروم سماعت آج تک آج تک ہوں شاکیٔ اغراض دوست مجھ پہ نازل نہ ہوئی کوئی کتاب کیوں نہ تھی میں لائق اعزاز دوست ہنس کے رومیؔ نے کہا نادان سن آ کروں تجھ پہ عیاں میں راز دوست اس کی منظوری ترا قلب سلیم یہ پرندہ اور تو ...
ہائے آیا نہیں اس در سے بلاوا میرا اب ہے اغیار کے ہاتھوں میں مداوا میرا دست اغیار میں ہر جرم کماں ہو جائے تیر دشنام مری سمت رواں ہو جائے زخم ماتھے پہ لگے گر تو کوئی فکر نہیں شکوۂ دوست کسی طور بیاں ہو جائے مرے شفاف لبادے پہ سیاہی مل دو مجھے گمنامی کی دلدل سے بچا لو لوگو میرے نہ ...
یہ رنگ تیرا یہ رنگ میرا حسین تر ہے حسیں رہے گا زمیں کی برکت یہ گندمی رنگ سنہری خوشیوں کی رت کی مانند جواں رہے گا اسے بنانا سنوارنا ہے تو اس کی خدمت کرو گے آخر کہ خدمتوں سے یہ رنگ اپنا زمیں کی مانند سدا رہے گا جواں رہے گا تجھے خبر ہے
خزاں کے جاتے ہی رت کا پانسہ پلٹ گیا ہے بہار کی خوشبوؤں سے گلشن کا ذرہ ذرہ مہک رہا ہے زمیں کی رنگت بدل گئی ہے کبھی تغیر جو موسموں کا نرالے گیتوں کے ساتھ آیا تو زندگی کی عزیز تر ساعتوں کے مالک بھڑک اٹھے تھے پلک پلک پر کئی کہے ان کہے فسانے مچل گئے تھے تو قند گفتار میں بھی تلخی رچی ...
دکھ بچھڑنے کا نہیں ہوتا بلکہ ان رشتوں کے ٹوٹنے کا ہوتا ہے جو برسوں کی رفاقت کے بعد اک پل میں ٹوٹ جاتے ہیں اور ہم تہی داماں رہ جاتے ہیں
آپ کے ہاتھوں نے سمجھا مار کے قابل مجھے میں نگوڑی تو یہ سمجھی مل گئی منزل مجھے مجھ کو نامنظور ہے آپ کا یہ فیصلہ توڑ دی میری کمر اے بندہ پرور آپ نے اپنی بھیڑوں بکریوں میں کر لیا شامل مجھے آپ کے ہاتھوں نے سمجھا مار کے قابل مجھے سامنے سارے جہاں کے کر دیا گھائل مجھے آپ کے ہاتھوں نے ...
خبر وحشت اثر تھی اسے ایسے لگا جیسے زمیں پاؤں کے نیچے سے سرکتی جا رہی ہے طبق ساتوں کے ساتوں آسماں کے اس کے سر پر آ گرے ہیں اک دھماکے سے نظر کے سامنے حد نظر تک ایک کالی دھند کے منظر شکن پردے زمیں سے آسماں تک تن گئے ہیں ہوا کے پاؤں میں من من کی زنجیریں پڑی ہیں ادھر دل کو ٹٹولا تو لگا ...
ہمارے ذہن کی اس عرش پیمائی کے کیا کہنے ہم اپنے ذہن کے بارے میں جب بھی سوچتے ہیں مگر یہ بھی تو سوچو ذہن کے بارے میں کس سے سوچتے ہیں کیا ہمارا ذہن ہی فاعل بھی ہے اور منفعل بھی ہم کو یہ محسوس ہوتا ہے ہم اپنے آپ سے کتنے زیادہ ہیں
(۱) مری خلوت کے ہالے میں تمہارا یہ طلسماتی بدن اک نور میں ڈوبا ہوا بہتا ہوا دھارا یہ مدھ ماتا یہ خود کو سر بسر بھولا ہوا بے حد نرالا ان چھوا سایا ہوا کے نرم سوئے سوئے لہجے کی طرح مس ہو کے میری روح میں آتش کا بھڑکاتا ہوا سایا یہ سایا روشنی ہی روشنی ہے سر سے پاؤں تک یہ سایا زندگی ہی ...