کاروان حیات
یہ کون کہتا ہے انساں کا کاروان حیات پلٹ کے آنے کو ہے بے گناہی کی جانب وہی گناہ وہی معصیت وہی بدبو وہی ہے درد وہی کروٹیں وہی پہلو وہی فساد وہی شر ہی تمرد ہے دماغ و دل پہ مسلط وہی تشدد ہے یہ کون کہتا ہے انساں کا کاروان حیات پلٹ کے آنے کو ہے بے گناہی کی جانب میں دیکھتا ہوں کہ انساں ...