شاعری

کاروان حیات

یہ کون کہتا ہے انساں کا کاروان حیات پلٹ کے آنے کو ہے بے گناہی کی جانب وہی گناہ وہی معصیت وہی بدبو وہی ہے درد وہی کروٹیں وہی پہلو وہی فساد وہی شر ہی تمرد ہے دماغ و دل پہ مسلط وہی تشدد ہے یہ کون کہتا ہے انساں کا کاروان حیات پلٹ کے آنے کو ہے بے گناہی کی جانب میں دیکھتا ہوں کہ انساں ...

مزید پڑھیے

پیچ و تاب

پھر تصور کھا رہا ہے پیچ و تاب پھر وہی ہیجان و حرکت کرب و درد و اضطراب پھر وہی دھندلے نقوش ماہ و سال پھر وہی صبح بہاراں پھر وہی شام وصال پھر وہی بیتے ہوئے لمحوں کی یاد پھر وہی موجیں وہی کشتی وہی باد مراد پھر وہی رقص شرار زندگی پھر وہی حسن لطافت ریز کی تابندگی پھر وہی وعدوں پہ ...

مزید پڑھیے

ایک تھا ملا نصرالدین

ایک تھا ملا نصرالدین کرتا تھا باتیں نمکین کام تھا اس کا احمق بننا سیدھی بات کو الٹا کرنا کھانے پینے کا شوقین ایک تھا ملا نصرالدین اس سے ہیں منسوب لطیفے مزے مزے کے ڈھیروں قصے خوشیوں کی تھا ایک مشین ایک تھا ملا نصرالدین ایک گدھا تھا اس کے پاس ایک گدھی تھی جس کی ساس اور بچے تھے اس کے ...

مزید پڑھیے

آشوب آگہی

کوئی بتلائے مجھے میرے ان جاگتے خوابوں کا مقدر کیا ہے؟ میں کہ ہر شے کی بقا جانتا ہوں اڑتے لمحوں کا پتا جانتا ہوں سرد اور زرد ستاروں کی تگاپو کیا ہے رنگ کیا چیز ہے خوشبو کیا ہے صبح کا سحر ہے کیا، رات کا جادو کیا ہے اور کیا چیز ہے آواز صبا جانتا ہوں ریت اور نقش قدم موج کا رم آنکھ اور ...

مزید پڑھیے

ایک کمرۂ امتحان میں

بے نگاہ آنکھوں سے دیکھتے ہیں پرچے کو بے خیال ہاتھوں سے ان بنے سے لفظوں پر انگلیاں گھماتے ہیں یا سوال نامے کو دیکھتے ہی جاتے ہیں سوچتے نہیں اتنا جتنا سر کھجاتے ہیں ہر طرف کنکھیوں سے بچ بچا کے تکتے ہیں دوسروں کے پرچوں کو رہنما سمجھتے ہیں شاید اس طرح کوئی راستہ ہی مل جائے بے نشاں ...

مزید پڑھیے

چمکو چمکو پیارے تارو

چمکو چمکو پیارے تارو رنگوں اور امیدوں والے آنکھوں میں پھر خواب اتارو چمکو چمکو پیارے تارو رات بہت ہے کالی کالی گلیاں ہیں سب خالی خالی ہوا چلے تو ڈر لگتا ہے سونا سونا گھر لگتا ہے روشن سارے منظر کر دو دنیا کو خوشیوں سے بھر دو چمکو چمکو پیارے تارو چپکے سے کھڑکی میں آؤ اچھے اچھے گیت ...

مزید پڑھیے

خود سپردگی

رات بھیگے تو پرانے قصے پئے ترتیب کوئی اور سہارا ڈھونڈیں چاندنی نیند کا پھیلا ہوا جادو لے کر دل کے بے خواب نگر میں اترے اور ہوا دھوپ سے بولائی ہوئی سڑکوں پر لوریاں گاتی نکلے اوس ہر پھول کے دامن میں ستارے بھر دے لیکن اس خواب خیالی کا نتیجہ کیا ہے رات کی گود مرے درد کی منزل تو ...

مزید پڑھیے

اماں مجھ کو بستہ دے دے

اماں مجھ کو بستہ دے دے دنیا مجھ کو رستہ دے دے جانا ہے اسکول مجھے تو جانا ہے اسکول جان سکوں کہ اچھا کیا ہے کھرا ہے کیوں کر کھوٹا کیا ہے حق اور فرض میں فرق ہے کتنا سچ اور جھوٹ کا جھگڑا کیا ہے اماں مجھ کو بستہ دے دے دنیا مجھ کو رستہ دے دے جانا ہے اسکول مجھے تو جانا ہے اسکول آگ ہوا ...

مزید پڑھیے

وہ ابھی اپنے چہرے میں اترا نہیں

کس سے پوچھوں وہ کیا شخص ہے جو مری آرزو کے جھروکوں میں ٹھہرے ہوئے سارے چہروں میں بکھرا ہوا ہے مگر خود ابھی اپنے چہرے میں اترا نہیں کس سے پوچھوں وہ کیا نام ہے جو مری دھڑکنوں کے مقدر میں مرقوم ہے اور وہ کیا اجنبی ہے جو صدیوں سے میرے خیالوں کے قریے میں آباد ہے مگر میرا صورت شناسا ...

مزید پڑھیے

آواز کے پتھر

کون آئے گا! شب بھر گرتے پتوں کی آوازیں مجھ سے کہتی ہیں کون آئے گا! کس کی آہٹ پر مٹی کے کان لگے ہیں! خوشبو کس کو ڈھونڈ رہی ہے! شبنم کا آشوب سمجھ اور دیکھ کہ ان پھولوں کی آنکھیں کس کا رستہ دیکھ رہی ہیں کس کی خاطر قریہ قریہ جاگ رہا ہے سونا رستہ گونج رہا ہے کس کی خاطر!! تنہائی کے ہول نگر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 826 سے 960