شاعری

اے وقت ذرا تھم جا

اک خواب کی آہٹ سے یوں گونج اٹھیں گلیاں امبر پہ کھلے تارے باغوں میں ہنسیں کلیاں ساگر کی خموشی میں اک موج نے کروٹ لی اور چاند جھکا اس پر پھر بام ہوئے روشن کھڑکی کے کواڑوں پر سایہ سا کوئی لرزا اور تیز ہوئی دھڑکن پھر ٹوٹ گئی چوڑی، اجڑنے لگے منظر اک دست حنائی کی دستک سے کھلا دل میں اک ...

مزید پڑھیے

اے دل بے خبر

اے دل بے خبر جو ہوا جا چکی اب نہیں آئے گی جو شجر ٹوٹ جاتا ہے پھلتا نہیں واپسی موسموں کا مقدر تو ہے جو سماں بیت جائے پلٹتا نہیں جانے والے نہیں لوٹتے عمر بھر اب کسے ڈھونڈھتا ہے سر رہ گزر اے دل کم نظر اے مرے بے خبر اے مرے ہم سفر وہ تو خوشبو تھا اگلے نگر جا چکا چاندنی تھا ہوا صرف رنگ ...

مزید پڑھیے

شکست انا

آج کی رات بہت سرد بہت کالی ہے تیرگی ایسے لپٹتی ہے ہوائے غم سے اپنے بچھڑے ہوئے ساجن سے ملی ہے جیسے مشعل خواب کچھ اس طور بجھی ہے جیسے درد نے جاگتی آنکھوں کی چمک کھا لی ہے شوق کا نام نہ خواہش کا نشاں ہے کوئی برف کی سل نے مرے دل کی جگہ پا لی ہے اب دھندلکے بھی نہیں زینت چشم بے خواب آس کا ...

مزید پڑھیے

بزدل

ہجوم سنگ انا اور ضبط پیہم نے مثال ریگ رواں بے قرار رکھا ہے مرے وجود کی وحشت نے رات بھر مجھ کو غبار قافلۂ انتظار رکھا ہے بہ پیش خدمت چشم سراب آلودہ ہوا نے دست طلب بار بار رکھا ہے میں تیری یاد کے جادو میں تھا سحر مجھ کو نجانے کون سی منزل پہ لا کے چھوڑ گئی کہ سانس سانس میں تیرے بدن ...

مزید پڑھیے

ہم زاد

کچھ کیا جائے نہ سوچا جائے مڑ کے دیکھوں تو نہ دیکھا جائے میری تنہائی کی وحشت سے ہراساں ہو کر میرا سایہ میرے قدموں میں سمٹ آیا ہے کون ہے پھر جو مرے ساتھ چلا آتا ہے میرا سایہ تو نہیں!! کس کی آہٹ کا گماں یوں مرے پاؤں کی زنجیر بنا جاتا ہے دور تا حد نظر شہر کے آثار نہیں اور دشمن کی طرح شام ...

مزید پڑھیے

ذرا سی بات

زندگی کے میلے میں خواہشوں کے ریلے میں تم سے کیا کہیں جاناں اس قدر جھمیلے میں وقت کی روانی ہے بخت کی گرانی ہے سخت بے زمینی ہے سخت لا مکانی ہے ہجر کے سمندر میں تخت اور تختے کی ایک ہی کہانی ہے تم کو جو سنانی ہے بات گو ذرا سی ہے بات عمر بھر کی ہے عمر بھر کی باتیں کب دو گھڑی میں ہوتی ...

مزید پڑھیے

دیکھو میری باربی ڈال

دیکھو میری باربی ڈال دیکھو میری باربی ڈال نیلی نیلی آنکھیں اس کی خوب سنہرے بال دیکھو میری باربی ڈال کپڑے اس کے رنگ رنگیلے اجلے اجلے اور چمکیلے آنکھوں کو مٹکاتی ہے یہ بالوں کو لہراتی ہے یہ اچھے اچھے پیارے پیارے کیا کیا گیت سناتی ہے یہ دنیا بھر کی گڑیاؤں میں اس کی نہیں مثال دیکھو ...

مزید پڑھیے

مجھے اپنے جینے کا حق چاہیے

مجھے اپنے جینے کا حق چاہیے زمیں جس پہ میرے قدم ٹک سکیں اور تاروں بھرا کچھ فلک چاہیے مجھے اپنے جینے کا حق چاہیے نعمتیں جو میرے رب نے دھرتی کو دیں صاف پانی ہوا بارشیں چاندنی یہ تو ہر ابن آدم کی جاگیر ہیں یہ ہماری تمہاری کسی کی نہیں مجھ کو تعلیم صحت اور امید کی سات رنگوں بھری اک دھنک ...

مزید پڑھیے

آخری بوسہ

مرے ہونٹوں پہ اس کے آخری بوسے کی لذت ثبت ہے وہ اس کا آخری بوسہ جو مستقبل کے ہر اک خوف سے آزاد اک روشن ستارا تھا گزرتی رات کے ننگے بدن پر تل کی صورت قائم و دائم ہمیشہ جاگنے والا ستارا میں جسے اس آگ برساتے ہوئے سورج کے آگے جگمگاتا دیکھ سکتا ہوں وہ اس کا آخری بوسہ جو اس نفرت بھری دنیا ...

مزید پڑھیے

تجدید

اب مرے شانے سے لگ کر کس لیے روتی ہو تم یاد ہے تم نے کہا تھا ''جب نگاہوں میں چمک ہو لفظ جذبوں کے اثر سے کانپتے ہوں اور تنفس اس طرح الجھیں کہ جسموں کی تھکن خوشبو بنے تو وہ گھڑی عہد وفا کی ساعت نایاب ہے وہ جو چپکے سے بچھڑ جاتے ہیں لمحے ہیں مسافت جن کی خاطر پاؤں پر پہرے بٹھاتی ہے نگاہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 827 سے 960