اے وقت ذرا تھم جا
اک خواب کی آہٹ سے یوں گونج اٹھیں گلیاں امبر پہ کھلے تارے باغوں میں ہنسیں کلیاں ساگر کی خموشی میں اک موج نے کروٹ لی اور چاند جھکا اس پر پھر بام ہوئے روشن کھڑکی کے کواڑوں پر سایہ سا کوئی لرزا اور تیز ہوئی دھڑکن پھر ٹوٹ گئی چوڑی، اجڑنے لگے منظر اک دست حنائی کی دستک سے کھلا دل میں اک ...