شاعری

حساب جاں!!

اے میرے صفر صفر صفر۔۔۔۔۔! دائیں نہیں بائیں لیٹو نفی اثبات کے اس وصال میں تمہاری اکائی تو میں ہوں! کہو۔۔ میں تمہیں کون سی رفاقت سے ضرب دوں کہ میری روح اور بدن پر رواں رواں پورے آ جاؤ تمہیں کون سے ہندسے پر تقسیم کروں؟ کہ تنہائی جس کے مساوی نہ آئے! نفی اثبات کے اس وصال میں اس سے پہلے ...

مزید پڑھیے

خودکشی کا المیہ

موٹر کے پہیے بجلی کے کھمبے پہ چند چھینٹے کچھ چکنی سڑک پہ دور تک اک سرخ سی لکیر فٹ پاتھ پہ کچھ جا بجا دھبے سیاہ و سرخ نالی کے گدلے پانی کے سینے پہ چند داغ باؤنڈری وال پر بھی کچھ اسپاٹ کھردرے چہروں پہ راہگیروں کے ناخوش گوار نقش ماحول میں اک لمحہ کو بے نام سا تناؤ آنکھیں مری ابل پڑیں ...

مزید پڑھیے

افکار پریشاں

یہ عروج دولت قیصری یہ شکوہ تاج سکندری کہ یہاں تو خون غریب سے ہے تپش میں نبض تونگری وہی خواجگی وہی خسروی وہی رنگ و نسل کی برتری یہی ہے تمدن مغربی کوئی مجھ سے سن لے کھری کھری جو ہے طرز بادہ کشاں یہی جو ہے میکدے کا سماں یہی خم و شیشہ میں مئے لالہ گوں یوں ہی سڑ رہے گی دھری دھری یہ ...

مزید پڑھیے

زندگی

دنیا میں تجھ کو ہے اگر ارمان زندگی تدبیر سے تو باندھ لے پیمان زندگی تاب و تب عمل خلش کوشش دوام ان سے بہم پہنچتا ہے سامان زندگی کر لے رفو تو جوشش کردار سے اسے کیوں کر رہا ہے چاک گریبان زندگی جس زندگی میں جوش خودی کا نہ ہو خیال وہ زندگی نہیں کبھی شایان زندگی کر نوح بن کے اس کا تو ...

مزید پڑھیے

تم اگر چاہو تو

اس سے پہلے کہ شب ماہ کے ٹھنڈے سائے گرمیٔ صبح درخشاں سے پگھل کر رہ جائیں اس سے پہلے کہ ستاروں پہ اجالوں کی گھٹا چھا جائے اس سے پہلے کہ یہ شبنم کے گہر ہائے لطیف نذر خورشید زر افشاں ہو جائیں اس سے پہلے کہ چراغوں کے چمکتے موتی صدف نور سحر میں کھو جائیں اس سے پہلے کہ شب ہجر کا آزار ہو ...

مزید پڑھیے

اٹھ

اٹھ کہ خورشید آسماں پر جلوہ افشاں ہو گیا اٹھ کہ گویا تیری بیداری کا ساماں ہو گیا اٹھ کہ پہنچا چاہتے ہیں غیر منزل کے قریب تو بدلتا ہے ابھی تک کروٹیں اے بد نصیب اٹھ کہ جد و جہد سے ہو تیری ہستی کامیاب خواب آخر خواب ہے کب تک رہے گا محو خواب اٹھ کہ دنیا کو ترے ذوق طلب سے کام ہے زندگی ...

مزید پڑھیے

وہ نہیں آئے

چھٹ گئی ظلمت کٹ گئی رات پھٹ گئی پو گم ہوئے تارے کھو گیا شبنم دھل گئے باغ کھل گئیں کلیاں ہنس دئیے پھول اڑ گئے پنچھی جاگ اٹھی خلق ہو گئی صبح چڑھ گیا سورج بڑھ گئے سائے وہ نہیں آئے وہ نہیں آئے

مزید پڑھیے

روشنی کم ہے

روشنی کم ہے نہ کر اس کی شکایت ہمدم روشنی کم ہی رہے تو اچھا شادمانی و خوشی کے ہم راہ اک نہ اک غم بھی رہے تو اچھا دشت و صحرا ہو کہ باغ دبستاں سطح دریا ہو کہ چٹیل میدان رات ہر چیز پہ ہے سایہ نشاں روشنی کم ہے اندھیرا ہی زیادہ ہے یہاں شاہراہوں کے نظاروں پہ نہ جا قمقموں کی نظر افروز ...

مزید پڑھیے

تبسم

چمک ہیرے سے بڑھ کر اے تبسم تجھ میں پنہاں ہے انہیں ہونٹوں پہ ضو بکھرا تو جن ہونٹوں کو شایاں ہے مثال برق تو گرتا ہے جان ناشکیبا پر گری تھی جس طرح بجلی کلیم طور سینا پر نہ ہوگا لعل کوئی تیری قیمت کا بدخشاں میں تو ہی اک مصرع برجستہ ہے قدرت کے دیواں میں جہاں کی دولتوں میں کوئی بھی دولت ...

مزید پڑھیے

شکست جام

گر گیا یہ دودھ کا پیمانہ میرے ہاتھ سے ہو گئی اک لغزش مستانہ میرے ہاتھ سے یوں زمیں پر جا گرا ہاتھوں سے میرے چھوٹ کر گر پڑے گردوں سے جیسے کوئی تارا ٹوٹ کر غش اسے آیا کچھ ایسا کھا کے چکر گر پڑا ہاتھ سے مے خوار کے کیوں آج ساغر گر پڑا شاخ گل سے فرش پر بلبل تڑپ کر گر گئی یہ گرا نیچے کہ مجھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 825 سے 960