شاعری

نٹ کھٹ پتلی

پتلی میں شرمندہ ہوں میں نے تیرے بخیے ٹانکے عجلت میں تیرے دھاگے میں نے کس کر باندھے تھے تیرے چہرے پر مسکان سجائی اور تجھے اپنی پوروں پر چلوایا جب چاہا میں نے جلدی کی اور اتنی جلدی کی جتنی شاید تیرے بس کا روگ نہ تھا لیکن اب شرمندہ ہوں جن ہاتھوں سے لاکھ تماشے کر بیٹھا لرزے لرزے جاتے ...

مزید پڑھیے

محبت لفظ تھا میرا

میں اس شہر خرابی میں فقیروں کی طرح در در پھرا برسوں اسے گلیوں میں سڑکوں پر گھروں کی سرد دیواروں کے پیچھے ڈھونڈھتا تنہا کہ وہ مل جائے تو تحفہ اسے دوں اپنی چاہت کا تمنا میری بر آئی کہ اک دن ایک دروازہ کھلا اور میں نے دیکھا وہ شناسا چاند سا چہرہ جو شادابی میں گلشن تھا میں اک شان ...

مزید پڑھیے

اسے کہنا

اسے کہنا دسمبر آ گیا ہے دسمبر کے گزرتے ہی برس اک اور ماضی کی گپھا میں ڈوب جائے گا اسے کہنا دسمبر لوٹ آئے گا مگر جو خون سو جائے گا جسموں میں نہ جائے گا اسے کہنا ہوائیں سرد ہیں اور زندگی کے کہرے دیواروں میں لرزاں ہیں اسے کہنا شگوفے ٹہنیوں میں سو رہے ہیں اور ان پر برف کی چادر بچھی ...

مزید پڑھیے

رائیگاں آزادیوں کے بے ثمر انچاس سال

میں سفر میں ہوں لئے کاندھوں پہ اپنی رائیگاں آزادیوں کے بے ثمر انچاس سال سانس جب تک ساتھ ہے میں خواہشوں کا جگمگاتا ہاتھ تھامے تیری ہم راہی میں ہوں خواہشیں ایک شامیانہ ہیں لرزتی آخری ہچکی کے اور کچھ مانگتی پہلی صدا کے درمیاں جس کے سائے میں گزرتے وقت کے وقت کے چلتے ہوئے لمحوں کو ...

مزید پڑھیے

باز گشت

میں تیری بستی سے بھاگ کر دور اک خرابے میں آ گیا ہوں یہ وہ خرابہ ہے جس میں ہستی کی روشنی کا گزر نہیں ہے یہاں نہ تو ہے نہ رنگ و بو ہے نہ زندگی ہے یہاں ہے وہ عالم خموشی کہ دل کی دھڑکن بھی بے صدا ہے کہ میری تنہائیوں کے دامن‌ افق کے دامن سے جا ملے ہیں ترے نگر کے حسین کوچے شفیق گلیاں جو ...

مزید پڑھیے

نارسائی

نزہت شام نے جب رخت سفر باندھ لیا درد نے روح کو بیداری کا پیغام دیا آہ ناسور وفا گھر سے ہم عشرت آزاد کے شیدا نکلے ہو کے جاں سوزی تنہائی سے پسپا نکلے لے کر اپنے دل بیمار کو تنہا نکلے سوچ رکھا تھا کہ اب یوں اسے بہلائیں گے رقص میں مے میں کسی ساز میں کھو جائیں گے ہوش سے آج تو محروم سے ہو ...

مزید پڑھیے

پتھر کے اس بت کی کہانی

سفر میرا اگرچہ منزل اور انجام کی خوشیوں سے عاری تھا مگر چلنا مقدر تھا کہ میرے اور اس کے درمیاں جو مختصر سا فاصلہ تھا وہ نہ مٹتا تھا مجھے اس کے تعاقب میں نہ جانے کتنے صدیوں سے برس بیتے نہ جانے کتنے صحراؤں بیابانوں نہ جانے کتنے شہروں اور ویرانوں سے میں گزرا نہ جانے کتنی آوازوں نے ...

مزید پڑھیے

اپنی مٹی کی خوشبو

میں جب بستی کی سرحد پر کھڑا ہو کر افق میں ڈوبتی راہوں کو تکتا تھا تو وہ رو رو کے کہتی تھی مجھے ڈر ہے تجھے یہ نا ترس راہیں نہ کر ڈالیں جدا مجھ سے میں اپنی نیم ترساں انگلیوں سے اس کے آنسو پونچھ کر کہتا تھا اب کیسا جدا ہونا مگر میں دل میں ڈرتا تھا کہ ان راہوں سے واقف تھا انہی راہوں پہ ...

مزید پڑھیے

آسیب

تری رہ گزر کو میں یوں چھوڑ آیا کہ اک بے نوا کی تباہی کا تجھ پر نہ الزام آئے میں سمجھا تھا یوں شہر کی رونقوں میں الجھ کر تری بے نیازی کے آسیب سے بچ رہوں گا مگر جب کبھی میں سر شام کیفے میں پہنچا تو دیکھا کہ تو حال کے ایک کونے میں اک میز پر سر جھکائے نہ جانے کسے نامۂ مشکبو لکھ رہا ...

مزید پڑھیے

اس نے مجھے کیوں روکنا چاہا

مجھے اس سے تعلق تھا تو بس اتنا کہ میری چند سانسیں کھو گئی تھیں اس کی بستی میں مگر میں نے اسے اپنی محبت کا امیں جانا نہ اس نے ہی کبھی گلیوں میں چھپ چھپ کر مجھے دیکھا کبھی ہم راہ میں اک دوسرے کے سامنے آئے تو یوں جیسے کسی خاموش اسٹیشن پہ دو سادہ مسافر ریل کی آمد پر اک دم چونک کر اک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 806 سے 960