مرغ مرحوم
اے مرے مرغے مرے سرمایۂ تسکین جاں تیری فرقت میں ہے بے رونق مرا سارا مکاں کون دے گا رات کے بارہ بجے اٹھ کر اذاں تیری فرقت میں یہ دل تڑپا جگر نے آہ کی کھا گئی تجھ کو نظر شاید کسی بد خواہ کی تجھ کو لایا تھا کراچی سے کہ پالوں گا تجھے مشرقی آداب کے سانچے میں ڈھالوں گا تجھے مفت خوروں کی ...