شاعری

مرغ مرحوم

اے مرے مرغے مرے سرمایۂ تسکین جاں تیری فرقت میں ہے بے رونق مرا سارا مکاں کون دے گا رات کے بارہ بجے اٹھ کر اذاں تیری فرقت میں یہ دل تڑپا جگر نے آہ کی کھا گئی تجھ کو نظر شاید کسی بد خواہ کی تجھ کو لایا تھا کراچی سے کہ پالوں گا تجھے مشرقی آداب کے سانچے میں ڈھالوں گا تجھے مفت خوروں کی ...

مزید پڑھیے

شوہر کی فریاد

اے مری بیگم نہ تو میری خودی کمزور کر یہ شریفوں کا محلہ ہے نہ اتنا شور کر شب کے پر تسکین لمحوں میں نہ مجھ کو بور کر اس سعادت مند شوہر کو نہ یوں اگنور کر دیدہ و دل تیری چاہت کے لیے بیتاب ہیں مجھ سے شوہر آج کل بازار میں نایاب ہیں میرے آنے پر ہے پابندی کبھی جانے پہ ہے ہے کبھی پینے پہ ...

مزید پڑھیے

مغل کی کار

الگ دنیا کی کاروں سے مغل کی کار ہے پیارے سنا ہے پچھلے دس سالوں سے یہ بیمار ہے پیارے زمانے کے لئے عبرت کا اک شہکار ہے پیارے مغل کے واسطے اک مستقل آزار ہے پیارے کسی بھی کار سے زنہار چال اس کی نہیں ملتی یہ وہ شے ہے کہ دنیا میں مثال اس کی نہیں ملتی کئی فرلانگ تک دھکا لگاتے ہیں تو چلتی ...

مزید پڑھیے

میں شاعر ہوں

میں شاعر ہوں مجھے اہل ہنر فن کار کہتے ہیں مجھے رمز آشنائے نکہت گلزار کہتے ہیں خلوص و انس کا مجھ کو علمبردار کہتے ہیں جو باقی ہیں مجھے اک بندۂ بیکار کہتے ہیں زبوں حالی کی زد میں ہے بیاں میرا زباں میری نہیں منت کش تاب شنیدن داستان میری جسے دیکھو وہی میری حقیقت سے ہے بیگانہ کوئی بے ...

مزید پڑھیے

مشورہ

آتش بے سود میں مت کود ہو کر بے خطر مت گنوا یوں مفت میں آزادئ قلب و جگر جب تری قسمت میں بنگلہ ہے نہ گاڑی ہے نہ زر خانہ آبادی کا پھر یہ کیوں تردد اس قدر آرزو تیری بجا میری نصیحت ہے مگر اے مرے ہمدم خدا کے واسطے شادی نہ کر تیرے رشتے دار بھی ہیں اب ترے بد خواہ دیکھ کر رہے ہیں جو تجھے صبح ...

مزید پڑھیے

ایک ایکسپریس ٹرین

اذیت ناک اس گاڑی کا انداز روانی ہے بڑی دل دوز اس کے ہر مسافر کی کہانی ہے سفر کی ہر صعوبت اک بلائے ناگہانی ہے نہ روٹی ہے نہ سالن ہے نہ چائے ہے نہ پانی ہے یہ ڈیزل کی بجائے ہر قدم پر جان کھاتی ہے جوانی آدمی کی راستے میں بیت جاتی ہے یہاں گل خان جتنے ہیں وہ سب پرجوش بیٹھے ہیں مگر پنجاب ...

مزید پڑھیے

بگڑا ٹی وی

مرے نزدیک کے گھر میں ہے اک ٹی وی عجب آیا اسے جانے کہاں سے میرا ہمسایہ اٹھا لایا شب اول ہی ظالم نے کچھ ایسا سحر فرمایا کہ جس نے بھی اسے دیکھا وہی گھبرا کے چلایا یہاں اک پل نہ ٹھہرو بھاگنے میں عافیت جانو جو دیکھو گے تو مٹ جاؤ گے اے غافل مسلمانو یہ اپنی کیبنٹ جتنی بھی ہے رنگین رکھتا ...

مزید پڑھیے

اندھیرا ہی اندھیرا ہے

خواب عدم عالم خاموش ہے اس تیرگی کو چیرتی سکوت کو چھیڑتی بڑھ رہی ہے ریل میں خواب میں ہوں اور سب سو رہے ہیں کھڑا ہوں دروازے پہ کب سے نہ جانے کب سے کہیں دور دکھتی ہے کچھ روشنی کچھ عمارتیں کوئی بیداری کا آثار ٹمٹماتا ہے ایک جگنو کی مانند کتنی تیز جا رہی ہے ریل جو ہے ہی نہیں چھوٹ ...

مزید پڑھیے

آپ کے نام

تری چشم خنداں ترا یہ تبسم فلک سے تکے ہیں سبھی ماہ و انجم بہاروں کے موسم تمہیں ڈھونڈتے ہیں تمہیں چاہتے ہیں تمہیں پوجتے ہیں تمہیں دیکھ کر یہ ہوا جھومتی ہے زمیں ناچتی ہے قدم چومتی ہے بتاؤں میں کیسے کہ کتنی حسیں ہو نہیں آفریں وہ جو تم سا نہیں ہو اگر چار ہی لفظ کہنے ہوں مجھ کو مری ...

مزید پڑھیے

مجاز کی یاد میں

میری سب مجبوریاں کہتی ہیں صحراؤں میں چل پھر انہیں تنہائیوں میں پھر سے آزاروں میں چل یا شبستان دگر میں موت کے باغوں میں چل اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں صبح نو کی حسرتیں سب شام ہو کے رہ گئیں آرزوئیں خواہشیں آلام ہو کے رہ گئیں ساری خوشیاں قیدیٔ ارقام ہو کے رہ گئیں اے غم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 799 سے 960