شاعری

ایک آنچ کی کمی

سورج آسمان سے گرا اور لیموں بن گیا چاند آسمان سے گرا اور کپاس کا پھول بن گیا میں تاریخ کے مینار سے گرا اور واقعہ کیوں نہ بن سکا پانی دریاؤں سے نکلا اور جنگل بن گیا لفظ کتاب سے نکلا اور عالم بن گیا میں اس کی نیت کے اندھیرے سے نکلا اور آزادی کیوں نہ بن سکا ہوا بادبان سے گری اور ملاح ...

مزید پڑھیے

زمین ایک نظم ہے

آسماں ٹھہرا ہوا نیلا سمندر اور زمیں سوکھا ہوا دریا پہاڑوں پر دسمبر آ چکا ہے نیلگوں گہرا دسمبر ندیاں برفوں کی چاندی میں چھپی ہیں منصفوں جیسے معزز یہ پہاڑ اور ان کے ہمسایہ شجر مرعوب کرتے ہیں دیہاتی راستوں کے پھول کہتے ہیں ہمیں گاؤ نشیبی بستیوں کی گھاس کہتی ہے ہمیں لکھو پھٹے کپڑوں ...

مزید پڑھیے

ایمان

اپنے کمزور ایمان کی پختگی کے لیے اپنے اندھے خیالات کی روشنی کے لیے اپنے بوسیدہ افکار کی تازگی کے لیے دھونس سے زور سے اور بندوق سے بے گناہوں کے مقتل سجائے گئے نوجوانوں کے شفاف چہروں پہ جنگل اگائے گئے مدرسے لڑکیوں کے جلائے گئے اب انہیں زندہ درگور کرنے کا اک مرحلہ اور ہے امن ...

مزید پڑھیے

مشکل کام

ہمیشہ کی طرح تم آج بھی اچھی ہو لیکن کل بہت اچھی تھیں اور وہ کل مری یادوں کا حصہ ہے وہی جو کل تھا وہ ہے آج لیکن فرق اتنا ہے تمہاری جھیل سی آنکھوں میں میرے نام کا کوئی کنول کھلتا نہیں تمہارے ہونٹ میرا نام دہراتے نہیں ہیں رفاقت اور چاہت کا کوئی بھی گیت اب گاتے نہیں ہیں میں کل اور آج ...

مزید پڑھیے

محبت

محبت عہد و پیمان وفا ہے محبت حد امکان وفا ہے محبت اک کتاب ایسی ہے جس کا ہر اک عنوان عنوان وفا ہے محبت پھولنے پھلنے کی شے ہے اسے پامال سبزہ مت بناؤ دلوں کے قافلے چلتے ہیں اس پر سو نا ہموار رستہ مت بناؤ اسے کھلنے دو اپنے موسموں میں بہار عہد رفتہ مت بناؤ یہ ہے معصوم اور ننھا ...

مزید پڑھیے

ایسے نہیں ہوتا

بس اک اپنے تحفظ کے لیے دنیا کو کتنا بے تحفظ کر دیا تم نے یہ دنیا وہ نہیں جو آج سے پہلے تھی یہ فرمان جاری کر دیا تم نے مگر تم کون سی دنیا میں رہتے ہو یہ دنیا تو وہی ہے جس میں جب چاہو تم اپنے حکم منواتے ہو طاقت کی زباں میں بات کرتے ہو تمہارے حکم کو جو ماننے میں دیر کرتے ہیں تم ان کو اپنی ...

مزید پڑھیے

نیند نہیں آتی ہے

تم نے لکھا ہے نیند نہیں آتی ہے تم کو تم سے بہت ہی دور ہوں نا میں اس دھرتی سے اس دھرتی تک بیچ میں کتنے دریا اور سمندر ہوں گے یہ تو سچ ہے لیکن ان ماؤں کا سوچو جن کے بیٹے چاند تلک اک دن جائیں گے جا کے وہاں پر بس جائیں گے ایسے میں جب رات آئے گی چاند زمیں پر نکلا ہوگا چاند میں ان کا چہرہ ...

مزید پڑھیے

شناسائی

لوٹ بھی آئیں اگر اب وہ شناسا لمحے اور میں تجھ سے ملوں بھی تو دبے لفظوں میں پوچھیں گے سبھی کن ستاروں کی گزر گاہ پہ تم پہلے پہل نکلے تھے کون سی جھیل تھی وہ جس میں تم پہلے پہل ڈوبے تھے کون سے پیڑ تھے وہ جن کے سایوں میں محبت کے شگوفے پھوٹے اتنے بدلے ہوئے حالات کے دوراہے پر ان سوالوں کے ...

مزید پڑھیے

آج تم ایسے ہنسے

آج تم ایسے ہنسے جیسے کوئی آزاد کر دے سیکڑوں قیدی پرندے شور کرتے آسماں کی سمت یا بارش سمندر پر گرے رفتار میں یا دھوپ کھل جائے بھری برسات میں تم گونج ہو خوشیوں کے تہواروں کی جو ہم بھولپن میں اپنے بچپن کے سفر میں بھول بیٹھے ہیں تمہیں کس نے کہا اتنا ہنسو کہ بال کھل جائیں تمہیں کس نے ...

مزید پڑھیے

آزادوں کا گیت

میرے دن سیراب ہوئے ہیں نیندیں گھور سمندر جیسی میری آنکھ سے لپٹی ہیں صبح کی ساعت آزادوں کا گیت بنی ہے ساتھ چلی ہے سیاحوں کے رستے پر میں ایک سوار صدا کے رتھ پر بیٹھ کے جاؤں سورج مکھی کے جلسے میں بات کروں تہواروں کی جو میرے وصل کے دروازوں تک آ پہنچے ہیں میری عمر کے کھلیانوں میں جن کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 794 سے 960