دن پھیلا ہے
بانسری کی دھن سے چاول کی بالی تک دن پھیلا ہے اور درانتی والے ہاتھ میں اس کا دامن جیسے ملاحوں کے ہاتھ میں جال ہو یا پھر گھوڑ سوار کے ہاتھ میں اس کی راسیں دن پھیلا ہے دہی بلونے کی آواز سے جامن کے پیڑوں تک چوڑیاں پہننے والے ہاتھ میں اس کا دامن کھنچتے کھنچتے اوڑھنی بن جائے گا دن پھیلا ...