شاعری

کون ستارے چھو سکتا ہے

جن چیزوں کا سپنا دیکھا وہ سب چیزیں پائیں ہیں جگ والوں نے محنت کی ہے ساری چیز جٹائیں ہیں اب جب سب کچھ پاس ہے میرے کوئی بھی رومانس نہیں عشق کے کوئی مزے نہیں ہیں ٹیس نہیں ہے پھانس نہیں سپنوں کی دھرتی اپجاؤو سپنوں سے سپنے اگتے ہیں سپنے کس ماحول میں جانے آتے سوتے جاگتے ...

مزید پڑھیے

اپنے اشعار بھول جاتا ہوں

آج کل اکثر ایسا پاتا ہوں اپنے اشعار بھول جاتا ہوں کیا بحر تھی وہ کیا ترنم تھا اشک تھا کوئی یا تبسم تھا کیفیت کیا تھی اور کیا احساس جن سے ہوتا تھا خودی کا احساس جن کو میں جاوداں سمجھتا تھا اپنے دونوں جہاں سمجھتا تھا اب وہی شعر بھول جاتا ہوں آج کل اکثر ایسا پاتا ہوں ایسا کیوں ہو ...

مزید پڑھیے

کیفیت

اے نگاہ مست اپنا سا ہی مستانہ بنا مے بنا دے روح کو اور جاں کو پیمانہ بنا کیف و مستی کا بنا دے جام دست شوق میں لوٹ لے جو میکدہ وہ پیر مے خانہ بنا فیض پر تیرے نگاہ فیض ہے یہ منحصر جس کو چاہے جیسے چاہے اپنا دیوانہ بنا خود سے بیگانہ بنا دے کیف و مستی چھین لے لو میں شمع عشق کی جل جاؤں ...

مزید پڑھیے

حادثات

زندگی حادثات لگتی ہے کتنی چھوٹی سی بات لگتی ہے تنگ سی کائنات لگتی ہے مختصر جب حیات لگتی ہے قید غم اور بندش ہستی قید میں گزری رات لگتی ہے حسرتوں کے ہجوم میں اکثر زندگی ممکنات لگتی ہے وہ بھی اکثر اداس ہوتے ہیں ہر خوشی جن کے ساتھ لگتی ہے اشک باری نہ پوچھئے ہم سے آنکھ ساون کی رات ...

مزید پڑھیے

کیف

یہاں سجدہ وہاں سجدہ نہ کعبہ ہے نہ بت خانہ نہ جانے کر رہا ہے کیا کسی مستی میں مستانہ پلا دے مجھ کو ساقی تو یوں پیمانہ بہ پیمانہ نظر آئے تری دنیا مجھے بس ایک پیمانہ مجھے لگتا ہے اب ساغر بھی جیسے ایک مے خانہ نگاہ خاص ہے جب سے تری اے پیر مے خانہ عجب تو ہے عجب مے ہے عجب سا تیرا مے ...

مزید پڑھیے

کبھی کبھی

کچھ یوں بدل گیا مرا طرز بیاں کبھی کبھی جیسے زبان ہوتی ہے خود بے زباں کبھی کبھی خود سے ہی ہو گیا ہوں میں بیزار ہاں کبھی کبھی گزری یہ زندگی مجھے اتنی گراں کبھی کبھی دے کر غم جہاں مجھے اشکوں پہ میرے بندشیں یوں بھی لیا ہے تو نے مرا امتحاں کبھی کبھی وہ شدت بیاں ہو کہ ہو جرأت بیان ...

مزید پڑھیے

۲۳ مارچ اذان صبح نیاز

وہ کیا نوا تھی کہ جس کی لو سے افق روشنی کے منظر سنور گئے تھے بہار آثار لحن کیا تھا کہ خشک شاخوں کے زرد چہرے گلاب رنگوں سے دھل گئے تھے کلی کلی کے گداز شانوں پر خوشبوؤں کے لطیف پرچم نئے سویروں سے آشنائی کو کھل گئے تھے وہی نوا ڈوبتی شبوں میں اذان صبح نیاز بن کر ہوا کے ہونٹوں پہ ...

مزید پڑھیے

جیون رت کا زرد سفر

جسم شکن آلود تھکن کی چادر اوڑھے رات کو چپ کی نرم مسہری پر سویا ہے گم سم ہے کھویا کھویا ہے نیند کے ململ جیسے نیلے ہالے میں تیری یادیں رقص کی صورت کھوئے ہوئے سندر دیسوں کا قریہ قریہ گھوم رہی ہیں جیون کے ست رنگ پہنتے گیت کی لے پر ہولے ہولے جھوم رہی ہیں جیون رت کے زرد سفر میں آنکھوں کے ...

مزید پڑھیے

کل جب درخت نہ ہوں گے

بیا سے چڑیا چڑیا سے طوطے اور طوطے سے کوے نیل کنٹھ ووڈ پیکر اور لالی تک پرندوں جانوروں اور انسانوں کا رزق اور جیون باہم آپس میں جڑے ہوئے ہیں درختوں پودوں پھولوں اور پھلوں سے ہم سب کا جیون ہے درختوں کی ہریالی تک ہم سب ہریل ہیں کل جب درخت نہیں ہوں گے تو کچھ بھی نہ ہوگا بد بختی ہم ...

مزید پڑھیے

جب ہم دونوں جدا ہوئے تھے

جب ہم دونوں جدا ہوئے تھے اس نے پہنی سرما کی راتوں میں نکلے چاند کی ساڑی میں نے پہنا اپنی بن باسی کا چولا اس نے مانگی دھوپ جو برفوں پر چمکی تھی اور ہنسی کے دریا میں بہتے ہوئے ہم تک پہنچی تھی میں نے مانگی گھاس میں گری ہوئی آواز اس کے ہاتھ میں آٹھ پہر کے خواب کا چھوٹا بچہ تھا میرے ہاتھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 792 سے 960