شاعری

اڑان سے پہلے

ماں رسموں رواجوں کے دھاگوں سے بنی تارتار اوڑھنی مجھ سے واپس لے لے تم ہی ان میں پیوند لگاتے لگاتے ہار چکی ہو تو مجھ کو کیوں کر پیش کرو گی ماں دروازے کی یہ کنڈی اندر سے بند کرنے کا تمہیں حکم دیا گیا ہے کھول دے ورنہ میرا قد اتنا اونچا ہو گیا ہے میں اب اس تک خود پہنچ سکتی ہوں ماں مجھے ...

مزید پڑھیے

ہیروشیما کی پیڑا

کسی رات کو میری نیند اچانک اچٹ جاتی ہے آنکھ کھل جاتی ہے میں سوچنے لگتا ہوں کہ جن ویگیانکوں نے انو استروں کا اوشکار کیا تھا وے ہیروشیما ناگا ساکی کے بھیشن نرسنہار کے سماچار سن کر رات کو سوئے کیسے ہوں گے دانت میں پھنسا تنکا آنکھ کی کرکری پاؤں میں چبھا کانٹا آنکھوں کی نیند من کا ...

مزید پڑھیے

جنگ نہ ہونے دیں گے

ہم جنگ نہ ہونے دیں وشو شانتی کے ہم سادھک ہیں جنگ نہ ہونے دیں گے کبھی نہ کھیتوں میں پھر خونی کھاد پھلے گی کھلیانوں میں نہیں موت کی فصل کھلے گی آسمانوں پھر کبھی نہ انگارے اگلے گا ایٹم سے ناگا ساکی پھر نہیں جلے گا یدھ وہین وشو کا سپنا بھنگ نہ ہونے دیں گے جنگ نہ ہونے دیں گے ہتھیاروں کے ...

مزید پڑھیے

آؤ پھر سے دیا جلائیں

بھری دوپہری میں اندھیارا سورج پرچھائیں سے ہارا انترتم کا نیہ نچوڑیں بجھی ہوئی باقی سلگائیں آؤ پھر سے دیا جلائیں ہم پڑاؤ کو سمجھے منزل لکچھ ہوا آنکھوں سے اوجھل ورتمان کے موہ جال میں آنے والا کل نہ بھلائیں آؤ پھر سے دیا جلائیں آہوتی باقی یگیہ ادھورا اپنوں کے وگھنوں نے ...

مزید پڑھیے

بیٹا اور ماں

ایک اردو کے پروفیسر کا بیٹا جامعیؔ اپنی ماں کو خط لکھا کرتا تھا ہندی میں سدا ایک دن پوچھا میاں اردو میں کیوں لکھتے نہیں آئی اردو ڈونٹ نو سر فخر سے اس نے کہا جب یہ پوچھا پڑھ لیا کرتی ہیں وہ دیوناگری ہنس کے بولا مائی ممی ڈونٹ نو ہندی ذرا کس طرح معلوم ہوتا ہے انہیں مضمون خط بولا ...

مزید پڑھیے

ٹریفک سگنل

میں عہد رفتہ کو ڈھونڈھتا ہوں نئی کتابوں کے معبدوں میں پرانے لفظوں کو پوجتا ہوں میں منظر ہوں بشارتوں کا مری زبان پر میں صبح نو کے افق کے نئے جہاں کے نئے ترانے پرانی قبریں چٹخ رہی ہیں دیے بجھاؤ کہ سرخ سورج ابھر رہا ہے دلوں میں کوئی اتر رہا ہے نئے پرانے ہیں لفظ میری زباں پہ لیکن میں ...

مزید پڑھیے

ایک لانگ ڈسٹینس کال

تمہارا خط مجھ کو مل گیا ہے ابھی پڑھا ہے مجھے تو بس اتنا پوچھنا ہے اداس کیوں ہو اداس کیوں ہو میں پوچھتی ہوں اداس کیوں ہو تمہاری آواز اتنی مدھم ہے ایسے لگتا ہے جیسے اپنے ہی کان میں کوئی بات کہہ کر سمجھ رہے ہو کہ بات مجھ تک پہنچ گئی ہے تمہاری آواز راستوں کی مسافتوں میں بھٹک رہی ہے

مزید پڑھیے

ایک فلرٹ لڑکی

مجھ سے بھی وہ ملتی تھی اس کے ہونٹ گلابی تھے اس کی آنکھ میں مستی تھی میں بھی بھولا بھٹکا سا وہ بھی بھولی بھٹکی تھی شہر کی ہر آباد سڑک! اس کے گھر کو جاتی تھی! لیکن وہ کیا کرتی تھی! لڑکی تھی کہ پہیلی تھی! الٹے سیدھے رستوں پر آنکھیں ڈھانپ کے چلتی تھی بھیگی بھیگی راتوں میں تنہا تنہا روتی ...

مزید پڑھیے

پاپ بیتی

پیش ہے اسرارؔ کی تعلیم کا اب کیریر امتحاں جب بھی دیا پستول رکھ کر ڈیسک پر کیسا پڑھنا کیسا لکھنا گھر ہو یا دار العلوم بس مٹر گشتی کیا کرتا تھا دن بھر رات بھر نقل ماری کرتے کرتے آخر ایم اے ہو گیا آج ہے شعر و ادب میں نام اس کا معتبر تھا جو دھر پھندی میں ماہر کرکے تھوڑی جوڑ توڑ گھوس ...

مزید پڑھیے

کامیابی کا نسخہ

بیکار گر ہیں آپ تو اک کام کیجئے مکھن لگانے والوں میں کچھ نام کیجئے اس کام میں زیادہ نہیں کوئی دوڑ دھوپ تھوڑی خوشامدیں سحر و شام کیجئے ہوں شیخ جی تو کیجئے جھک کر انہیں سلام پنڈت کو ہاتھ جوڑ کے پرنام کیجئے کچھ دیر دم ہلائیے آقا کے سامنے پھیلا کے پاؤں گھر پہ پھر آرام کیجئے کیوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 777 سے 960