شاعری

مجھے جانا ہے اک دن

مجھے جانا ہے اک دن تیری بزم ناز سے آخر ابھی پھر درد ٹپکے گا مری آواز سے آخر ابھی پھر آگ اٹھے گی شکستہ ساز سے آخر مجھے جانا ہے اک دن تیری بزم ناز سے آخر ابھی تو حسن کے پیروں پہ ہے جبر حنا بندی ابھی ہے عشق پر آئین فرسودہ کی پابندی ابھی حاوی ہے عقل و روح پر جھوٹی خداوندی مجھے جانا ہے ...

مزید پڑھیے

وطن آشوب

سبزہ و برگ و لالہ و سرو و سمن کو کیا ہوا سارا چمن اداس ہے ہائے چمن کو کیا ہوا اک سکوت ہر طرف ہوش ربا و ہولناک خلد وطن کے پاسباں خلد وطن کو کیا ہوا رقص طرب کدھر گیا نغمہ طراز کیا ہوئے غمزہ و ناز کیا ہوئے عشوہ و فن کو کیا ہوا جس کی نوائے دلستاں زخمۂ ساز شوق تھی کوئی بتاؤ اس بت غنچہ دہن ...

مزید پڑھیے

حسن و عشق

مجھ سے مت پوچھ ''مرے حسن میں کیا رکھا ہے'' آنکھ سے پردۂ ظلمات اٹھا رکھا ہے میری دنیا کہ مرے غم سے جہنم بر دوش تو نے دنیا کو بھی فردوس بنا رکھا ہے مجھ سے مت پوچھ ''ترے عشق میں کیا رکھا ہے'' سوز کو ساز کے پردے میں چھپا رکھا ہے جگمگا اٹھتی ہے دنیائے تخیل جس سے دل میں وہ شعلۂ جاں سوز دبا ...

مزید پڑھیے

آوارہ

شہر کی رات اور میں ناشاد و ناکارا پھروں جگمگاتی جاگتی سڑکوں پہ آوارا پھروں غیر کی بستی ہے کب تک در بہ در مارا پھروں اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں جھلملاتے قمقموں کی راہ میں زنجیر سی رات کے ہاتھوں میں دن کی موہنی تصویر سی میرے سینے پر مگر رکھی ہوئی شمشیر سی اے غم دل کیا ...

مزید پڑھیے

مصور کا ہاتھ

مشینوں سے اسے نفرت تھی لیکن کارخانے میں مشینوں کے سوا ان کا کوئی ہمدم نہ ساتھی تھا وہ خوابوں کا مصور جس کے خوابوں میں عموماً تلخیاں بھی رنگ بھرتی تھیں کبھی ماں کی دوا بہنوں کی شادی کبھی یاد وطن کی چاشنی وسکی کی کڑواہٹ تو اس کے اپنے اندر کا مصور اس سے کہتا تھا میں قیدی ہوں مجھے ...

مزید پڑھیے

بھروسے کا قتل

مذہب کی تلوار بنا کر خواہشوں کے اندھے گھوڑے پر سوار میرے من آنگن کو روند ڈالا میرے بھروسے کو سولی پر ٹانگ کر تم نے دوسرا بیاہ رچا لیا تمہارے سنگ گزارے پل پل کو میں نے اپنے ماس پر کھال کی طرح منڈھ لیا تھا تمہارے ساتھ آنچل باندھ کر بابا کا آنگن پار کر کے تمہارے لائے سانچے میں میں نے ...

مزید پڑھیے

کاش سمجھ دار نہ بنوں

تجربہ کار ذہن تو سب سمجھ جاتا ہے ذہن میں سوچوں کو بند کر کے تالا ڈال دوں چالاک آنکھیں تو سب کچھ تاڑ لیتی ہیں ان پر لا علمی کے شیشے چڑھا دوں اپنے حساس دل کو ذرا خاطر میں نہ لاؤں ماضی کا تمام مشاہدہ اور تجربہ جو درج ہے ذہن پر اسے مٹا ڈالوں میری عقل میرے لیے عذاب بن گئی ہے کاش سمجھ دار ...

مزید پڑھیے

اپنی بیٹی کے نام

اگر تمہیں کاری کہہ کر قتل کر دیں مر جانا پیار ضرور کرنا شرافت کے شو کیس میں نقاب ڈال کر مت بیٹھنا پیار ضرور کرنا پیاسی خواہشوں کے ریگزار میں ببول بن کر مت رہنا پیار ضرور کرنا اگر کسی کی یاد ہولے ہولے تمہارے دل میں آتی ہے تو مسکرا دینا پیار ضرور کرنا وہ کیا کریں گے بس سنگسار ہی تو ...

مزید پڑھیے

محبت کی منزل

ایسے تو نہیں چھیڑو میرے جسم کے طنبورے کو جیسے کوئی بچہ شرارت کرے میرا جسم کوئی راز نہیں ہے جسے دریافت کرنے کے لئے کسی نقشے کی ضرورت ہو یہ الجبرا کا سوال نہیں ہے جس کا پہلے سے فارمولا تیار ہو اس ساز کو بجانے کے لئے کوئی بھی ترکیب دنیا کی کسی بھی کتاب میں درج نہیں یہ ساز از خود بجنے ...

مزید پڑھیے

تم اور میں

مجھے گوشت کی تھالی سمجھ کر چیل کی طرح جھپٹا مارتے ہو اسے میں پیار سمجھوں اتنی بھولی میں نہیں ہوں مجھ سے تمہارا موہ ایسا ہے جیسا بلی کا چھیچھڑے سے اس کو میں پیار سمجھوں اتنی بھولی میں نہیں ہوں میرے بدن کو کھلونا جان کر مرضی ہو تو کھیلو مرضی ہو تو توڑ ڈالو اسے میں پیار سمجھوں اتنی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 776 سے 960