مجھے جانا ہے اک دن
مجھے جانا ہے اک دن تیری بزم ناز سے آخر ابھی پھر درد ٹپکے گا مری آواز سے آخر ابھی پھر آگ اٹھے گی شکستہ ساز سے آخر مجھے جانا ہے اک دن تیری بزم ناز سے آخر ابھی تو حسن کے پیروں پہ ہے جبر حنا بندی ابھی ہے عشق پر آئین فرسودہ کی پابندی ابھی حاوی ہے عقل و روح پر جھوٹی خداوندی مجھے جانا ہے ...