سمندر
جیسے غم ہستی کا ہیولیٰ ہی قمر ہو جیسے کسی عارف کی دعاؤں کا اثر ہو جیسے کہ بقا زاد ہو سرگرم سفر ہو
جیسے غم ہستی کا ہیولیٰ ہی قمر ہو جیسے کسی عارف کی دعاؤں کا اثر ہو جیسے کہ بقا زاد ہو سرگرم سفر ہو
رسم اندیشہ سے فارغ ہوئے ہم اپنے داماں کی شکن میں سمٹے کف ایام کی پر پیچ لکیروں میں کہیں اپنے آئندۂ نادیدہ سے سہمے ہوئے ہم گاہ اجمال گذشتہ پہ گلو گیر ہوئے جیسے دھل جائے گا بیچاری روایات کے شانوں کا غبار چند بیمار ارادوں کی عیادت چاہی گاہ نایاب دعاؤں کا شمار اور تقریر کے ...
سماں بدلا ہوا بدلی سیاہی رات کی بدلی فضا میں تیرتی اور چیختی بوئے لہو بدلی جو گردش میں ہیں تارے کیا ذرا بھی ان کی رو بدلی نہیں بدلی تمازت دن کی بدلی یا اداسی شام کی بدلی جھلستی دھوپ بدلی نہ سلگتی دوپہر بدلی صبا کی تازگی بدلی نہ خوشبو سحر کی بدلی دعا بدلی اذاں بدلی غریبوں کی فغاں ...
نغمہ بولا میں بھی زخمی شعلہ بولا میں بھی زخمی کتبہ بولا میں بھی زخمی
اترن پہنو گے گھاٹ گھاٹ سے دھل کر آئی اترن پہنو گے جانے کس کس ذات کے لمس ہیں اس اترن کے بخیوں میں کس کس نسل کی دیمک اس کے دامن سے ہے لگی ہوئی کتنے رنگ ریزوں نے اس پر اپنے رنگ چڑھائے ہیں کتنی بار کی دھلی ہوئی جگہ جگہ سے چھدی ہوئی انجانے ہونٹوں کے نم سے دھاگا دھاگا لدی ہوئی سو سو طرح ...
اس اک سال میں کتنے سال گزاریں گے ہم ہر اک دن، اک سال مثال ہر اک دن کی صبح کا سورج حرف سوال ہر اک دن کی جھلسی ہوئی اور بھیگی ہوئی دوپہر زوال ہر اک دن کی، ہر اک شام شام جمال ہر اک شام کی رات کمال وصل کے ہر اک لمحے میں ہیں جیسے صدیاں گھلی ہوئی ہجر کے ہر لمحے میں جیسے ہلکی آنچ پہ ریت کی ...
سینۂ خواب کھلے جس طرح پیار میں ڈوبی ہوئی آنکھوں پہ لرزتی ہوئی پلکوں کا نشہ کھلتا ہے جس طرح بند کتابوں پہ کسی پھول کے کھلنے کا گماں کھلتا ہے جس طرح ہاتھ کی پوروں پہ کبھی پہلے پہلے سے کسی تجربۂ لمس محبت کا اثر کھلتا ہے سینۂ خواب کھلے سینۂ خواب کھلے اور میں دیکھوں وہ کم آثار ...
مداوا ہو نہیں سکتا دل سادہ اب اس آتش نما کے سامنے عجز محبت کا اعادہ ہو نہیں سکتا یہ کیا کم ہے کہ اپنے آپ تک کو بھول کر اس حسن خود آگاہ کی خاطر نہ جانے کتنے روز و شب تھے جو ہم نے گنوائے تھے بہت سارے دنوں کی گٹھڑیاں تھیں جن کو کھولا تک نہ تھا ہم نے بس اک تہہ خانۂ عمر گذشتہ میں ہم ان سب ...
ابھی تک موسم گل لوٹ کر آیا نہیں کچھ دیر باقی ہے ابھی اس درد کی چھاؤں میں سانسوں کو رواں رکھنے کا حیلہ ڈھونڈھنا ہے پاؤں میں مٹی کے جوتے ہاتھ میں کشکول جاں سر پر کلاہ غم قبائے گرد میں لپٹے بدن دیوار گریہ سے لگا کر بیٹھنا ہے اور اس موسم کا رستہ دیکھنا ہے جس کی خاطر ہم نے اپنی خاک کے ...
ہوائیں بھی بادباں بھی میرے سمندروں کے سکوت میں بے لباس نسلوں کے ریزہ ریزہ جمال کے سب نشاں بھی میرے مرے شکستہ وجود کی لہلہاتی فصلوں پہ گرنے والی شفیق شبنم میں ریت کے آسماں بھی میرے قدیم لفظوں کے غم میں بے جان منظروں کے جہاں بھی میرے ستارۂ دل کی وسعتوں میں کھلے ہوئے جنگلوں کے ...