شاعری

تنہائی

مجھ سا تنہا نہیں دنیا میں خدایا کوئی میں نہ اپنا ہوں کسی کا بھی نہ میرا کوئی کیا ملا مجھ کو چہل سالہ رفاقت کرکے اب کسی پر نہ کرے آہ بھروسا کوئی تابش ہجر نے دل کی یہ بنا دی صورت جیسے ہو دھوپ میں تپتا ہوا صحرا کوئی آتش شوق کی اٹھتی ہیں کچھ ایسی لہریں جس طرح آگ کا بھڑکا ہوا دریا ...

مزید پڑھیے

تصویر خیالی

جب اندھیرا ہوا ہر سو ہوئی خلقت خاموش جب تعقل سے گئی چھوٹ حکومت کی عناں مٹ چلا تھا ترے ارمان کا جب جوش و خروش صبر کا یاس نے جب آن کے پکڑا داماں غم کے باعث ہوا جب مثل شب تار دماغ دل میں اور عقل میں برپا ہوئی جنگ و تکرار لہریں لینے لگا جس وقت تمنا کا چراغ یاس کا دیو جب آ کر ہوا سینے پہ ...

مزید پڑھیے

ہائے جوانی

آہ کسے دکھ درد بتاؤں کس کو اپنا حال سناؤں دل سے ہوتی راہ ہے دل کو گھائل کی ہو خبر گھائل کو کون ہے میری سننے والا کون ہے اب سر دھننے والا کون افسوس کرے اب مجھ پر کون ہو مجھ کو دیکھ کے مضطر اس سن میں یہ درد نہانی ہائے جوانی ہائے جوانی آہ امیدیں خاک ہوئیں سب جینا اب اک قہر ہے یا رب دنیا ...

مزید پڑھیے

عشق و دوستی

عشق کو ایک نظر کافی ہے آگہی پہلے سے درکار نہیں دوستی برسوں کی ہم رازی ہے جلدی بازی کا یہ بازار نہیں ہو بھی سکتی ہے کبھی وہ حالت گو ہو مدت کا خلوص اور نیاز ایک لمحہ میں بناتی ہے جو گت پیاری صورت کبھی پیاری آواز غور‌ و فکر اس کے سدا ہیں ہم دست ملنے جلنے سے ہے پیدا ہوتی گرم جوشی کی ...

مزید پڑھیے

برسات اور شاعر

تھا درختوں کو ابھی عالم حیرت ایسا جیسے دلبر سے یکایک کوئی ہو جائے دو چار ڈالیاں ہلنے لگیں تیز ہوائیں جو چلیں پتے پتے میں نظر آنے لگی تازہ بہار سنسناہٹ ہوئی جھونکوں سے ہوا کے ایسی چھٹ گئیں ہوں کہیں لاکھوں ہی ہوائی یکبار رعد گرجا ارے وہ دیکھنا بجلی چمکی ہلکی ہلکی سی وہ پڑنے لگی ...

مزید پڑھیے

موت و حیات

ایک دھوکا ہے سمجھتے ہو جسے موت و حیات غور سے دیکھو نہ جیتا ہے نہ مرتا کوئی آہ کچھ کھیل نہیں عالم امکاں کا وجود ذرہ ذرہ میں چمکتا ہے خود آرا کوئی پردۂ عالم تکویں میں چھپا کر خود کو انجمن بند ہوا ہے چمن آرا کوئی آپ ہر رنگ میں کرتا ہے تماشا اپنا یاں نہ گلشن ہے نہ دریا ہے نہ صحرا ...

مزید پڑھیے

وقت

ہے سال نو کی آمد ہر شخص کو خوشی ہے کیا رنگ لائے گا یہ اس کی نہیں خبر کچھ میں جانتا ہوں ظالم تیری یہ دل لگی ہے دل میں نہیں کسی کے جو موت کا خطر کچھ اے وقت بے مروت اے وقت بے مروت عالم کا لحظہ لحظہ میں حال کیا سے کیا ہے مفلس ابھی تھا کوئی مسند نشیں ابھی ہے جیتا کوئی ابھی تھا اب دفن ہو ...

مزید پڑھیے

ہجر

تو پاس تھا جی کو چین کچھ تھا تیرا جانا کہ آفت آئی نظروں سے چھپا جو تیرا چہرا میرے سر پر قیامت آئی باقی تھوڑا سا دن تھا لیکن میری آنکھوں میں تھا اندھیرا کیونکر ہو صبر مجھ سے ممکن دل کو ہر دم ہے دھیان تیرا اے ظلم کے اور ستم کے بانی اے شوخ جفا شعار عیار مجھ کو دوبھر ہے زندگانی میری ...

مزید پڑھیے

زبان درگور

صبا اس سے یہ کہہ جو اس طرف ہو کر گزرتا ہو قدم او جانے والے روک میرا حال سنتا جا کبھی میں بھی جواں تھا میں بھی حسن و علم رکھتا تھا وہی میں ہوں مجھے اب دیکھ اگر چشم تماشا ہو جوانی کی امنگیں شوق علمی ذہن و طباعی ذکاوت حوصلہ حلم و مروت رحم و غم خواری خیال اقربا احباب کے عیبوں کی ...

مزید پڑھیے

بقائے دوام کا مسافر

ہر صدا جاں بہ لب ہر نوا جاں بہ لب ہر ندا جاں بہ لب دلبری کرب زا عاشقی کرب زا آگہی کرب زا خاک داں نے سنا عرشیاں نے سنا ہر زماں نے سنا یہ ابد کا گلا یہ ابد کا گلا یہ ابد کا گلا مجھ کو وسعت ملے مجھ کو وسعت ملے مجھ کو وسعت ملے

مزید پڑھیے
صفحہ 761 سے 960