جواب
سوال جب بھی میں پوچھوں تو منہ کو تکتے ہو ہے بات شرم کی یوں اپنے ہونٹ سی لینا صدا اٹھی کہ بتایا ہے کل ہی حضرت نے بڑوں کی بات کا ہرگز جواب مت دینا
سوال جب بھی میں پوچھوں تو منہ کو تکتے ہو ہے بات شرم کی یوں اپنے ہونٹ سی لینا صدا اٹھی کہ بتایا ہے کل ہی حضرت نے بڑوں کی بات کا ہرگز جواب مت دینا
میں بھی کچھ خواب سر شبر تمنا لے کر سر میں عرفان غم ذات کا سودا لے کر دل میں ارمان نہیں آگ کا دریا لے کر آنکھ میں حسرت دیدار تماشہ لے کر بس یوں ہی اٹھ کے چلا آیا تھا بے رخت سفر گلاب جسموں کے سنگ سانسوں کا سوچتا تھا غزال آنکھوں میں گھر بنانے کی آرزو تھی کسی کی زلفوں میں سر چھپانا بھی ...
خبر شاکی ہے تم مجھ کو فقط قصہ سمجھ کر ہی نظر انداز کرتے ہو کبھی سوچا ہے تم نے یہ کہ اک چھوٹے سے قصے نے خبر بننے کے پہلے کیا جتن جھیلے ستم کاٹے کسی بے نام کوچے سے نکل کر سامنے آیا سسکتے اونگھتے لوگوں کو چونکایا بہت کچھ اور بھی کرتا ہوا قصہ خبر کا روپ لیتا ہے مگر تم تو فقط قصہ سمجھ کر ...
آنکھیں میری کیا ڈھونڈھتی ہیں پانی میں یا چٹانوں میں شبنم کے ننھے قطروں میں بارودی دہکتے شعلوں میں گلزاروں میں یا بنجر ریگستانوں میں محفل میں تنہائی میں دوسروں کی انگنائی میں نظموں کے تیکھا پن میں غزلوں کی رعنائی میں میخوانوں کے بند کواڑوں کے پیچھے مندر میں چڑھائے پھولوں ...
میں قیدی تتلی ہوں تیری سب رنگ بہار کے ہیں تجھ سے جب برف کے موسم آئیں گے ہم یاد کے ساز بجائیں گے پھر خواب کے تیشے لائیں گے تعمیر محبت کرنے کو تسخیر محبت کرنے کو
ہر سال نو کو مل کے یہ رسم ہے بنائی لیکن ہے یاد رکھنا جو سال پچھلا گزرا جو حادثے ہوئے ہیں جو فاصلے ہوئے ہیں کچھ رابطے بڑھے ہیں کچھ سلسلے کٹے ہیں محفوظ پہلے کر لیں مضبوط پہلے کر لیں پھر خوش گوار لمحے خوشبو بھری وہ باتیں سب چاندنی کی راتیں یادوں کی کہکشائیں کندن سی آتمائیں سب چندرما ...
تمام لفظوں میں روشن ہر اک باب میں ماں جنوں کے شیلف میں ہے عشق کی کتاب میں ماں اے ماں تو خوشبو کا نایاب استعارہ ہے اے ماں تو عود میں عنبر میں تو گلاب میں ماں خود اپنی ممتا میں ہی نور کا سمندر ہے نہیں ہے اور کسی روشنی کی تاب میں ماں وہ جسم کھو کے بدل سی گئی ہے کچھ مجھ میں تھی پہلے صرف ...
میں اب نیا کوئی ہندسہ ہوں میں اور کوئی ہندسہ ہوں تمہارے پہلو میں کل سے اب تک جو اک بہ صورت صفر صفر تھی وہ میں نہیں تھی جو تجھ میں تیرے سفر کی دھن تھی جو خود مسافر نہ ہو کے بس تیری رہ گزر تھی وہ میں نہیں تھی وہ میں نہیں ہوں جو اپنے سینے کی آگ دے کر ترے سروں کا سہاگ بھر تھی جو تیری دنیا ...
سدا کی مانند اس برس بھی تمام کوؤں کے جھنڈ کوئل مکٹ پہ قابض نشے میں پاگل پھدک رہے ہیں فتح پہ اپنی اچھل رہے ہیں نراش کوئل کہ جس کے سینے میں ہوک بن کر اداس کوئل کہ جس کی شہ رگ پہ کوک بن کر ہزار نغمے دھڑک رہے ہیں وہ آشیانے میں بن کے گونگی پروں میں ننھی سریلی دل کش دھنیں سمیٹے سپاٹ نیلے ...
میں نے اپنے اندر اندر جتنا جو کچھ بن رکھا تھا میں نے اپنے آپ سے اپنے بارے میں جو کچھ بھی سن رکھا تھا میں نے اپنے آپ کو جتنا جیسا فرض کیا تھا میں اس سے بھی اور سوا تھی مٹی تھی میں میں پانی تھی آگ بھی تھی جتنی میں ہوا تھی لیکن اپنی سب جہتوں سے متعارف ہو جانا خود کو کتنا مہنگا پڑ سکتا ...