ابدیت
اور پھر دونوں فانوس سینے کے بجھ جائیں گے اوڑھ لے گی دھواں دودھ کی دھار کی طرح اجلی نظر ناخن پا سے زلفوں کے بادل تلک جگمگاتی ہوئی کھال سے خواہشوں کے پراسرار محمل تلک ایک تحریر لکھے گی دیمک فنا ہر طرف بے حسی تیرگی تیرگی ہاں مگر صرف رخسار و لب صرف رخسار و لب راکھ میں دابی چنگاریوں کی ...