شاعری

نارسا

مجھے خواب اپنا عزیز تھا سو میں نیند سے نہ جگا کبھی مجھے نیند اپنی عزیز ہے کہ میں سر زمین پہ خواب کی کوئی پھول ایسا کھلا سکوں کہ جو مشک بن کے مہک سکے کوئی دیپ ایسا جلا سکوں جو ستارہ بن کے دمک سکے مرا خواب اب بھی ہے نیند میں مری نیند اب بھی ہے منتظر کہ میں وہ کرشمہ دکھا سکوں کہیں ...

مزید پڑھیے

ازل تا ابد

افق تا افق یہ دھندلکے کا عالم یہ حد نظر تک نم آلود سی ریت کا نرم قالیں کہ جس پر سمندر کی چنچل جواں بیٹیوں نے کسی نقش پا کو بھی نہ چھوڑا فضا اپنے دامن میں بوجھل خموشی سمیٹے ہے لیکن مچلتی ہوئی مست لہروں کے ہونٹوں پہ نغمہ ہے رقصاں یہ نغمہ سنا تھا مجھے یاد آتا نہیں کب مگر ہاں بس احساس ...

مزید پڑھیے

وقت کے کٹہرے میں

سنو تمہارا جرم تمہاری کمزوری ہے اپنے جرم پہ رنگ برنگے لفظوں کی بے جان ردائیں مت ڈالو سنو تمہارے خواب تمہارا جرم نہیں ہیں تم خوابوں کی تعبیر سے ڈر کر لفظوں کی تاریک گپھا میں چھپ رہنے کے مجرم ہو تم نے ہواؤں کے زینے پر پاؤں رکھ کر قوس قزح کے رنگ سمیٹے اور خلاؤں میں اڑتے فرضی تاروں ...

مزید پڑھیے

مجھے کہنا ہے

نہیں میں یوں نہیں کہتا کہ یہ دنیا جہنم اور ہم سب اس کا ایندھن ہیں نہیں یوں بھی نہیں کہتا کہ ہم جنت کے باسی ہیں سروں پر لاجوردی شامیانے اور پیروں میں نرالے ذائقوں والے پھلوں کے پیڑ شیر و شہد کی نہریں مچلتی ہیں مجھے تو بس یہی کچھ عام سی کچھ چھوٹی چھوٹی باتیں کہنی ہیں مجھے کہنا ہے اس ...

مزید پڑھیے

قرض

مہر ہونٹوں پہ سماعت پہ بٹھا لیں پہرے اور آنکھوں کو کسی آہنی تابوت میں رکھ دیں کہ ہمیں زندگی کرنے کی قیمت بھی چکانی ہے یہاں

مزید پڑھیے

مجھے جینا نہیں آتا

میں جیسے درد کا موسم گھٹا بن کر جو بس جاتا ہے آنکھوں میں دھنک کے رنگ خوشبو نذر کرنے کی تمنا لے کے جس منظر تلک جاؤں سیہ اشکوں کے گہرے کہر میں ڈوبا ہوا پاؤں میں اپنے دل کا سونا پیار کے موتی ترستی آرزو کے پھول جس در پر سجاتا ہوں وہاں جیسے مکیں ہوتا نہیں کوئی بنا ہوں ایک مدت سے صدائے ...

مزید پڑھیے

حیدرآباد

حیدرآباد دل کی صورت ہے دل دھڑکتا ہے سانس چلتی ہے آرزو زندگی کی پلتی ہے حیدرآباد اک محبت ہے حیدرآباد ہے قلی کا دل جس میں ملتا ہے حسن بھاگ متی اور اس شہر شعر و نغمہ کی زندگی ہے کہ پیار کی سل قبلۂ دل کہوں گا میں اس کو حیدرآباد ہے وطن میرا رشک جنت ہے یہ چمن میرا یہ نہیں ہے تو کیا ہے تم ...

مزید پڑھیے

نینی تال

آؤ بچو گیت سنائیں نینی تال کا حال بتائیں ایک پہاڑی دیش بسا ہے قدرت کے رنگوں سے بھرا ہے اونچی اونچی ہیں چٹانیں جیسے قلعے کی دیواریں بل کھائی سڑکوں کے کنارے ہرے بھرے پیڑوں کے نظارے حد نظر تک ہرا بھرا ہے رنگ برنگا پھول کھلا ہے خوشبو سے مہکی ہیں فضائیں بھینی بھینی مست ہوائیں اس ...

مزید پڑھیے

تعاقب

کیسی تاریک فضا کیسا بھیانک منظر ہر طرف چھایا ہوا شہر خموشاں کا سکوت اور تا حد نظر رات کے سانپوں کے ابھرتے ہوئے سر ہر طرف رقص میں گزرے ہوئے لمحات کی نازک پریاں اژدہا وقت کا منہ کھولے ہوئے حال کے زہر سے ماضی کے پری خانے کو آغوش فنا میں دیتے ہر طرف چشم شرر بار سے تخیل کی تجسیم کو ...

مزید پڑھیے

کرو گے یاد تو ہر بات یاد آئے گی

کرو گے یاد تو ہر بات یاد آئے گی گزرتے وقت کی ہر موج ٹھہر جائے گی یہ چاند بیتے زمانوں کا آئنہ ہوگا بھٹکتے ابر میں چہرہ کوئی بنا ہوگا اداس رہ ہے کوئی داستاں سنائے گی کرو گے یاد تو ہر بات یاد آئے گی برستا بھیگتا موسم دھواں دھواں ہوگا پگھلتی شمع پہ چہرہ کوئی گماں ہوگا ہتھیلیوں کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 734 سے 960