شاعری

نو عمری اور پیری

کل کی بات ہے کتنے شوق سے میں یہ نظم پڑھا کرتا تھا میں نو عمر تھا پیری خود سے صدیوں دور نظر آتی تھی اب میں پیری کی دہلیز پہ آ پہنچا ہوں بچپن اور جوانی مجھ کو بالکل یاد نہیں ہیں جیسے ان ادوار سے میں گزرا ہی نہیں

مزید پڑھیے

جنگل میں مور

ایک دن اک مور سے کہنے لگی یہ مورنی خوش صدا ہے خوش ادا ہے خوش قدم خوش رنگ ہے اس بیاباں تک مگر افسوس تو محدود ہے جب کبھی میں دیکھتی ہوں محو تجھ کو رقص میں ایک خواہش بے طرح کرتی ہے مجھ کو بے قرار کاش تجھ کو دیکھ سکتی آنکھ ہر ذی روح کی

مزید پڑھیے

کشکول

جتنی بھیک مجھے درکار تھی اس کے لیے میرا کشکول بہت چھوٹا تھا آخر میں نے توڑ دیا اپنا کشکول اور دونوں ہاتھوں سے دامن پھیلایا

مزید پڑھیے

ٹوٹے شیشے کی آخری نظم

ٹوٹے شیشے کی آخری نظم بھاگتے وقت کو میں آج پکڑ لایا ہوں یہ مرا وقت مرے ذہن کی تخلیق سہی رات اور دن کے تسلسل کو پریشاں کر کے میں نے لمحات کو اک روپ دیا صبح کو رات کی زنجیر سے آزاد کیا خواب و بیدی کی دیوار گرا دی میں نے زندگی موت سے کب تک یوں ہراساں رہتی کیا ہوا وقت و حقیقت کا ...

مزید پڑھیے

ہمارے بعد

یہ راہیں خود بخود پوچھیں گی تم سے کہاں تم جاؤ گے جب ہم نہ ہوں گے اشارے کون سمجھے گا تمہارے کسے سمجھاؤ گے جب ہم نہ ہوں گے ابھی اشکوں میں پنہاں ہے تبسم خوشی کیا پاؤ گے جب ہم نہ ہوں گے زمانہ توڑ دے گا شیشۂ دل بہت گھبراؤگے جب ہم نہ ہوں گے تغافل کی سزا تم کو ملے گی بہت پچھتاؤ گے جب ہم نہ ...

مزید پڑھیے

بے خوابی کی تیسری شب

بے خوابی کی تیسری شب بے خوابی کی تیسری شب ہے دو آنکھیں چمک چمک کر مجھ سے باتیں کرتی ہیں میرے سرہانے اک سگریٹ پیتا اجلا اجلا سایہ انجانی خوشبو میں بسا اڑتا اڑتا آتا ہے چھوتے ہی کھو جاتا ہے بے خوابی کی تیسری شب ہے نئی کتابوں کے اوراق کیوں حرفوں سے خالی ہیں میں اپنی ڈائری میں لکھتا ...

مزید پڑھیے

لہروں کا آتش فشاں

یہ آنسو بے سبب بنتے نہیں ہیں انہیں تم صرف پانی کہہ کے مت ٹالو بہت سے حادثے آئے مگر یہ سونامی لہریں ہر آفت سے آگے ہیں ہمارے دل ہلا کر آنسوؤں کا سیل بن کر بہہ رہا ہے ہزاروں بے سہارا لوگ یوں بھی مرنے والے تھے مگر زیر زمیں پانی سمندر کی یہ لہریں جسم کے ٹکڑے کو مٹی بنا کر کھا گئی ہیں جسے ...

مزید پڑھیے

دھرتی کا بوجھ

ایک چہل قدمی کے لیے گلی بنی سمندر کے پاس یہ پھولوں کی کلی بنی میں بھی بھولے سے یہاں آ جاتا ہوں میری عمر چلنے پھرنے گھومنے کی نہیں ہے عورتیں بچے اور دو اک بوڑھے بھی آتے ہیں میں یوں ہی کچھوے کی چال کی طرح آہستہ آہستہ آیا تھا اک جھاڑی کے پیچھے دو سائے ہم آغوش تھے ایک نے بہ آواز بلند ...

مزید پڑھیے

خامشی

کوئی امیج کسی بات کا حسیں سایہ نئے پرانے خیالوں کا اک اچھوتا میل کسی کی یاد کا بھٹکا ہوا کوئی جگنو کسی کے نیلے سے کاغذ پہ چند ادھورے لفظ بغاوتوں کا پرانا گھسا پٹا نعرہ کسی کتاب میں زندہ مگر چھپی امید پرانی غزلوں کی اک راکھ بے دلی ایسی خود اپنے آپ سے الجھن عجیب بے زاری غرض کہ موڈ ...

مزید پڑھیے

نروان

اک خوشبو درد سر کی مرجھائی کلیوں کو کھلائے جاتی ہے ذہن میں بچھو امیدوں کے ڈنک لگاتے ہیں ہچکی لے کر پھر خود ہی مر جاتے ہیں دل کی دھڑکن سچائی کے تلخ دھوئیں کو گہرا کرتی پیہم بڑھتی جاتی ہے پیٹ میں بھوک ڈکاریں لیتی رہتی ہے پھر رگ رگ میں سوئیاں بن کر بھاگی بھاگی پھرتی ہے پورے جسم میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 736 سے 960