قرض

مہر ہونٹوں پہ
سماعت پہ بٹھا لیں پہرے
اور آنکھوں کو
کسی آہنی تابوت میں رکھ دیں
کہ ہمیں
زندگی کرنے کی قیمت بھی چکانی ہے یہاں