شاعری

برسات

بندھ گئی ہے رحمت حق سے ہوا برسات کی نام کھلنے کا نہیں لیتی گھٹا برسات کی اگ رہا ہے ہر طرف سبزہ در و دیوار پر انتہا گرمی کی ہے اور ابتدا برسات کی دیکھنا سوکھی ہوئی شاخوں میں بھی جان آ گئی حق میں پودوں کے مسیحا ہے ہوا برسات کی خود بخود تازہ امنگیں جوش پر آنے لگیں دل کو گرمانے لگی ...

مزید پڑھیے

آصف الدولہ کا امام باڑہ لکھنؤ

آصف الدولۂ مرحوم کی تعمیر کہن جس کی صنعت کا نہیں صفحۂ ہستی پہ جواب دیکھ سیاح اسے رات کے سناٹے میں منہ سے اپنے مہ کامل نے جب الٹی ہو نقاب در و دیوار نظر آتے ہیں کیا صاف و سبک سحر کرتی ہے نگاہوں پہ ضیائے مہتاب یہی ہوتا ہے گماں خاک سے مس اس کو نہیں ہے سنبھالے ہوئے دامن میں ہوائے ...

مزید پڑھیے

مرثیہ گوپال کرشن گوکھلے

لرز رہا تھا وطن جس خیال کے ڈر سے وہ آج خون رلاتا ہے دیدۂ تر سے صدا یہ آتی ہے پھل پھول اور پتھر سے زمیں پہ تاج گرا قوم ہند کے سر سے حبیب قوم کا دنیا سے یوں روانہ ہوا زمیں الٹ گئی کیا منقلب زمانہ ہوا بڑھی ہوئی تھی نحوست زوال پیہم کی ترے ظہور سے تقدیر قوم کی چمکی نگاہ یاس تھی ہندستاں ...

مزید پڑھیے

وید

فیض قدرت سے جو تقدیر کھلی عالم کی ساحل ہند پہ وحدت کی تجلی چمکی مٹ گئی جہل کی شب صبح کا تارہ چمکا آریہ ورت کی قسمت کا ستارا چمکا اہل دل پر ہوئی کیفیت عرفاں طاری جن سے دنیا میں ہوئیں دین کی نہریں جاری تھیں کھلی جلوہ گہ خاص میں راہیں ان کی واقف راز حقیقت تھیں نگاہیں ان کی عرش سے ...

مزید پڑھیے

ہندی ہندوستانی

صاف ستھری زبان ہندی ہے خوش بیانی کی جان ہندی ہے ہندیوں کا نشان ہندی ہے اوج میں آسمان ہندی ہے روزمرہ جو بول چال کا ہے حسن وہ شوخیٔ خیال کا ہے اس کے پھولوں کی تیز ہے خوشبو ہر طرف مشک ریز ہے خوشبو واقعی عطر بیز ہے خوشبو عشرت موج خیز ہے خوشبو شکل کیسی حسین ہے اس کی برج بھاشا زمین ...

مزید پڑھیے

غالبؔ

غالبؔ تیرا کلام نوائے سروش ہے الہام غیب و نغمۂ ساز خموش ہے ایسا بھرا ہوا ہے غزل میں سنگار رس اک جنت سماع ہے فردوس گوش ہے آساں نہیں جمال معانی کا دیکھنا ہر شاہد خیال ترا پردہ پوش ہے جو بات ہے وہ شوخئ گلدستۂ چمن جو لفظ ہے بہار کف گل فروش ہے موج رواں ہیں مصرعہ بے ساختہ ترے بحر ...

مزید پڑھیے

نورجہاں

ہر جلوہ جہانگیر تھا جس وقت جواں تھی کہتے ہیں جسے نورجہاں نور جہاں تھی تھا حور کا ٹکڑا بت طناز کا مکھڑا اک شمع تھی فانوس میں جو نور فشاں تھی انداز میں شوخی میں کرشمہ میں ادا میں تلوار تھی برچھی تھی کٹاری تھی سناں تھی رخسار جہاں تاب کی پڑتی تھیں شعاعیں یا حسن کے دریا سے کوئی موج ...

مزید پڑھیے

شری کرشن

ہیں جسودھا کے لئے زینت آغوش کہیں گوپیوں کے بھی تصور سے ہیں روپوش کہیں دوارکا جی کا بسانا تو مبارک لیکن کر نہ دیں برج کی گلیوں کو فراموش کہیں کھا کے تندل کہیں اعزاز سداما کو دیا ساگ خوش ہو کے بدر جیؔ کا کیا نوش کہیں خود بچن دے کے جراؔ سندھ سے رن میں بھاگے رہے بد گوئی ششپال پہ ...

مزید پڑھیے

نئی دہلی

کیا رنگ مرے شہر کا گنگا جمنی ہے دہلی نئی اجڑی ہوئی دہلی میں بنی ہے قبروں کا پتہ ہے نہ مزاروں کا ٹھکانا یہ شہر کی تعمیر ہے یا گورکنی ہے ارباب مشاہیر کا لینے کے لئے نام کچھ دور گذشتہ کی بھی تاریخ چھنی ہے ارونؔ کا کہیں بت تو کلاؤ کی کہیں سٹریٹ میدان میں سبزے سے بہار چمنی ہے رہتے ...

مزید پڑھیے

ہندو مسلمانوں کا اتحاد

جب ایک ہی چمن کی تم ہو بہار دونوں جب ایک ہی شجر کے ہو برگ و بار دونوں جب ایک ہی قلم کے ہو شاہکار دونوں جب ایک ہی وطن کے ہو افتخار دونوں آپس کی پھوٹ سے ہو کیوں دل فگار دونوں ہاں چھوڑ دو یہ رنجش بن جاؤ یار دونوں فرزند ہو حقیقی تم مادر وطن کے پروان چڑھ رہے ہو میووں سے اس چمن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 720 سے 960