پابند نہیں ہیں
وعدہ کیا کسی بات کے پابند نہیں ہیں بوڑھے ہیں نا جذبات کے پابند نہیں ہیں خوابوں میں نکل جاتے ہیں ارمان ہمارے ہم دن میں ملاقات کے پابند نہیں ہیں بے وجہ بھی آنکھوں میں امڈ آتے ہیں اکثر سیلاب جو برسات کے پابند نہیں ہیں حالات کی گردش رہی پابند ہماری ہم گردش حالات کے پابند نہیں ...