باتیں کرو

رات بھر اقرار کی باتیں کرو
صبح دم انکار کی باتیں کرو


الجھنیں دل کی بڑھانی ہوں اگر
گیسوئے خم دار کی باتیں کرو


ہیں نگاہیں سیر اور ابرو کماں
یار با ہتھیار کی باتیں کرو


مہ‌ وشو اتنے برے بھی ہم نہیں
آؤ ہم سے پیار کی باتیں کرو


صرف پہلی ہی کے دن اے دوستو
ساز اور جھنکار کی باتیں کرو


دوسری کو بچ گئے پیسے اگر
کوچہ و بازار کی باتیں کرو


دس تلک چلر اگر باقی رہے
چائے پر اخبار کی باتیں کرو


بیس اور اکیس کو احباب سے
چرخ ناہنجار کی باتیں کرو


قرض حسنہ لے کے تم انتیس تک
گھر کے کاروبار کی باتیں کرو


تیس کو باتیں کرو اکتیس کی
یا دل بیمار کی باتیں کرو


آخری دن خوب غصے میں رہو
حجت و تکرار کی باتیں کرو


پھر اسی شب صبح کی امید میں
میٹھی میٹھی پیار کی باتیں کرو


تم سے یہ کس نے کہا تھا ؔخواہ مخواہ
اس طرح بے کار کی باتیں کرو