پتھر
میں اک معصوم شہری تھا شرافت سے سبھی کے ساتھ رہتا تھا مہذب طور سے جیتا تھا سب کے کام آتا تھا کبھی میں نے کسی کا دل نہیں توڑا کسی کا سر نہیں پھوڑا کسی ترکش سے کوئی تیر کیا تنکا نہیں چھوڑا کسی کی پیٹھ میں خنجر نہیں بھونکا کسی کے جسم پر بارود کا گولا نہیں پھینکا کسی کو آگ میں میں نے ...