شاعری

سفر

آوازیں رات کی خاموشی میں اوجھل ہونے کا سندیسہ لائی ہیں چاند کے آدھے ٹکڑے پر کچھ خوابوں کی تدفین ہوئی ہے گھڑے کا پانی قطرہ قطرہ ڈول رہا ہے دیواروں کی مٹی میں برسوں سے گوندھی کچھ پوروں کا لمس اچانک قلب کدے میں چیخ پڑا ہے رات کے کالے توے پر وحشت کی روٹی پکنے کو تیار پڑی ہے گھڑی کی ...

مزید پڑھیے

''دیوانوں کا نام ابد تک ہوتا ہے''

سنا ہے اس نے پڑھتے پڑھتے آنکھوں کو حیران کیا ہے پشت سے لپٹے آئینوں کے زنگاروں کا دھیان کیا ہے صدیوں پر پھیلی، ان دیکھی روشنیوں کا گیان کیا ہے پل دو پل وشرام کیا تھا سنا ہے اس نے لکھتے لکھتے دفتر میں اپنے جیون کے دن کاٹے تو راتوں کا وردان دیا ہے گہری فکر کے موٹے موٹے شیشے پہن ...

مزید پڑھیے

دو دھاری تلوار

خواہش کی تسکیں کی خاطر اپنے لا یعنی جذبوں کو لوح دل پر آنک رہے ہیں دیش بدیش کی خاک چھان کے گرتے پڑتے پھانک رہے ہیں اپنی دید سے غافل رہ کر نا دیدہ کو جھانک رہے ہیں

مزید پڑھیے

سانپ کا سایہ خواب مرے ڈس جاتا ہے

کتنی دفعہ تو بڑھا، رکا میں اس کی جانب صدیوں وہ مہکا کر میرا ظاہر و باطن کئی یگوں تک، اس نے مجھ کو یاد کیا اور کہا یہ، ندی ہوں میں ناؤ بنو تم ڈولو مجھ پر جھوم اٹھو تن کی چاندی سونا پا کر لیکن میرے جسم کے ویرانے سے کوئی ہر دم مجھ کو تاک رہا ہے تن سے آگے من نگری میں جھانک رہا ہے نیند نشے ...

مزید پڑھیے

دھرتی کا اپہار ملا جب

خود میں اتر کر میں رویا تھا باہر منظر پھوٹ پھوٹ کر اتنا رویا ہر شے ڈوب گئی تھی اور میں اس پل اپنے تن کی کشتی کھیتا سات سمندر پار گیا تھا سورج تاروں اور امبر نے گلے لگا کر دھرتی کا اپہار دیا تھا سب کچھ مجھ پر وار دیا تھا

مزید پڑھیے

’’جب ترسیل بٹن تک پہنچی‘‘

کل، ترا نامہ جو ملتا تھا ہمیں اس کے الفاظ تلے مدتیں، معنی کی تشریحوں میں لطف کا سیل رواں رہتا تھا راتیں بستر پہ نشہ خواب کا رکھ دیتی تھیں عطر میں ڈوبی ہوئی دھوپ کی پیمائش پر چاندنی ،نیند کو لوری کی تھپک دیتی تھی ذہن میں صبح و مسا اک عجب فرحت نو رستہ سفر کرتی تھی لیکن اب۔۔۔ قربتیں ...

مزید پڑھیے

اس پل سے

اس نے بوجھل نیلی پلکیں کھولیں بیٹے کب تک جاگو گے؟ بہتے آنسو رک سے گئے! سب امیدانہ نظروں سے تکنے لگے میں نے تلاوت روک کے نورانی چہرے کو دیکھا اس نے آہستہ سے آنکھیں موندیں! اس پل سے میں جاگ رہا ہوں

مزید پڑھیے

آنکھیں

ہم دونوں تتلی کے تعاقب میں دور مہکتے خوابیدہ سایوں میں ڈوبے تتلی ہاتھ سے نکلی تھی جنگل جاگ پڑا تھا پتوں کی اوٹ سے شعلہ شعلہ آنکھیں جھانک رہی تھیں! سب رستے مسدود ہوئے تھے!

مزید پڑھیے
صفحہ 621 سے 960