شاعری

ایک اداس شام کے نام

عجیب لوگ ہیں ہم اہل اعتبار کتنے بد نصیب لوگ ہیں جو رات جاگنے کی تھی وہ ساری رات خواب دیکھ دیکھ کر گزارتے رہے جو نام بھولنے کا تھا اس ایک نام کو گلی گلی پکارتے رہے جو کھیل جیتنے کا تھا وہ کھیل ہارتے رہے عجیب لوگ ہیں ہم اہل اعتبار کتنے بد نصیب لوگ ہیں کسی سے بھی تو قرض آبرو ادا نہیں ...

مزید پڑھیے

چک پھیری

بچپن کی گلیوں میں جن جن گھروں کے شیشے میری گیند سے ٹوٹے تھے ان سب کی کرچیں کبھی کبھی میری آنکھوں میں چبھنے لگتی ہیں جلتی دوپہروں میں میرے ہاتھوں اجڑے ہوئے گھونسلوں کے بے حال پرندوں کی چیخیں فریادیں میری بے گھر شاموں میں کہرام مچاتی رہتی ہیں چکناچور دنوں ریزہ ریزہ راتوں میں سوئے ...

مزید پڑھیے

گمنام سپاہی کی قبر پر

سپاہی آج بھی کوئی نہیں آیا کسی نے پھول ہی بھیجے نہ بستی کے گھروں سے آشنا گیتوں کی آوازیں سنائی دیں نہ پرچم کوئی لہرایا سپاہی! شام ہونے آئی اور کوئی نہیں آیا فنا کی خندقوں کو جان دے کر پار کر جانا بڑی بات جہاں جینے کی خاطر مر رہے ہوں لوگ اس بستی میں مر جانا بڑی بات مگر پل بھر کو یہ ...

مزید پڑھیے

بن باس

رات دن خواب بنتی ہوئی زندگی دل میں نقد اضافی کی لو آنکھ بار امانت سے چور موج خوں بے نیاز مآل دشت بے رنگ سے درد کے پھول چنتی ہوئی زندگی خوف واماندگی سے خجل آرزوؤں کے آشوب سے مضمحل منہ کے بل خاک پر آ پڑی ہر طرف اک بھیانک سکوت کوئی نوحہ نہ آنسو نہ پھول حاصل جسم و جاں بے نشاں رہ گزاروں ...

مزید پڑھیے

پس چہ باید کرد

خواب خس خانہ و برفاب کے پیچھے پیچھے گرمئ شہر مقدر کے ستائے ہوئے لوگ کیسی یخ بستہ زمینوں کی طرف آ نکلے موج خوں برف ہوئی جاتی ہے سانسیں بھی ہیں برف وحشتیں جن کا مقدر تھیں وہ آنکھیں بھی ہیں برف یاد یاران دل آویز کا منظر بھی ہے برف ایک اک نام ہر آواز ہر اک چہرہ برف منجمد خواب کی ٹکسال ...

مزید پڑھیے

یقین سے یادوں کے بارے میں کچھ کہا نہیں جا سکتا

تم نے جو پھول مجھے رخصت ہوتے وقت دیا تھا وہ نظم میں نے تمہاری یادوں کے ساتھ لفافے میں بند کر کے رکھ دی تھی آج دنوں بعد بہت اکیلے میں اسے کھول کر دیکھا ہے پھول کی نو پنکھڑیاں ہیں نظم کے نو مصرعے یادیں بھی کیسی عجیب ہوتی ہیں پہلی پنکھڑی یاد دلاتی ہے اس لمحے کی جب میں نے پہلی بار ...

مزید پڑھیے

پرانے دشمن

اک سورج ہے جو شام ڈھلے مجھے پرسا دینے آتا ہے ان پھولوں کا جو میرے لہو میں کھلنے تھے اور کھلے نہیں ان لوگوں کا جو کسی موڑ پر ملنے تھے اور ملے نہیں اک خوشبو ہے جو بستی بستی میرا پیچھا کرتی ہے اور اپنے جی کی بات بتاتے ڈرتی ہے اک دریا ہے جو جنم جنم کی پیاس بجھانے آتا ہے اور انگارے ...

مزید پڑھیے

کچھ دیر پہلے نیند سے

میں جن کو چھوڑ آیا تھا شناسائی کی بستی کے وہ سارے راستے آواز دیتے ہیں نہیں معلوم اب کس واسطے آواز دیتے ہیں لہو میں خاک اڑتی ہے بدن خواہش بہ خواہش ڈھ رہا ہے اور نفس کی آمد و شد دل کی نا ہمواریوں پر بین کرتی ہے وہ سارے خواب ایک اک کر کے رخصت ہو چکے ہیں جن سے آنکھیں جاگتی تھیں اور ...

مزید پڑھیے

آخری آدمی کا رجز

مصاجبین شاہ مطمئن ہوئے کہ سرفراز سر بریدہ بازوؤں سمیت شہر کی فصیل پر لٹک رہے ہیں اور ہر طرف سکون ہے سکون ہی سکون ہے فغان خلق اہل طائفہ کی نذر ہو گئی متاع صبر وحشت دعا کی نذر ہو گئی امید اجر بے یقینیٔ جزا کی نذر ہو گئی نہ اعتبار حرف ہے نہ آبروئے خون ہے سکون ہی سکون ہے مصاحبین شاہ ...

مزید پڑھیے

بیلنس شیٹ

کسے خبر تھی ایک مسافر مستقبل زنجیر کرے گا اور سفر کے سب آداب بدل جائیں گے کسے یقیں تھا وقت کی رو جس دن مٹھی میں بند ہو گئی ساری آنکھیں سارے خواب بدل جائیں گے ہمیں خبر تھی ہمیں یقیں تھا تبھی تو ہم نے توڑ دیا تھا رشتۂ شہرت عام تبھی تو ہم نے چھوڑ دیا تھا شہر نمود و نام لیکن اب مرے اندر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 604 سے 960