شاعری

ایک خواب کی دوری پر

اک خواہش تھی کبھی ایسا ہو کبھی ایسا ہو کہ اندھیرے میں (جب دل وحشت کرتا ہو بہت جب غم شدت کرتا ہو بہت) کوئی تیر چلے کوئی تیر چلے جو ترازو ہو مرے سینے میں اک خواہش تھی کبھی ایسا ہو کبھی ایسا ہو کہ اندھیرے میں (جب نیندیں کم ہوتی ہوں بہت جب آنکھیں نم ہوتی ہوں بہت) سر آئینہ کوئی شمع ...

مزید پڑھیے

بدشگونی

عجب گھڑی تھی کتاب کیچڑ میں گر پڑی تھی چمکتے لفظوں کی میلی آنکھوں میں الجھے آنسو بلا رہے تھے مگر مجھے ہوش ہی کہاں تھا نظر میں اک اور ہی جہاں تھا نئے نئے منظروں کی خواہش میں اپنے منظر سے کٹ گیا ہوں نئے نئے دائروں کی گردش میں اپنے محور سے ہٹ گیا ہوں صلہ جزا خوف ناامیدی امید امکان بے ...

مزید پڑھیے

مکالمہ

''ہوا کے پردے میں کون ہے جو چراغ کی لو سے کھیلتا ہے کوئی تو ہوگا جو خلعت انتساب پہنا کے وقت کی رو سے کھیلتا ہے کوئی تو ہوگا حجاب کو رمز نور کہتا ہے اور پرتو سے کھیلتا ہے کوئی تو ہوگا'' ''کوئی نہیں ہے کہیں نہیں ہے یہ خوش یقینوں کے خوش گمانوں کے واہمے ہیں جو ہر سوالی سے بیعت اعتبار لیتے ...

مزید پڑھیے

پس نوشت

خداوند مجھے توفیق دے میں ایسے زندہ لفظ لکھوں جو نہ لکھوں میں تو دنیا بانجھ ہو جائے مگر پھر سوچتا ہوں اتنے زندہ لفظ لکھے جا چکے ہیں اور لکھے جا رہے ہیں میں بھی لکھ لوں گا تو کیا ہو جائے گا کیا یہ پرانا آدمی پھر سے نیا ہو جائے گا یا دوسرا ہو جائے گا

مزید پڑھیے

اور ہوا چپ رہی

شاخ زیتون پر کم سخن فاختاؤں کے اتنے بسیرے اجاڑے گئے اور ہوا چپ رہی بے کراں آسمانوں کی پہنائیاں بے نشیمن شکستہ پروں کی تگ و تاز پر بین کرتی رہیں اور ہوا چپ رہی زرد پرچم اڑاتا ہوا لشکر بے اماں گل زمینوں کو پامال کرتا رہا اور ہوا چپ رہی آرزو مند آنکھیں بشارت طلب دل دعاؤں کو اٹھے ہوئے ...

مزید پڑھیے

شہر آشوب

اے شہر رسن بستہ کیا یہ تری منزل ہے کیا یہ ترا حاصل ہے یہ کون سا منظر ہے کچھ بھی تو نہیں کھلتا کیا تیرا مقدر ہے تقدیر فصیل شہر کتبہ ہے کہ گلدستہ اے شہر رسن بستہ اب کوئی بھی خوابوں پر ایمان نہیں رکھتا کس راہ پہ جانا ہے کس راہ نہیں جانا پہچان نہیں رکھتا شاعر ہو کہ صورت گر باغوں کی ...

مزید پڑھیے

دعا

یہ جبر ماہ و سال میں گھری ہوئی زمیں مری گواہ ہے نشاط کی ابد کنار منزلوں میں ایک عمر سے میں ان کریم اور جمیل ساعتوں کا منتظر ہوں جن کی بازگشت سے مرے وجود کی صداقتوں کا انکشاف ہو خدا کرے بشارتیں سنانے والے خوش کلام طائروں کی ٹولیاں افق سے شاخ گل تلک علامت وصال کی لکیریں کھینچ ...

مزید پڑھیے

صحرا میں ایک شام

دشت بے نخیل میں باد بے لحاظ نے ایسی خاک اڑائی ہے کچھ بھی سوجھتا نہیں حوصلوں کا سائبان راستوں کے درمیان کس طرح اجڑ گیا کون کب بچھڑ گیا کوئی پوچھتا نہیں فصل اعتبار میں آتش غبار سے خیمہ دعا جلا دامن وفا جلا کس بری طرح جلا پھر بھی زندگی کا ساتھ ہے کہ چھوٹتا نہیں کچھ بھی سوجھتا ...

مزید پڑھیے

ایک سوال

میرے آبا و اجداد نے حرمت آدمی کے لیے تا ابد روشنی کے لیے کلمۂ حق کہا مقتلوں قید خانوں صلیبوں میں بہتا لہو ان کے ہونے کا اعلان کرتا رہا وہ لہو حرمت آدمی کی ضمانت بنا تا ابد روشنی کی علامت بنا اور میں پا برہنہ سر کوچۂ احتیاج رزق کی مصلحت کا اسیر آدمی سوچتا رہ گیا جسم میں میرے ان کا ...

مزید پڑھیے

ایک رخ

وہ فرات کے ساحل پر ہوں یا کسی اور کنارے پر سارے لشکر ایک طرح کے ہوتے ہیں سارے خنجر ایک طرح کے ہوتے ہیں گھوڑوں کی ٹاپوں میں روندی ہوئی روشنی دریا سے مقتل تک پھیلی ہوئی روشنی سارے منظر ایک طرح کے ہوتے ہیں ایسے ہر منظر کے بعد اک سناٹا چھا جاتا ہے یہ سناٹا طبل و علم کی دہشت کو کھا جاتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 605 سے 960