شاعری

مکان و زماں

مرے ساتھ چلتی ہے تنہائی بھی تیرگی بھی میں پھیلا ہوا ہوں یہاں سے وہاں تک خلا سے خلا تک خلا جو اندھیرا ہے تنہائیوں کا خلا جو بسیرا ہے گہرائیوں کا خلا میرا ساتھی خلا میرا پرتو خلا میرا سایہ خلا دوسرا رخ ہے میری جہت کا کہ میں وقت ہوں اور وقت لا انتہا ہے خلاؤں کی مانند نئی سمت ہوں میں ...

مزید پڑھیے

تاریک پہلو

مری دسترس میں ستارے بھی سورج بھی اور کہکشاں بھی مری دسترس میں ہوائیں بھی طوفان بھی بجلیاں بھی مری دسترس میں سمندر بھی صحرا بھی کہسار بھی گلستاں بھی مری دسترس میں بہاریں بھی موسم بھی قوس قزح بھی مری دسترس میں گلوں کی مہک بھی ہے کلیوں کی رعنائیاں بھی مری دسترس میں نم آلود ہونٹوں ...

مزید پڑھیے

ذرہ

مجھے بانٹ کر کیا کرو گے میں ذرہ ہوں ذرے کا جز کیا کرو گے مگر میرے یارو جو تم مجھ کو آزاد کر دو حصار بدن سے تو اک موج بن جاؤں گا میں توانائی میں غم کی تبدیل ہو جاؤں گا میں نئی شکل پا کر تمہارے بہت کام آؤں گا میں

مزید پڑھیے

گرمی کا موسم

مئی کا آن پہنچا ہے مہینہ بہا چوٹی سے ایڑی تک پسینا بجے بارہ تو سورج سر پہ آیا ہوا پیروں تلے پوشیدہ سایا چلی لو اور تڑاقے کی پڑی دھوپ لپٹ ہے آگ کی گویا کڑی دھوپ زمیں ہے یا کوئی جلتا توا ہے کوئی شعلہ ہے یا پچھوا ہوا ہے در و دیوار ہیں گرمی سے تپتے بنی آدم ہیں مچھلی سے تڑپتے پرندے اڑ کے ...

مزید پڑھیے

تھوڑا تھوڑا مل کر بہت ہو جاتا ہے

بنایا ہے چڑیوں نے جو گھونسلہ سو ایک ایک تنکا اکٹھا کیا گیا ایک ہی بار سورج نہ ڈوب مگر رفتہ رفتہ ہوا ہے غروب قدم ہی قدم طے ہوا ہے سفر گئیں لحظے لحظے میں عمریں گزر سمندر کی لہروں کا تانتا سدا کنارے سے ہے آ کے ٹکرا رہا سمندر سے دریا سے اٹھتی ہے موج سدا کرتی رہتی ہے دھاوا یہ فوج کراروں ...

مزید پڑھیے

ہماری گائے

رب کا شکر ادا کر بھائی جس نے ہماری گائے بنائی اس مالک کو کیوں نہ پکاریں جس نے پلائیں دودھ کی دھاریں خاک کو اس نے سبزہ بنایا سبزے کو پھر گائے نے کھایا کل جو گھاس چری تھی بن میں دودھ بنی اب گائے کے تھن میں سبحان اللہ دودھ ہے کیسا تازہ گرم سفید اور میٹھا دودھ میں بھیگی روٹی میری اس کے ...

مزید پڑھیے

رات

گیا دن ہوئی شام آئی ہے رات خدا نے عجب شے بنائی ہے رات نہ ہو رات تو دن کی پہچان کیا اٹھائے مزہ دن کا انسان کیا ہوئی رات خلقت چھٹی کام سے خموشی سی چھائی سر شام سے لگے ہونے اب ہاٹ بازار بند زمانے کے سب کار بہوار بند مسافر نے دن بھر کیا ہے سفر سر شام منزل پہ کھولی کمر درختوں کے پتے بھی ...

مزید پڑھیے

ایک پودا اور گھاس

اتفاقاً ایک پودا اور گھاس باغ میں دونوں کھڑے ہیں پاس پاس گھاس کہتی ہے کہ اے میرے رفیق کیا انوکھا اس جہاں کا ہے طریق ہے ہماری اور تمہاری ایک ذات ایک قدرت سے ہے دونوں کی حیات مٹی اور پانی ہوا اور روشنی واسطے دونوں کے یکساں ہے بنی تجھ پہ لیکن ہے عنایت کی نظر پھینک دیتے ہیں مجھے جڑ ...

مزید پڑھیے

کورانہ انگریز پرستی

رہا وہ جرگہ جسے چر گئی ہے انگریزی سو واں خدا کی ضرورت نہ انبیا درکار وہ آنکھ میچ کے بر خود غلط بنے ایسے کہ ایشیا کی ہر اک چیز پر پڑی دھتکار جو پوششوں میں ہے پوشش تو پس دریدہ کوٹ سواریوں میں سواری تو دم کٹا رہوار جو اردلی میں ہے کتا تو ہاتھ میں اک بید بجاتے جاتے ہیں سیٹی سلگ رہا ہے ...

مزید پڑھیے

دال کی فریاد

ایک لڑکی بگھارتی ہے دال دال کرتی ہے عرض یوں احوال ایک دن تھا ہری بھری تھی میں ساری آفات سے بری تھی میں تھا ہرا کھیت میرا گہوارہ وہ وطن تھا مجھے بہت پیارا پانی پی پی کے تھی میں لہراتی دھوپ لیتی کبھی ہوا کھاتی مینہ برستا تھا جھونکے آتے تھے گودیوں میں مجھے کھلاتے تھے یہی سورج زمیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 580 سے 960