شاعری

سچ کہو

سچ کہو سچ کہو ہمیشہ سچ ہے بھلے مانسوں کا پیشہ سچ سچ کہو گے تو تم رہوگے عزیز سچ تو یہ ہے کہ سچ ہے اچھی چیز سچ کہو گے تو تم رہوگے شاد فکر سے پاک رنج سے آزاد سچ کہو گے تم رہوگے دلیر جیسے ڈرتا نہیں دلاور شیر سچ سے رہتی ہے تقویت دل کو سہل کرتا ہے سخت مشکل کو سچ ہے سارے معاملوں کی جان سچ سے ...

مزید پڑھیے

چھوٹے کام کا بڑا نتیجہ

ایک بچہ کہ ابھی کچھ اسے تمییز نہ تھی لہو و بازی سے پسندیدہ کوئی چیز نہ تھی کھیلنا کودنا کھانا یہی معمول تھا بس انہیں طفلانہ تمناؤں میں مشغول تھا بس ایک تالاب تھا دو چار قدم گھر سے پرے دل میں لہر آئی لب آب ذرا سیر کرے صاف پانی سے جو تالاب کو پایا لبریز کھیل کا شوق طبیعت میں ہوا اور ...

مزید پڑھیے

صبح کا ترانہ

خبر دن کے آنے کی میں لا رہی ہوں اجالا زمانے میں پھیلا رہی ہوں بہار اپنی مشرق سے دکھلا رہی ہوں پکارے گلے صاف چلا رہی ہوں اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں اذاں پر اذاں مرغ دینے لگا ہے خوشی سے ہر اک جانور بولتا ہے درختوں کے اوپر عجب چہچہا ہے سہانا ہے وقت اور ٹھنڈی ہوا ہے اٹھو سونے ...

مزید پڑھیے

ہوا چلی

ہونے کو آئی صبح تو ٹھنڈی ہوا چلی کیا دھیمی دھیمی چال سے یہ خوش ادا چلی لہرا دیا ہے کھیت کو ہلتی ہیں بالیاں پودے بھی جھومتے ہیں لچکتی ہیں ڈالیاں پھلواریوں میں تازہ شگوفے کھلا چلی سویا ہوا تھا سبزہ اسے تو جگا چلی سر سبز ہوں درخت نہ باغوں میں تجھ بغیر تیرے ہی دم قدم سے ہے بھاتی ...

مزید پڑھیے

شفق

شفق پھولنے کی بھی دیکھو بہار ہوا میں کھلا ہے عجب لالہ زار ہوئی شام بادل بدلتے ہیں رنگ جنہیں دیکھ کر عقل ہوتی ہے دنگ نیا رنگ ہے اور نیا روپ ہے ہر اک روپ میں یہ وہی دھوپ ہے طبیعت ہے بادل کی رنگت پہ لوٹ سنہری لگائی ہے قدرت نے گوٹ ذرا دیر میں رنگ بدلے کئی بنفشی و نارنجی و چمپئی یہ کیا ...

مزید پڑھیے

بارش کا پہلا قطرہ

گھنگھور گھٹا تلی کھڑی تھی پر بوند ابھی نہیں پڑی تھی ہر قطرہ کے دل میں تھا یہ خطرہ ناچیز ہوں میں غریب قطرہ تر مجھ سے کسی کا لب نہ ہوگا میں اور کی گوں نہ آپ جوگا کیا کھیت کی میں بجھاؤں گا پیاس اپنا ہی کروں گا ستیاناس خالی ہاتھوں سے کیا سخاوت پھیکی باتوں میں کیا حلاوت کس برتے پہ میں ...

مزید پڑھیے

چڑیا کے بچے

دو تین چھوٹے بچے چڑیا کے گھونسلے میں چپ چاپ لگ رہے ہیں سینے سے اپنی ماں کے چڑیا نے مامتا سے پھیلا کے دونوں بازو اپنے پروں کے اندر بچوں کو ڈھک لیا ہے اس طرح روزمرہ کرتی ہے ماں حفاظت سردی سے اور ہوا سے رکھتی ہے گرم ان کو لیکن چڑا گیا ہے چگا تلاش کرنے دانہ کہیں کہیں سے پوٹے میں اپنے ...

مزید پڑھیے

صبح کی آمد

خبر دن کے آنے کی میں لا رہی ہوں اجالا زمانہ میں پھیلا رہی ہوں بہار اپنی مشرق سے دکھلا رہی ہوں پکارے گلے صاف چلا رہی ہوں اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں میں سب کار بہوار کے ساتھ آئی میں رفتار و گفتار کے ساتھ آئی میں باجوں کی جھنکار کے ساتھ آئی میں چڑیوں کی چہکار کے ساتھ آئی اٹھو ...

مزید پڑھیے

ہوا اور سورج کا مقابلہ

اک مسافر اپنی دھن میں تھا رواں اس کو ان دونوں نے تاکا ناگہاں ہو گئے آپس میں طے قول و قرار جو لبادہ لے مسافر کا اتار بس اسی کے نام کا ڈنکا بجے سر پہ دستار فضیلت وہ سجے پھر تو آندھی بن کے چل نکلی ہوا ایسی بپھری کر دیا طوفاں بپا اونچے اونچے پیڑ تھرانے لگے جھوک سے جھوکوں کی چرانے ...

مزید پڑھیے

کچھوا اور خرگوش

ایک کچھوے کے آ گئی جی میں کیجئے سیر و گشت خشکی کی جا رہا تھا چلا ہوا خاموش اس سے ناحق الجھ پڑا خرگوش میاں کچھوے! تمہاری چال ہے یہ یا کوئی شامت اور وبال ہے یہ یوں قدم پھونک پھونک دھرتے ہو گویا اتو زمیں پہ دھرتے ہو کیوں ہوئے چل کے مفت میں بد نام بے چلے کیا اٹک رہا تھا کام تم کو یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 581 سے 960