شاعری

زندگی

تمتمائے ہوئے عارض پہ یہ اشکوں کی قطار مجھ سے اس درجہ خفا آپ سے اتنی بیزار میں نے کب تیری محبت سے کیا ہے انکار مجھ کو اک لمحہ کبھی چین بھی آیا تجھ بن عشق ہی ایک حقیقت تو نہیں ہے لیکن زندگی صرف محبت تو نہیں ہے انجم سوچ دنیا سے الگ بھاگ کے جائیں گے کہاں اپنی جنت بھی بسائیں تو بسائیں ...

مزید پڑھیے

گرلز کالج کی لاری

فضاؤں میں ہے صبح کا رنگ طاری گئی ہے ابھی گرلز کالج کی لاری گئی ہے ابھی گونجتی گنگناتی زمانے کی رفتار کا راگ گاتی لچکتی ہوئی سی چھلکتی ہوئی سی بہکتی ہوئی سی مہکتی ہوئی سی وہ سڑکوں پہ پھولوں کی دھاری سی بنتی ادھر سے ادھر سے حسینوں کو چنتی جھلکتے وہ شیشوں میں شاداب چہرے وہ کلیاں سی ...

مزید پڑھیے

آخری ملاقات

مت روکو انہیں پاس آنے دو یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں دو پاؤں بنے ہریالی پر ایک تتلی بیٹھی ڈالی پر کچھ جگمگ جگنو جنگل سے کچھ جھومتے ہاتھی بادل سے یہ ایک کہانی نیند بھری اک تخت پہ بیٹھی ایک پری کچھ گن گن کرتے پروانے دو ننھے ننھے ...

مزید پڑھیے

حسیں آگ

تیری پیشانیٔ رنگیں میں جھلکتی ہے جو آگ تیرے رخسار کے پھولوں میں دمکتی ہے جو آگ تیرے سینے میں جوانی کی دہکتی ہے جو آگ زندگی کی یہ حسیں آگ مجھے بھی دے دے تیری آنکھوں میں فروزاں ہیں جوانی کے شرار لب گل رنگ پہ رقصاں ہیں جوانی کے شرار تیری ہر سانس میں غلطاں ہیں جوانی کے شرار زندگی کی ...

مزید پڑھیے

خاموش آواز

کتنے دن میں آئے ہو ساتھی میرے سوتے بھاگ جگانے مجھ سے الگ اس ایک برس میں کیا کیا بیتی تم پہ نہ جانے دیکھو کتنے تھک سے گئے ہو کتنی تھکن آنکھوں میں گھلی ہے آؤ تمہارے واسطے ساتھی اب بھی مری آغوش کھلی ہے چپ ہو کیوں؟ کیا سوچ رہے ہو آؤ سب کچھ آج بھلا دو آؤ اپنے پیارے ساتھی پھر سے مجھے اک ...

مزید پڑھیے

تجزیہ

میں تجھے چاہتا نہیں لیکن پھر بھی جب پاس تو نہیں ہوتی خود کو کتنا اداس پاتا ہوں گم سے اپنے حواس پاتا ہوں جانے کیا دھن سمائی رہتی ہے اک خموشی سی چھائی رہتی ہے دل سے بھی گفتگو نہیں ہوتی میں تجھے چاہتا نہیں لیکن میں تجھے چاہتا نہیں لیکن پھر بھی رہ رہ کے میرے کانوں میں گونجتی ہے تری ...

مزید پڑھیے

بگولا

جون کا تپتا مہینہ تمتماتا آفتاب ڈھل چکا ہے دن کے سانچے میں جہنم کا شباب دوپہر اک آتش سیال برساتی ہوئی سینۂ کہسار میں لاوا سا پگھلاتی ہوئی وہ جھلستی گھاس وہ پگڈنڈیاں پامال سی نہر کے لب خشک سے ذروں کی آنکھیں لال سی چلچلاتی دھوپ میں میدان کو چڑھتا بخار آہ کے مانند اٹھتا ہلکا ہلکا ...

مزید پڑھیے

لوح مزار

ڈھل چکا دن اور تیری قبر پر دیر سے بیٹھا ہوا ہوں سرنگوں روح پر طاری ہے اک مبہم سکوت اب وہ سوز غم نہ وہ ساز جنوں مستقل محسوس ہوتا ہے مجھے جیسے تیرے ساتھ میں بھی دفن ہوں

مزید پڑھیے

خاک دل

لکھنؤ میرے وطن میرے چمن زار وطن تیرے گہوارۂ آغوش میں اے جان بہار اپنی دنیائے حسیں دفن کیے جاتا ہوں تو نے جس دل کو دھڑکنے کی ادا بخشی تھی آج وہ دل بھی یہیں دفن کیے جاتا ہوں دفن ہے دیکھ مرا عہد بہاراں تجھ میں دفن ہے دیکھ مری روح گلستاں تجھ میں میری گل پوش جواں سال امنگوں کا سہاگ میری ...

مزید پڑھیے

وداع

مجھے پانیوں پہ رقم کرو کہ مری بساط غبار ہے جو نشانیاں ہیں مری یہاں انہیں بحر گرد میں ضم کرو مرے آنسوؤں مرے قہقہوں کو خیال و خواب کا نام دو مری قربتوں کے گھنے شجر کو خزاں کا کوئی پیام دو کہ نہاں اسی میں فرار ہے کہ مری بساط غبار ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 576 سے 960