فریادات
فاصلے کی تو خیر بات ہے اور حیدرآباد دل سے دور نہیں دلی میں یوں زبان پہ آئی دکن کی بات صحرا میں چھیڑ دیوے کوئی جیسے چمن کی بات بزم خرد میں چھڑ تو گئی ہے دکن کی بات اب عشق لے کے آئے گا دار و رسن کی بات اک حسن دکن تھا جو نگاہوں سے نہ چھوٹا ہر حسن کو ورنہ بخدا چھوڑ گئے ہم آزادؔ ایک پل ...