شاعری

فریادات

فاصلے کی تو خیر بات ہے اور حیدرآباد دل سے دور نہیں دلی میں یوں زبان پہ آئی دکن کی بات صحرا میں چھیڑ دیوے کوئی جیسے چمن کی بات بزم خرد میں چھڑ تو گئی ہے دکن کی بات اب عشق لے کے آئے گا دار و رسن کی بات اک حسن دکن تھا جو نگاہوں سے نہ چھوٹا ہر حسن کو ورنہ بخدا چھوڑ گئے ہم آزادؔ ایک پل ...

مزید پڑھیے

تماشے والا

آؤ بچو دو پیسے میں دنیا بھر کی سیر کرو نظارے دکھلانے والا جگ کی سیر کرانے والا ڈبہ اپنے سر پہ اٹھائے گلی گلی میں جانے والا آج تمہارے گھر کے باہر رنگ جمانے آیا دو پیسے میں دنیا بھر کی سیر کرانے آیا آؤ بچو دو پیسے میں دنیا بھر کی سیر کرو اس نے ڈبہ لا کر رکھا تم نے اک شیشے میں ...

مزید پڑھیے

اے دل بے قرار دیکھ

دامن لالہ زار میں عالم پر بہار دیکھ کلۂ کوہسار پر جلوۂ زرنگار دیکھ آب رواں کی بات کیا خاک پہ ہے نکھار دیکھ اے دل بے قرار دیکھ دیکھ نشاط باغ میں جلوۂ صبح کا سماں کیف و نشاط ہے زمیں نور و سرور آسماں آہ یہ منظر جمیل ہائے یہ جاں فزا سماں اوج فلک سے ہے رواں نور کا آبشار دیکھ اے دل بے ...

مزید پڑھیے

سیر کشمیر کا ایک تأثر

آزادؔ! ذرا دیکھ تو یہ عالم ارژنگ موسم کے یہ انداز بہاروں کے یہ نیرنگ یہ حسن، یہ ترتیب، یہ تزئین یہ آہنگ دامان خرد چاک ہے دامان نظر تنگ ہر ذرہ ہے دامن میں لیے طور کی دنیا ہر بات میں اک بات ہے ہر رنگ میں سو رنگ اے روح بشر! تجھ سے ہیں دونوں متکلم سبزے کی خموشی ہے کہ جھرنوں کا ہے آہنگ اب ...

مزید پڑھیے

چاند پہ جا پہنچا انسان

جو بھی مشکل راہ میں آئی پل میں تھی آسان اپنی ہمت سے انساں نے مارا وہ میدان مٹی بولی میرے دل کا نکلا آج ارمان چاند پہ جا پہنچا انسان راکٹ ایک اڑا دھرتی سے اور ہوا میں پہنچا اس کو ہوا سے کیا لینا تھا دور فضا میں پہنچا اس سے بھی کچھ آگے نکلا اور خلا میں پہنچا ہمت میں تجھ پر قربان چاند ...

مزید پڑھیے

گرمیاں آ گئیں

ذرے ذرے پہ بجلی سی برسا گئیں چلتے چلتے جو پنکھا ذرا رک گیا جس کو بھی چھو لیا اس کو گرما گئیں جھٹ پسینے کا دریا سا بہنے لگا گرمیاں آ گئیں گرمیاں آ گئیں گرمیاں آ گئیں گرمیاں آ گئیں ٹھنڈی ٹھنڈی ہواؤں کا موسم گیا گرم پانی ہے کوئی پیے کس طرح کالی کالی گھٹاؤں کا موسم گیا اور نہ پانی پیے ...

مزید پڑھیے

احساس ندامت

میں اس خیال میں تھا بجھ چکی ہے آتش درد بھڑک رہی تھی مرے دل میں جو زمانے سے میں اس خیال میں تھا ہو چکی ہے آگ وہ سرد وہ ایک شعلۂ درد آفریں متاع حیات میں اس خیال میں تھا میں اسے بچا نہ سکا گماں یہ تھا کہ وہ اک شعلۂ حیات افروز ہوائے پیرس و لندن کی تاب لا نہ سکا میں سوچتا تھا کہ شاید ...

مزید پڑھیے

خواب کی طرح سے یاد ہے

خواب کی طرح سے ہے یاد کہ تم آئے تھے جس طرح دامن مشرق میں سحر ہوتی ہے ذرے ذرے کو تجلی کی خبر ہوتی ہے اور جب نور کا سیلاب گزر جاتا ہے رات بھر ایک اندھیرے میں بسر ہوتی ہے کچھ اسی طرح سے ہے یاد کہ تم آئے تھے جیسے گلشن میں دبے پاؤں بہار آتی ہے پتی پتی کے لیے لے کے نکھار آتی ہے اور پھر وقت ...

مزید پڑھیے

یورپ کی پہلی جھلک

باد و باراں سے الجھتا خندہ زن گرداب پر اک جزیرہ تیرتا جاتا ہے سطح آب پر گم کئی صدیوں کا اس میں جذبۂ تحقیق ہے یہ جزیرہ آدمی کے ذہن کی تخلیق ہے جا رہا ہے ہر گھڑی موجوں سے ٹکراتا ہوا اپنے ہی انداز میں اپنا رجز گاتا ہوا بحر کی امواج پر بہتے ہوئے شہر جمیل ہر قدم تیرا لیے ہے تیری عظمت کی ...

مزید پڑھیے

نیپولین کے مزار پر

کتنی روشن کیوں نہ ہو آزادؔ آخر ایک دن شمع ہستی موت کے جھونکوں سے گل ہو جائے گی جیسے گہوارے میں سو جاتا ہے طفل شیر خوار زیست آغوش اجل میں اس طرح سو جائے گی ماہ و اختر ہیں خجل جس سے وہ چنگاری ضرور اک نہ اک دن عالم ظلمات میں کھو جائے گی لیکن اس ظلمت کدے میں ایک نور ایسا بھی ہے گردش ایام ...

مزید پڑھیے
صفحہ 574 سے 960