شاعری

بھارت کے مسلمان

اس دور میں تو کیوں ہے پریشان و ہراساں کیا بات ہے کیوں ہے متزلزل تیرا ایماں دانش کدۂ دہر کی اے شمع فروزاں اے مطلع تہذیب کے خورشید درخشاں حیرت ہے گھٹاؤں میں تیرا نور ہو ترساں بھارت کے مسلماں تو درد محبت کا طلب گار ازل سے تو مہر و مروت کا پرستار ازل سے تو محرم ہر لذت اسرار ازل ...

مزید پڑھیے

سن لو ایک کہانی بچو

سن لو ایک کہانی بچو سن لو ایک کہانی تین برس کی اک بچی ہے نام ہے جس کا پونم لیکن سب بچوں نے اس کا نام رکھا ہے رانی سن لو ایک کہانی بچو سن لو ایک کہانی اس کے سر کی ٹوپی لال ہے بوٹ ہیں اس کے کالے کوٹ ہے اس کا رنگ برنگا کرتا اس کا دھانی سن لو ایک کہانی بچو سن لو ایک کہانی بسکٹ کے دھوکے ...

مزید پڑھیے

سبھاش چندر بوس بہادر شاہ ظفر کے مزار پر

السلام اے عظمت‌ ہندوستاں کی یادگار اے شہنشاہ دیار دل فقیر بے دیار آج پہلی بار تیری قبر پر آیا ہوں میں بے نوا ہوں نذر کو بے لوث دل لایا ہوں میں گردش تقدیر کے ہاتھوں وطن سے دور ہوں ایک بلبل ہوں مگر صحن چمن سے دور ہوں شوق آزادی کا مجھ کو کھینچ لایا ہے یہاں آج دشمن ہے زمیں میری عدو ...

مزید پڑھیے

جنون وفا

وہ خاک بوئے تھے حالات نے شرر جس میں اب اس میں پھول تمنا کے کھلنے والے ہیں ہوئے تھے جن کے سبب چاک چاک سینۂ دل وہ چاک اب انہیں ہاتھوں سے سلنے والے ہیں جو دوست الجھے تھے آپس میں دشمنوں کی طرح پھر ایک بار وہ آپس میں ملنے والے ہیں دیار روس ہمارا سلام جاں ہو قبول کہ راہ شوق کو آساں بنا ...

مزید پڑھیے

موہوم افسانے

وہ افسانے کیا ہے چاند تاروں کا سفر جن میں یہ دنیا ایک دھندلی گیند آتی ہے نظر جن میں وہ جن میں ملک برق و باد تک تسخیر ہوتا ہے جہاں اک شب میں سونے کا محل تعمیر ہوتا ہے اچھوتے ساحلوں کے وہ سحر آلود ویرانے طلسمی قصر میں گمنام شہزادی کے افسانے وہ افسانے جو راتیں چاند کے بربط پہ گاتی ...

مزید پڑھیے

روشنیاں

آج بھی کتنی ان گنت شمعیں میرے سینے میں جھلملاتی ہیں کتنے عارض کی جھلکیاں اب تک دل میں سیمیں ورق لٹاتی ہیں کتنے ہیرا تراش جسموں کی بجلیاں دل میں کوند جاتی ہیں کتنی تاروں سے خوش نما آنکھیں میری آنکھوں میں مسکراتی ہیں کتنے ہونٹوں کی گل فشاں آنچیں میرے ہونٹوں میں سنسناتی ہیں کتنی ...

مزید پڑھیے

مزدور عورتیں

گلنار دیکھتی ہے یہ مزدور عورتیں چہروں پہ خاک دھول کے پونچھے ہوئے نشاں تو اور رنگ غازہ و گلگونہ و شہاب سوچا بھی کس کے خون کی بنتی ہیں سرخیاں گلنار دیکھتی ہے یہ مزدور عورتیں میلے پھٹے لباس ہیں محروم شست و شو تو اور عطر و عنبر و مشک و عبیر و عود مزدور کے بھی خون کی آتی ہے اس میں ...

مزید پڑھیے

آخری لمحہ

تم مری زندگی میں آئی ہو میرا اک پاؤں جب رکاب میں ہے دل کی دھڑکن ہے ڈوبنے کے قریب سانس ہر لحظہ پیچ و تاب میں ہے ٹوٹتے بے خروش تاروں کی آخری کپکپی رباب میں ہے کوئی منزل نہ جادۂ منزل راستہ گم کسی سراب میں ہے تم کو چاہا کیا خیالوں میں تم کو پایا بھی جیسے خواب میں ہے تم مری زندگی میں آئی ...

مزید پڑھیے

عالم کتنے

اف یہ شبنم سے چھلکتے ہوئے پھولوں کے ایاغ اس چمن میں ہیں ابھی دیدۂ پر نم کتنے کتنے غنچے ہیں جگر چاک گلستاں میں ابھی ہر طرف زخم ہیں بے منت مرہم کتنے کتنے سینوں میں شکستہ ہیں ابھی دل کے رباب لب خاموش پہ ہیں نغمۂ ماتم کتنے کتنے ماتھوں کے ابھی سرد ہیں رنگین گلاب گرد افشاں ہیں ابھی ...

مزید پڑھیے

حوا کی بیٹی

شدت افلاس سے جب زندگی تھی تجھ پہ تنگ اشتہا کے ساتھ تھی جب غیرت و عصمت کی جنگ گھات میں تیری رہا یہ خود غرض سرمایہ دار کھیلتا ہے جو برابر نوع انساں کا شکار رفتہ رفتہ لوٹ لی تیری متاع آبرو خوب چوسا تیری رگ رگ سے جوانی کا لہو کھیلتے ہیں آج بھی تجھ سے یہی سرمایہ دار یہ تمدن کے خدا تہذیب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 575 سے 960