میری زندگی کے دو رخ
ایک رخ ساز دروں سے جل نہ اٹھیں جسم و جاں کہیں رگ رگ نہ میری پھونک دے قلب تپاں کہیں گم صم ہوں اور ششدر و حیراں کچھ اس طرح جیسے کہ کھو چکا ہوں میں روح رواں کہیں اس ناؤ کی طرح ہوں میں موجوں کے رحم پر لنگر ہو جس کے ٹوٹے کہیں بادباں کہیں یا مست ناز سرو سا کوئی نہال سبز آ جائے ضد میں برق ...