شاعری

میری زندگی کے دو رخ

ایک رخ ساز دروں سے جل نہ اٹھیں جسم و جاں کہیں رگ رگ نہ میری پھونک دے قلب تپاں کہیں گم صم ہوں اور ششدر و حیراں کچھ اس طرح جیسے کہ کھو چکا ہوں میں روح رواں کہیں اس ناؤ کی طرح ہوں میں موجوں کے رحم پر لنگر ہو جس کے ٹوٹے کہیں بادباں کہیں یا مست ناز سرو سا کوئی نہال سبز آ جائے ضد میں برق ...

مزید پڑھیے

کالی داس

جہان علم کو تسلیم ہے وقار ترا ادب کے پھولوں سے دامن ہے لالہ زار ترا چمن میں یوں تو بہار آتی جاتی رہتی ہے مگر سخن کا ہے گلشن سدا بہار ترا جمال حسن کی دنیا میں کھو گیا ہے وہ پڑھا کلام ہے جس نے بھی ایک بار ترا نظر فروز وہ معنی وہ دل کشا الفاظ کہ ہے بیاض کا ہر صفحہ زرنگار ترا تری ...

مزید پڑھیے

نوحہ

زندگی بہتی رہی آب رواں کی مانند کبھی ہلکی سی کبھی خواب گراں کی مانند وقت کی لہروں پے معصوم سا چہرہ ابھرا اور پھر ہو گیا گم وہم و گماں کی مانند دل ربا چہرے پہ کیوں چھایا قضا کا سایا کیوں بہاروں کا ہوا رنگ خزاں کے مانند ہو گئی کیوں وہ چہکتی ہوئی بلبل خاموش کیوں گرا پھول جو گلشن ...

مزید پڑھیے

اے باد صبا چل

یوں آئے ہیں گھر گھر کے یہ دکھ درد کے بادل تاریک فضاؤں میں گھلا جیسے ہو کاجل بے چین ہیں بے تاب ہیں بے آس ہیں بے کل لہرا دے ذرا آ کے تو امید کا آنچل اے باد صبا باد صبا باد صبا چل گلشن میں نہ وہ رنگ نہ وہ روپ رہا ہے غنچے کی نہ اب آنکھ میں وہ کیف بھرا ہے کب پھول کے سینے میں دھڑکنے کی صدا ...

مزید پڑھیے

ایک رقاصہ کو دیکھ کر

دل کے بجھے چراغ جلاتی چلی گئی قدموں سے سوئے فتنے جگاتی چلی گئی شعلہ تھا وہ لپکتا ہوا یا کہ برق تھی رگ رگ میں آگ سی وہ لگاتی چلی گئی یا جسم کو وہ خم کہ کماں کام دیو کی کس کس ادا سے تیر چلاتی چلی گئی پھولوں کی ڈالیوں کی لچک بازوؤں میں تھی بل نازکی کے بوجھ سے کھاتی چلی گئی نظم حسیں ...

مزید پڑھیے

یوم آزادی

چمن میں ناز سے اٹھکھیلیاں کرتی بہار آئی گلوں کا پیرہن پہنے وہ جان انتظار آئی چمن والے سبھی فرط مسرت سے پکار اٹھے بہار آئی بہار آئی بہار آئی بہار آئی کہیں کلیوں کو چھیڑا ہے کہیں پھولوں کو چوما ہے گلے مل مل کے پتوں سے وہ یوں روٹھی بہار آئی نصیبہ جاگ اٹھا پھر سبھی اہل گلستاں ...

مزید پڑھیے

اپنی والدہ کی یاد میں

کہاں گیا وہ زمانہ کہ جس کی یاد میں آج بھلائے بیٹھا ہوں خود کو پتا نہیں ملتا گئی کہاں ہے وہ اب صورتیں محبت کی زمانے بھر میں کہیں نقش پا نہیں ملتا میں پوچھوں کس سے پتا اور کہاں کہاں ڈھونڈوں وہاں کا کوئی بھی آیا گیا نہیں ملتا وہ اسپتال کی شب بھی تھی کیا قیامت کی وہاں قفس سے جو طائر ...

مزید پڑھیے

بلیک آؤٹ کی آخری رات

اب ہم جان گئے ہیں کہ اندھیرے ہمارا مقدر نہیں تھے بلکہ تم نے شہر کی تمام اسٹریٹ لائٹس بجھا دی تھیں ہمارا فرسٹریشن تمہاری مکاری ہے کہ ہم سے محبت اور جنس کی سچی مسرتیں چھین کر تم نے ہمیں بلیو فلم کا عادی بنا دیا ہمارے حشیش بھرے سگریٹوں کا دھواں تمہاری مشینوں کے عذاب اور ملوں کی ...

مزید پڑھیے

شیکسپئیر

اس طرح آج پھر آباد ہے ویرانۂ دل کہ ہے لبریز مئے شوق سے پیمانۂ دل دل بے تاب میں پنہاں ہے ہر ارمان نظر چشم مشتاق میں ہے سرخیٔ افسانۂ دل آج شمعوں سے یہ کہہ دو کہ خبردار رہیں آج بے دار ہے خاکستر پروانۂ دل اس کو ہے ایک فقط دیکھنے والا درکار طور سے کم تو نہیں جلوۂ جانانۂ دل جاگ بھی ...

مزید پڑھیے

تیری یاد

رات پھر تیرے خیالوں نے جگایا مجھ کو ٹمٹماتی ہوئی یادوں کا ذرا سا شعلہ آج بھڑکا تو پھر اک شعلۂ جوالہ بنا عقل نے تجھ کو بھلانے کے کیے لاکھ جتن لے گئے مجھ کو کبھی مصر کے بازاروں میں کبھی اٹلی کبھی اسپین کے گلزاروں میں بلجیم کے، کبھی ہالینڈ کے مے خانوں میں کبھی پیرس، کبھی لندن کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 573 سے 960