شاعری

شانتی

تمہارے آنگن میں روشنی ہو ہمارے گھر میں بھی زندگی ہو تمہارے بچے بھی مسکرائیں ہمارے بچے بھی رو نہ پائیں تمہیں بھی لب کھولنے کا حق ہو ہمیں بھی کچھ بولنے کا حق ہو تمہاری جنتا بھی پر سکوں ہو ہمیں بھی اک امن کا جنوں ہو تمہیں بھی چاہت کی جستجو ہو ہمیں بھی انسانیت کی خو ہو چلو اک ایسی ...

مزید پڑھیے

وطن

ترے کسان کے سینے میں حسرتوں کا ہجوم تری فضاؤں میں ہر بیٹی ماں بہن مغموم ترے غریب کی آنکھوں میں سیل اشک رواں تو اک وطن ہے کہ اجڑے ہوئے وطن کا نشاں کھنچی ہوئیں ترے ماتھے پہ اس قدر شکنیں کھڑی ہوئیں ترے سینے پہ اتنی دیواریں بہا ہے کتنا لہو آج تیرے دامن پر خزاں یہ کس نے بچھائی ہے تیرے ...

مزید پڑھیے

جھوٹ کے پاؤں

جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے صرف پاؤں ہی نہیں کوئی بھی عضو نہیں ہوتا سوائے زبان کے جو بڑی ڈھٹائی بے شرمی اور بے حیائی سے چلتی ہے ایوان بالا کے اندر اور باہر منچوں میں یا ٹی وی کے مذاکروں اخبار کی سرخیوں اور انٹرویوؤں میں تاکہ معصوم امن پسند سادہ لوح انسانوں کو ورغلا کر ہلاکت میں ڈال ...

مزید پڑھیے

میں جینا چاہتا ہوں مگر

میں جینا چاہتا ہوں مگر کیڑے مکوڑوں اور بے مایہ مخلوقات کی طرح رینگ رینگ کر نہیں! میں جینا چاہتا ہوں مگر اپنے باطن میں کلبلاتے شر پر ظاہری اخلاق کی ردا ڈال کر نہیں میں جینا چاہتا ہوں مگر ایسے نہیں کہ میرے وجود کے اندر بغض ہوس اور ریا کاری کی بارودی سرنگیں بچھی ہوں اور ہر لحظہ ہر ...

مزید پڑھیے

خود فریبی

چلو اچھا ہوا کہ میرے خواب کی یہ پھیلی دور تک دیوار تو ٹوٹی کہ اس میں ان گنت شبہات کے خود ساختہ بے کار سے پودے نکل آئیں دراڑیں بھی عداوت کی کئی گہری ابھر آئیں مگر اک بات تھی پھر بھی کبھی میں جب حقیقت کی چمکتی چلچلاتی دھوپ سے بیزار ہوتا اور جھلستا تو اس کے سائے میں گھڑی بھر کو پناہ ...

مزید پڑھیے

خود شناسی

میں اندھیرے کی پھیلی ہوئی کھائیوں میں جو گم ہو گیا ہوں تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ مجھ میں ضیا بار کرنوں کا فقدان ہے یا روشنی کی تمازت کو سہنے کا حامل نہیں ہوں حقیقت تو یہ ہے جسے روشنی کا تم منبع سمجھ کر ازل سے طواف مکرر میں مصروف ہو وہ تمہارے ہی اندر کی سمٹی ہوئی تاریکیوں کے سوا کچھ ...

مزید پڑھیے

واہمہ

ذرا دیکھو مری آنکھوں کے آنگن میں کہیں کچھ خواب کے منظر امیدوں کی ہری بیلیں تمناؤں کی روپہلی چمکتی دھوپ تو پھیلی نہیں ہے یا کہیں کوئی یہ بنجر سا خرابہ ہے جہاں شبہات کے آسیب بستے ہیں!

مزید پڑھیے

انتباہ

اے میرے بیٹو! میں سوچتی ہوں کہ قدموں سے میں اپنے تن کے حیات آگیں لہو کے چشمے بہا رہی ہوں تمہارے سارے نزار جسموں نحیف ذہنوں کی مردنی کو مٹا رہی ہوں ازل سے اپنے ضعیف چہرے کی آڑی ترچھی سی جھریوں کی لکیر میں تو اداس آنکھوں ملول پلکوں سے ٹپکے قطرے ملا رہی ہوں حسین خوابوں کے بوڑھے ...

مزید پڑھیے

ریت پر لکیریں

مرے سامنے آئنہ ہے کہ جس میں مجھے اپنی صورت نظر آ رہی ہے میں اپنے ہی چہرے پہ لکھی ہوئی داستانوں کو پڑھتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ جن اجتماعی مسائل کو میں نے نگاہوں کے پھیلے ہوئے کھنڈروں میں سمویا ہوا ہے انہیں کون سمجھے انہیں کون جانے مجھے مردہ نسلوں کے اسلوب سے ہٹ کے کہنے کی پاداش ...

مزید پڑھیے

بناوٹی دلاسے

یہ آگ پانی ہوا یہ مٹی یہ واہموں کی کرشمہ سازی یہ علم و فن کے تمام قصے یہ عقل و دانش کی ساری باتیں یہ سب دلاسے بناوٹی ہیں میں دوستوں دشمنوں کی زد میں ہوں ہر کوئی پیش گوئیوں کے دراز قصے سنا رہا ہے کہ سب کو اپنے کرنسی نوٹوں کی فکر ہے ہر کوئی طلب اور رسد کے چکر میں اپنے بھاؤ چڑھا رہا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 57 سے 960