میں نے اپنا وجود گٹھڑی میں باندھ لیا
چوتھی بار بنگال کی گاتی ندیا کے کنارے وہ مجھ پر منکشف ہوئی جہاں سنہری مچھلیاں نیلے سروں کو بلوتی تھیں اور روشنی بانٹتے پیڑ کلام کرتے تھے اس کی سحر پھونکتی آنکھ نے مجھے پرندہ بننے کا حکم دیا میں اس کے شانے کی ہری شاخ پر بیٹھ کر اپنا لحن ایجاد کرنے لگا اس کے ہرے بدن کا سایہ سوا ...