شاعری

میں نے اپنا وجود گٹھڑی میں باندھ لیا

چوتھی بار بنگال کی گاتی ندیا کے کنارے وہ مجھ پر منکشف ہوئی جہاں سنہری مچھلیاں نیلے سروں کو بلوتی تھیں اور روشنی بانٹتے پیڑ کلام کرتے تھے اس کی سحر پھونکتی آنکھ نے مجھے پرندہ بننے کا حکم دیا میں اس کے شانے کی ہری شاخ پر بیٹھ کر اپنا لحن ایجاد کرنے لگا اس کے ہرے بدن کا سایہ سوا ...

مزید پڑھیے

مجھے آزاد ہونا ہے

میں اپنی ذات کے زندان میں کب تک رہوں تنہا سہوں تنہا میں اپنے آپ کو کب تک بھلا کب تک اداسی اور تنہائی کے ان بے ذائقہ زخموں کو پیہم چاٹتا جاؤں مسلسل جاگتا جاؤں کہ حبس مستقل میں زندگی کرنے سے بہتر ہے میں اپنے خول سے باہر نکل آؤں کسی خودکش دھماکہ کرنے والے سے لپٹ جاؤں بکھر جاؤں مرے ...

مزید پڑھیے

پہلا قدم

کوئی ڈر تھا نہ فکر تھی کوئی ماں کی انگلی تھی میرے ہاتھوں میں زندگی کے سفر کا پہلا قدم آدھے پاؤں سے جب اٹھایا تھا کتنا خوش تھا میں کھلکھلایا تھا اور اک عمر ہو گئی اب تو ماں کی انگلی نہیں ہے ہاتھوں میں ہاں مگر راستہ گرفت میں ہے پورے پاؤں سے چل رہا ہوں میں پھر بھی گرنے سے ڈر رہا ہوں ...

مزید پڑھیے

ماں کی نصیحت

ایک چوہیا یہ بولی بیٹے سے تجھ سے آنکھیں مری ہوئیں روشن ہم یہاں کے پرانے ساکن ہیں کئی پشتوں کا گزرا ہے بچپن وہ جو اس گھر کا ہے بڑا دالان اس میں رہتے ہیں کھانے کے برتن پاس اک ٹوکری بھی رہتی ہے اس میں ہیں آلو گوبھی اور بیگن نعمتیں سو ہیں تیرے کھانے کو لیکن اے نور چشم و جان من اسی گھر ...

مزید پڑھیے

یاد فراموش

ہچکیاں آتی ہیں دل ڈوب رہا ہے شاید آج بھولے سے تمہیں یاد مری آئی ہے یاد ہے تم نے اک امردو جو کچا تھا ابھی نام سے میرے چنا تھا جس پر اپنے ہاتھوں سے سیہ کپڑا بھی باندھا تھا مگر جس کی لگنی تھی نظر لگ کے رہی کیا اسی پیڑ کے نیچے ہو ذرا سوچو تو بے ثمر شاخ لچکتی ہے تو کیا ہوتا ہے

مزید پڑھیے

فردا

زمانہ ساتھ چلا ہے تو ساتھ غم بھی چلے حیات و موت کے رشتہ میں ایک اور گرہ افق کے پاس سیاہی کی سرحدوں سے دور شفق کی گود میں کرنوں کی سانس ٹوٹ گئی تھکے تھکے سے مسافر ادھار کی پونجی جو کائنات کے ورثے کی اک خیانت ہے چلے ہیں لے کے کسی شاہراہ کی جانب

مزید پڑھیے

انقلاب

رات ڈھلتی ہے صبح ہوتی ہے کھول دو اب تو اٹھ کے دروازہ اس اندھیری سی کوٹھری میں آج وقت آیا ہے رہنے بسنے کو ایسے مہماں کا کیا بھروسہ ہے یہ دبے پاؤں لوٹ جائے گا

مزید پڑھیے

دو اجنبی

آج بھی صبح سے نکلے تھے کہیں کوئی امید کوئی آس نہیں کوئی وعدہ کوئی اقرار نہیں کون جانے کہ کہاں جاتے ہو روز آتے ہو چلے آتے ہو اجنبی دیس ہے پردیسی ہو کوئی رشتہ کوئی ناطہ بھی نہیں کوئی اپنا یا پرایا بھی نہیں نوکری یا کسی دھندے کے لئے کوئی نیتا یا کوئی افسر ہے کوئی فن کوئی ہنر آتا ...

مزید پڑھیے

خلوت

مجھے تم اپنی بانہوں میں جکڑ لو اور میں تم کو کسی بھی دل کشا جذبے سے یکسر نا شناسانہ نشاط رنگ کی سرشاریٔ حالت سے بیگانہ مجھے تم اپنی بانہوں میں جکڑ لو اور میں تم کو فسوں کارہ نگارا نو بہارا آرزو آرا بھلا لمحوں کا میری اور تمہاری خواب پرور آرزو مندی کی سرشاری سے کیا رشتہ ہماری ...

مزید پڑھیے

شاید

میں شاید تم کو یکسر بھولنے والا ہوں شاید جان جاں شاید کہ اب تم مجھ کو پہلے سے زیادہ یاد آتی ہو ہے دل غمگیں بہت غمگیں کہ اب تم یاد دل دارانہ آتی ہو شمیم دور ماندہ ہو بہت رنجیدہ ہو مجھ سے مگر پھر بھی مشام جاں میں میرے آشتی مندانہ آتی ہو جدائی میں بلا کا التفات محرمانہ ہے قیامت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 558 سے 960