ایک نظم
قدم دو قدم چل کے تھک سا گیا ہے ہمارے مقدر کا انساں۔۔۔ درختوں نے اپنے کئی سارے پژمردہ پتے ہواؤں کے گھر سے بلائے ہیں تھکے ہارے رہرو پہ سایہ کریں اس کی خاطر شکستہ دلوں کا کوئی گیت سب مل کے گائیں! زمیں نے کہا ہے، یہ انساں نہیں تھا وگرنہ یوں رستے میں اپنے ارادے کی ہتک نہ کرتا یوں اپنے ...