شاعری

ایک نظم

قدم دو قدم چل کے تھک سا گیا ہے ہمارے مقدر کا انساں۔۔۔ درختوں نے اپنے کئی سارے پژمردہ پتے ہواؤں کے گھر سے بلائے ہیں تھکے ہارے رہرو پہ سایہ کریں اس کی خاطر شکستہ دلوں کا کوئی گیت سب مل کے گائیں! زمیں نے کہا ہے، یہ انساں نہیں تھا وگرنہ یوں رستے میں اپنے ارادے کی ہتک نہ کرتا یوں اپنے ...

مزید پڑھیے

آخری رائے

کل رات وہ آسمانوں سے اترا بہت خوش ہوا بہت خوش ہوا جیسے گہرے سمندر غضب ناکیوں میں اچھلتے ہیں یا آسماں پر فرشتے قبول عبادت پہ مسرور ہوتے ہیں اس نے کہا میں نے جو کچھ کہا تھا وہ پورا ہوا جو میں دیکھتا تھا وہ میں دیکھتا تھا جو وہ دیکھتا تھا وہ شیشے میں خود اس کا اپنا ہی چہرہ تھا ظاہر ...

مزید پڑھیے

میں نے باغ کی جانب پیٹھ کر لی

میں نے دجلہ و فرات کے مشرق میں ایک قدیم اور روشن پیڑ کے نیچے سجدوں کا خراج وصول کیا اور پھل دار درختوں سے ڈھکے باغ میں مقیم ہوا جسے میرے اور اس عورت کے لیے آراستہ کیا گیا تھا جس کی جنم بھومی میری دائیں پسلی تھی میں نے پہلی بار اسے زندگی کے پیڑ کی سنہری شاخوں کے درمیان رینگتے ...

مزید پڑھیے

وہ ہاتف کی زبان میں کلام کرنے لگی

ایک شام اس نے مجھے اپنی پناہ گاہ سے باہر نکالا اور اپنے سرسبز بازوؤں کے شہتوت سے کشتی تیار کی کشتی جس نے سب سے پہلے دوسرا کنارا ایجاد کیا تھا آسمان پر چاند آدھی مسافت طے کر چکا تو وہ مجھے اپنی نئی کشتی میں بٹھا کر سمندر کی تہ میں اترنے لگی جہاں اس نے اپنے خواب چھپا رکھے تھے اگلی ...

مزید پڑھیے

وہ راستہ عدم آباد کی طرف جاتا تھا

ساتویں بار اسکندریہ کے نیلے ساحل پر اس نے اپنی دید کا سنہرا سکہ میرے کانوں کے کشکول میں دان کیا اسکندریہ جسے ایک بہادر جنگجو نے آباد کیا تھا جو ہنستے بستے شہروں کے نام بربادی کے سندیسے لکھتا تھا اس کا نصیب بوڑھے ملاح کی بوسیدہ کشتی سے بندھا ہچکولے لے رہا تھا دنیا کا نصیب لکھنے ...

مزید پڑھیے

میں زیر لب اپنا شجرۂ نسب دہرا رہا تھا

چھٹی بار وہ دجلہ و فرات کے درمیان مینارۂ بابل کے سائے میں مجھ پر منکشف ہوئی وہ مقدس مینار کی ساتویں منزل پر بیٹھی آیت در آیت بکھرے ستاروں کی تلاوت پر مامور تھی وہ عشتار کے معبد کے شمال میں سائے بانٹتے باغات معلقہ کو بار آوری کی دعا دینے آئی تھی اس کا بے نیاز جسم ان ہاتھوں کی ...

مزید پڑھیے

زمین سمٹ کر میرے تلوے سے آ لگی

اے تین چہروں میں روشن پیشانی والے تیرا نقش پائیدار اور قدیم ہے تو نے سفید بیضوی زنداں سے باہر پاؤں رکھا تو زمین تیرے استقبال کے لیے موجود نہ تھی تو نے نرم لہجے میں ناپید سمتوں کو آواز دی اور اپنے چاروں اور پھیلنے لگا تو نے کنول کی پتیوں سے بچھونا تخلیق کیا اور اپنی زندگی کا ...

مزید پڑھیے

شہر کی گلیاں چراغوں سے بھر گئیں

رات کے آخری پہر میں نے مقدس فلائی کی سرحد پہ پاؤں رکھا اس کے سبز پیرہن کی خوشبو میرے استقبال کے لیے موجود تھی میرے خاک آلود گھٹنوں نے زمین کی خوشبو دار ناف کو چھوا تو میں نے اپنا ملبوس چاک کر ڈالا وہ پیپرس کے جنگلوں کے شمالی کنارے پہ بیٹھی نیل کے پانیوں کو کات رہی تھی اس نے میرے ...

مزید پڑھیے

اساطیری نظم

آخری بار کوہ ندا کے اس پار اس کے سنہری وجود کی آیت میرے دل کے قرطاس پر تسطیر ہوئی میں سات سوالوں کے جواب تلاش کرتا ہوا اس اجنبی سر زمین پر اترا تھا اس کی سنہری ناف کا پیالہ ختن سے آئی کستوری سے لبریز تھا اور سینے پر لالہ کے دو پھول کھلے تھے روشنی اس کے چہرے کے خد و خال تخلیق کرنے ...

مزید پڑھیے

بادشاہ تیری دہلیز کا دربان ہے

عشتار اے آسمانوں کی ملکہ بادشاہ تیری دہلیز کا دربان ہے لگاش اور اور ارج میں تیرے نام کا سکہ ڈھلتا ہے تیری زلفیں ظفر مند لشکر کا پھریرا ہیں اور چہرہ صبح کے مشرق کا آسمان فرات کا چمکتا پانی تیرا آئینہ ہے کنواریاں تیرے مقدس احاطے میں اپنی عصمت کا سنہرا سکہ بھینٹ کرنے آتی ہیں تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 557 سے 960