شاعری

فن پارہ

یہ کتابوں کی صف بہ صف جلدیں کاغذوں کا فضول استعمال روشنائی کا شاندار اسراف سیدھے سیدھے سے کچھ سیہ دھبے جن کی توجیہہ آج تک نہ ہوئی چند خوش ذوق کم نصیبوں نے بسر اوقات کے لیے شاید یہ لکیریں بکھیر ڈالی ہیں کتنی ہی بے قصور نسلوں نے ان کو پڑھنے کے جرم میں تا عمر لے کے کشکول علم و ...

مزید پڑھیے

اجنبی شام

دھند چھائی ہوئی ہے جھیلوں پر اڑ رہے ہیں پرند ٹیلوں پر سب کا رخ ہے نشیمنوں کی طرف بستیوں کی طرف بنوں کی طرف اپنے گلوں کو لے کے چرواہے سرحدی بستیوں میں جا پہنچے دل ناکام میں کہاں جاؤں اجنبی شام میں کہاں جاؤں

مزید پڑھیے

راتیں سچی ہیں دن جھوٹے ہیں

چاہے تم میری بینائی کھرچ ڈالو پھر بھی اپنے خواب نہیں چھوڑوں گا ان کی لذت اور اذیت سے میں اپنا کوئی عہد نہیں توڑوں گا تیز نظر نا بیناؤں کی آبادی میں کیا میں اپنے دھیان کی یہ پونجی بھی گنوا دوں ہاں میرے خوابوں کو تمہاری صبحوں کی سرد اور سایہ گوں تعبیروں سے نفرت ہے ان صبحوں نے شام ...

مزید پڑھیے

دریچہ ہائے خیال

چاہتا ہوں کہ بھول جاؤں تمہیں اور یہ سب دریچہ ہائے خیال جو تمہاری ہی سمت کھلتے ہیں بند کر دوں کچھ اس طرح کہ یہاں یاد کی اک کرن بھی آ نہ سکے چاہتا ہوں کہ بھول جاؤں تمہیں اور خود بھی نہ یاد آؤں تمہیں جیسے تم صرف اک کہانی تھیں جیسے میں صرف اک فسانہ تھا

مزید پڑھیے

ہمیشہ قتل ہو جاتا ہوں میں

بساط زندگی تو ہر گھڑی بچھتی ہے اٹھتی ہے یہاں پر جتنے خانے جتنے گھر ہیں سارے خوشیاں اور غم انعام کرتے ہیں یہاں پر سارے مہرے اپنی اپنی چال چلتے ہیں کبھی محصور ہوتے ہیں کبھی آگے نکلتے ہیں یہاں پر شہہ بھی پڑتی ہے یہاں پر مات ہوتی ہے کبھی اک چال ٹلتی ہے کبھی بازی پلٹتی ہے یہاں پر سارے ...

مزید پڑھیے

ناکارہ

کون آیا ہے کوئی نہیں آیا ہے پاگل تیز ہوا کے جھونکے سے دروازہ کھلا ہے اچھا یوں ہے بیکاری میں ذات کے زخموں کی سوزش کو اور بڑھانے تیز روی کی راہ گزر سے محنت کوش اور کام کے دن کی دھول آئی ہے دھوپ آئی ہے جانے یہ کس دھیان میں تھا میں آتا تو اچھا کون آتا کس کو آنا تھا کون آتا

مزید پڑھیے

مگر یہ زخم یہ مرہم

تمہارے نام تمہارے نشاں سے بے سروکار تمہاری یاد کے موسم گزرتے جاتے ہیں بس ایک منظر بے ہجر و وصل ہے جس میں ہم اپنے آپ ہی کچھ رنگ بھرتے جاتے ہیں نہ وہ نشاط تصور کہ لو تم آ ہی گئے نہ زخم دل کی ہے سوزش کوئی جو سہنی ہو نہ کوئی وعدہ و پیماں کی شام ہے نہ سحر نہ شوق کی ہے کوئی داستاں جو کہنی ...

مزید پڑھیے

وہ

وہ کتاب حسن وہ علم و ادب کی طالبہ وہ مہذب وہ مؤدب وہ مقدس راہبہ کس قدر پیرایہ پرور اور کتنی سادہ کار کس قدر سنجیدہ و خاموش کتنی با وقار گیسوئے پر خم سواد دوش تک پہنچے ہوئے اور کچھ بکھرے ہوئے الجھے ہوئے سمٹے ہوئے رنگ میں اس کے عذاب خیرگی شامل نہیں کیف احساسات کی افسردگی شامل ...

مزید پڑھیے

سزا

ہر بار میرے سامنے آتی رہی ہو تم ہر بار تم سے مل کے بچھڑتا رہا ہوں میں تم کون ہو یہ خود بھی نہیں جانتی ہو تم میں کون ہوں یہ خود بھی نہیں جانتا ہوں میں تم مجھ کو جان کر ہی پڑی ہو عذاب میں اور اس طرح خود اپنی سزا بن گیا ہوں میں تم جس زمین پر ہو میں اس کا خدا نہیں پس سر بسر اذیت و آزار ہی ...

مزید پڑھیے

قاتل

سنا ہے تم نے اپنے آخری لمحوں میں سمجھا تھا کہ تم میری حفاظت میں ہو میرے بازوؤں میں ہو سنا ہے بجھتے بجھتے بھی تمہارے سرد و مردہ لب سے ایک شعلہ شعلۂ یاقوت فام و رنگ و امید فروغ زندگی آہنگ لپکا تھا ہمیں خود میں چھپا لیجے یہ میرا وہ عذاب جاں ہے جو مجھ کو مرے اپنے خود اپنے ہی جہنم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 559 سے 960