کوشش
کئی دنوں سے میرے سر میں صبح شام اور رات رات بھر ناامید پرندے اڑتے رہتے ہیں انہیں روکنا مشکل ہے لیکن اپنی کالی کالی زلفوں میں گھونسلہ کرنے سے میں روک تو نہیں سکتا ہوں ان کو
کئی دنوں سے میرے سر میں صبح شام اور رات رات بھر ناامید پرندے اڑتے رہتے ہیں انہیں روکنا مشکل ہے لیکن اپنی کالی کالی زلفوں میں گھونسلہ کرنے سے میں روک تو نہیں سکتا ہوں ان کو
کبھی کبھی من کرتا ہے پتنگ بن کر آسمان میں اڑنے کا گھر کی ٹوٹی چھت پہ چڑھ کر دیکھتا ہوں رنگ برنگی کئی پتنگیں لیکن نیلے آسمان کو دیکھ نہیں پاتا ہوں میں دکھائی دیتی ہے بس مجھ کو اپنی پتنگ آسمان اور مرے درمیاں حائل ایک پتنگ
کینوس کو کیمرے کی آنکھ سے تم دیکھتے ہی دیکھتے اکتا گئے تھے اس زمیں اور آسماں کے رنگ کو تو نے نئے معنی دیے کینوس پر رنگ دو ملتے ہیں ایسے اجنبی انساں گلے ملتے ہوں جیسے اور لکیریں دھڑکنوں سی سانس لیتی ہیں تری تصویریں گویا!
گھوڑے کی گردن کی سفید ایال سی موجیں اپنے تیز نکیلے ناخن کھبو رہی ہیں چاول کے دانوں سی ریت کے سینے میں سفید جھاگ اگلتی موجیں کھینچ کے لے آتی ہیں کبھی اپنے بستے میں کتھئی بھوری، نیلی یادیں اور مرے دل کے ساحل پر بستہ خالی کر جاتی ہیں
بھلا مجال کہاں مجھ سے بے زبانوں کی کہ منہ سے بات کہوں کچھ فلک نشانوں کی ترے وجود سے عالم یہ ہو گیا روشن کہ خاک ہند میں رفعت ہے آسمانوں کی وہ پھول ہیں ترے دامن میں سامنے جن کے بہار گرد ہے دنیا کے گلستانوں کی گپھاؤں سے تری نکلیں تو سارے عالم میں صدائیں گونج اٹھیں توحید کے ترانوں ...
لوٹ رہا تھا پھولوں کی گھاٹی سے جب سوار تھا میں جس گھوڑے پر وہ لڑھکا میں نے سوچا اسے بھی شاید گھر کی یاد نے گھیر لیا ہے!
خوابوں کی سرحد پہ نیلا نیلا ایک سمندر تیری آنکھوں جیسا لہروں کے نیزوں پہ بہتی جگمگ جگمگ چاند سی روشن اپنے پیار کی کشتی سات سمندر سے بھی دور طوفانوں سے کھیلتی جل پریوں سے باتیں کرتی واپس لوٹ آئی تو ساحل کی چمکیلی ریت میں ایک ستارہ ٹوٹ گرا تھا
اپنے قریب قریب تر ہوتا ہے صرف اندھیرا ہی بند آنکھوں سے دیکھو تو بھی صاف دکھائی دیتا ہے
کھونٹی پہ لٹکے اک لیمپ کی پیلی پیلی روشنی میں تھکی تھکی سی شام کی پیٹھ دیواروں پر دھوئیں کے بادل کی پرتیں کمرے میں لکڑی کا ٹوٹا پھوٹا ٹیبل اور پرانی چار کرسیاں ٹیبل پر مٹی کی پلیٹ میں ابلے آلو کی خوشبو آلو کی خوشبو میں بھیگا کومل ہاتھ اور مری دونوں آنکھیں بھی ذائقہ لیتی ہیں آلو ...
آ گئی ہے رت بہار سبز پتے سبز تتلی سبز منظر انتظار عطر آگیں ہیں ہوائیں پیڑ کی گردن پہ ہنستا ہے تری یادوں کا ہار ایک سایہ پیڑ پر چڑھتا ہوا اک ستارہ بادلوں کے آر پار چاند دریا پار کر کے آ رہا ہے تم سے ملنے بے قرار شش جہت پر خوشبوؤں کی بھیڑ سی بند رکھنا تم نہ اپنے گھر کے دوار