شاعری

پند نامہ

اے مجاز اے ترانہ بار مجاز زندہ پیغمبر بہار مجاز اے بروۓ سمن وشاں گل پوش اے بہ کوۓ مغاں تمام خروش اے پرستار مہ رخان جہاں اے کماں دار شاعران جواں تجھ سے تاباں جبین مستقبل اے مرے سینۂ امید کے دل اے مجاز اے مبصر خد و خال اے شعور جمال و شمع خیال اے ثریا فریب و زہرہ نواز شاعر مست و رند ...

مزید پڑھیے

ساون کے مہینے

فردوس بنائے ہوئے ساون کے مہینے اک گل رخ و نسریں بدن و سرو سہی نے ماتھے پہ ادھر کاکل ژولیدہ کی لہریں گردوں پہ ادھر ابر خراماں کے سفینے مینہ جتنا برستا تھا سر دامن کہسار اتنے ہی زمیں اپنی اگلتی تھی دفینے اللہ رے یہ فرمان کہ اس مست ہوا میں ہم منہ سے نہ بولیں گے اگر پی نہ کسی نے وہ ...

مزید پڑھیے

البیلی صبح

نظر جھکائے عروس فطرت جبیں سے زلفیں ہٹا رہی ہے سحر کا تارا ہے زلزلے میں افق کی لو تھرتھرا رہی ہے روش روش نغمۂ طرب ہے چمن چمن جشن رنگ و بو ہے طیور شاخوں پہ ہیں غزل خواں کلی کلی گنگنا رہی ہے ستارۂ صبح کی رسیلی جھپکتی آنکھوں میں ہیں فسانے نگار مہتاب کی نشیلی نگاہ جادو جگا رہی ...

مزید پڑھیے

کون لے گیا

اے یار دل نشیں وہ ادا کون لے گیا تیرے نگیں سے نقش وفا کون لے گیا حل کر دیا تھا جس نے معمہ شباب کا تجھ سے وہ فکر عقدہ کشا کون لے گیا تھا لطف پہلے قہر میں اب صرف قہر ہے ظلمت سے موج آب بقا کون لے گیا کیوں دفعتاً لبوں پہ خموشی سی چھا گئی اس ساز دل نشیں کی صدا کون لے گیا آنکھوں سے شان بذل و ...

مزید پڑھیے

تو اگر سیر کو نکلے

تو اگر سیر کو نکلے تو اجالا ہو جائے سرمئی شال کا ڈالے ہوئے ماتھے پہ سرا بال کھولے ہوئے صندل کا لگائے ٹیکا یوں جو ہنستی ہوئی تو صبح کو آ جائے ذرا باغ کشمیر کے پھولوں کو اچنبھا ہو جائے تو اگر سیر کو نکلے تو اجالا ہو جائے لے کے انگڑائی جو تو گھاٹ پہ بدلے پہلو چلتا پھرتا نظر آ جائے ندی ...

مزید پڑھیے

خبر ہے کہ نہیں

اب صبا کوچۂ جاناں میں گزرے ہے کہ نہیں تجھ کو اس فتنۂ عالم کی خبر ہے کہ نہیں بجھ گیا مہر کا فانوس کہ روشن ہے ابھی اب ان آنکھوں میں لگاوٹ کا اثر ہے کہ نہیں اب میرے نام کا پڑھتا ہے وظیفہ کوئی اب مرا ذکر وفا درد سحر ہے کہ نہیں اب بھی تکتی ہیں مری راہ وہ کافر آنکھیں اب بھی دزدیدہ نظر ...

مزید پڑھیے

کسان

جھٹپٹے کا نرم رو دریا شفق کا اضطراب کھیتیاں میدان خاموشی غروب آفتاب دشت کے کام و دہن کو دن کی تلخی سے فراغ دور دریا کے کنارے دھندلے دھندلے سے چراغ زیر لب ارض و سما میں باہمی گفت و شنود مشعل گردوں کے بجھ جانے سے اک ہلکا سا دود وسعتیں میدان کی سورج کے چھپ جانے سے تنگ سبزۂ افسردہ ...

مزید پڑھیے

بیتے ہوئے دن

کیا حال کہیں اس موسم کا جب جنس جوانی سستی تھی جس پھول کو چومو کھلتا تھا جس شے کو دیکھو ہنستی تھی جینا سچا جینا تھا ہستی عین ہستی تھی افسانہ جادو افسوں تھا غفلت نیندیں مستی تھی ان بیتے دنوں کی بات ہے یہ جب دل کی بستی بستی تھی غفلت نیندیں ہستی تھی آنکھیں کیا پیمانے تھے ہر روز جوانی ...

مزید پڑھیے

کیا گل بدنی ہے

کس درجہ فسوں کار وہ اللہ غنی ہے کیا موجۂ تابندگی و سیم تنی ہے انداز ہے یا جذبۂ گردوں زدنی ہے آواز ہے یا بربط ایماں شکنی ہے جنگل کی سیہ رات ہے یا زلف گھنی ہے کیا گل بدنی گل بدنی گل بدنی ہے یہ لے ہے کہ کھلتی ہوئی غنچے کی کمانی مہکا ہوا یہ تن ہے کہ یہ رات کی رانی لہجے کی یہ رو ہے کہ ...

مزید پڑھیے

عشق

شام کے دھندلے سائے میں املی کے اک پیڑ کے نیچے میری پیشانی پہ لکھا تھا تم اپنے سرخ لبوں کا نام سارے بدن میں ستار کے تاروں نے چھیڑا اک نغمہ وہی نام اب میرے لہو کی تنگ گلی میں گانے لگا ہے!

مزید پڑھیے
صفحہ 554 سے 960