انٹرول
لو گھنٹہ بجا انٹرول کا اب وقت آیا ہے ہلچل کا اب جو چاہے وہ شور کرے اب ہر لڑکا خود ٹیچر ہے جس چیز کو پایا توڑ دیا ہاتھوں میں سب کے سنیچر ہے گو آج کا دن ہے منگل کا لو گھنٹہ بجا انٹرول کا دیکھو اک چھوٹے بچے سے وہ چھین رہا ہے لنچ کوئی کرسی کو پٹخ کر کرسی پر وہ پھینک رہا ہے بنچ کوئی اسکول ...