شاعری

ٹیلی ویژن

ٹیلی ویژن عہد حاضر کا اک افلاطون ہے لگ گیا ہے جو ہمارے منہ کو یہ وہ خون ہے اس طرح ٹیلی ویژن کا ہر ڈراما ہو گیا جیسے لازم شیروانی پر پجامہ ہو گیا اشتہار اس طرح لازم ہے خبر نامے کے بعد جیسے فل اسٹاپ کی موجودگی کامے کے بعد اک ڈرامہ نشر ہوتا ہے جو آدھی رات میں وہ بہت مقبول ہے اس عہد کے ...

مزید پڑھیے

کراچی کا مواصلاتی مشاعرہ

اہل ادب نے پھر یہ کیا تجربہ نیا شاعر مواصلات کی دنیا پہ چھا گیا مریخ پر مشاعرہ کر لو کہ مون پر ہم تو اب اپنے شعر سنائیں گے فون پر شاعر ادھر ہے، صدر ادھر، سامعین ادھر میں پھونک مارتا ہوں تو بجتی ہے بین ادھر دولہا کو فاصلے پہ رکھا ہے برات سے مطلب یہ ہے کہ دور رہو شاعرات سے امریکہ ...

مزید پڑھیے

ضرب پیہم

یہ کیا ضرب پیہم سی ہر دم ہے سینے پہ میرے کبھی ضرب الٹی لگی یا مری پشت خود ضرب پیہم سے الٹی تو پھر ریڑھ کی ہڈیاں میری چٹخیں کہ سرحد پہ جوں ایک معصوم بچے کی ہڈی مجاہد کے بوٹوں کی زد میں پڑی چرمراتی رہی ہو تو کیا ضرب پیہم سے پیچھا چھڑانا بھی ممکن نہیں ہے؟ نہیں ہے تو کیا میں بھی ...

مزید پڑھیے

وہ ایک آگ

اک عجب آگ سی ہے سینے میں جیسے ہو سینۂ شمشیر کی آگ اک عجب آگ سی ہے باطن میں جیسے ہو نالۂ شبگیر کی آگ جیسے اک شعلۂ جوالہ فلک کو چھو لے سینۂ سرد میں میرے ہے وہی آگ ابھی تودۂ برف سے جو بجھ نہ سکے بن کے شعلہ یہ بڑھی جاتی ہے سوئے افلاک اٹھی جاتی ہے اس کی زد میں ہیں یہ اشیائے نظام عالم بس ...

مزید پڑھیے

نظم

خانس پور کی وادی میں شام کے جھٹپٹے میں ایک چشمے کے کنارے بیٹھے ہوئے جب تم نے۔۔۔ اپنی پنڈلیوں کو برہنہ کیا تھا تو دھندلاتے درختوں میں روشنی سی پھیل گئی تھی تمہارے لمس سے چشمے کا پانی شفاف لہروں میں مچل اٹھا تھا جن میں میرا عکس۔۔۔۔ آج بھی ڈول رہا ہے

مزید پڑھیے

دشت تخیل کی نفی

مجھے دشت تخیل کا سفر کرنا اگر آتا طواف کعبہ کرتا، زندگی کو سمت مل جاتی صحیفے دل کے سب بکھرے ہوئے میرے سنور جاتے غم و آلام میرے بھی، غبار راہ بن جاتے مجھے دشت تخیل کا سفر کرنا اگر آتا تضادات اب جو پیدا ہیں، وہ پیدا ہی نہیں ہوتے کہیں کنج سکوں مثل مدینہ مجھ کو مل جاتا مجھے دشت تخیل کا ...

مزید پڑھیے

غیر مرئی طاقت

کوئی غیر مرئی سی طاقت تو ہوگی جلو میں جو لے کر ہر اک روح طفل و جواں کو خموشی سے سوئے فلک کوچ کرتی ہے اکثر کوئی باپ معصوم بیٹے کو تھامے دوا دے رہا ہے، ہر اک سانس کے زیر و بم پر نظر ہے ادھر اس کی جاں جسم سے جا رہی ہے مگر کچھ نظر بھی نہ آئے، سمجھ میں نہ آئے ابھی کھیلتا تھا، ابھی دیکھتا ...

مزید پڑھیے

لا انتہا ابھی

نہ جانے وہ لوگ گم کہاں ہیں چھلک رہی تھی فلک کے ساغر سے رحمت حق کی تند صہبا فضاے ایام میں محبت کی فاختائیں بھی پنکھ پھیلائے اڑ رہی تھیں دیار‌ جرماں میں جھانکتی تھیں امید فردا کی نرم کرنیں مگر یہ آشوب وقت کا ہے اثر کہ جس سے جھلس گئے ہیں تصوروں کے حسین چہرے فضا بھی خاموش روح ...

مزید پڑھیے

ہائے باپو تری دہائی ہے

خوئے آزاد جس نے پائی ہے اس کے قبضے میں کل خدائی ہے ان سے میں بھی یہ بات کہتا ہوں جن کی تقدیر میں برائی ہے اپنے ماضی پہ ڈال لو نظریں کس قدر کس نے کی بھلائی ہے بات آئی زباں پہ کہتا ہوں یہ تو بندوں ہی کی خدائی ہے روک کر گلا کر رہے ہیں بلیک قحط کی ہر طرف دہائی ہے کتنے ٹھیکے میں اب کی بار ...

مزید پڑھیے

پہلا جشن آزادی

اے ہند کے باشندو آؤ اجڑا گلزار سجا ڈالیں اب دور غلامی ختم ہوا اک تازہ جہاں کی بنا ڈالیں اب ہند کی اصلی عید ہوئی جو آزادی کی دید ہوئی پڑھ پڑھ کے نماز آزادی اب روٹھے ہوؤں کو منا ڈالیں کشتی بھی نئی دریا بھی نیا ساحل بھی نیا ملاح بھی نئے اب کر کے بھروسہ ہمت پر طوفان میں راہ بنا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 535 سے 960