شاعری

الجھن

ووستھا بھی بہت زیادہ نہیں ہے جتن جوکھم بہت ہیں آگے جو جنگل ہے وہ اس سے بھی زیادہ گنجلک ہے تپسیا کے ٹھکانے گیان کے منتر دھیان کی ہر ایک سیڑھی پر وہی مورکھ عجب سا جال تانے بیٹھا ہے یگوں سے نہ جانے کیوں مرے راون سے اس کو پراجے کا خطرہ ہے تو یوں کرتا ہوں اب کے خود کو خود سے تیاگ دیتا ...

مزید پڑھیے

ورود

جواں راتوں میں کالا دشت قالب میں اترتا ہے کہ میرے جسم و جاں کے مرغزاروں کی مہک ہوا کے دوش پر رقص کرتی ہے پیاسی ریت صحراؤں کی دھنستی ہے رگ و پے میں ادھڑتے ہیں مساموں سے لہو زاروں کے چشمے برف کوہسار کے سارے پرندے گیت گاتے ہیں حباب اٹھتا ہے گہرے نیلگوں زندہ سمندر کا ہمالہ سانس میں ...

مزید پڑھیے

بلا عنوان

آنکھ وا تھی ہونٹ چپ تھے اک ردائے یخ ہوا نے اوڑھ لی تھی جبیں خاموش سجدے بے زباں تھے آگے اک کالا سمندر پیچھے صبح آتشیں تھی اور جب لمحے رواں تھے ہم کہاں تھے

مزید پڑھیے

کوئی آنے کا نہیں اب

گو ہمیں معلوم تھا کہ اب وہ سلسلہ باقی نہیں ہے گو ہمیں معلوم تھا کہ نوح آنے کے نہیں اب ہاں مگر جب شہر میں پانی در آیا ہم نے کچھ موہوم امیدوں کو پالا اور اک بڑے پنڈال پہ یکجا ہوئے ہم اور بیک آواز ہم نے نوح کو پھر سے پکارا گو ہمیں معلوم تھا کہ نوح آنے کے نہیں اب گو ہمیں احساس یہ بھی تھا ...

مزید پڑھیے

اصل میں یہ دشت تھا

اس میں یہ دشت تھا اس دشت میں مخلوق کب وارد ہوئی خدا معلوم لیکن سب بڑے بوڑھے یہ کہتے ہیں ادھر اک دشت تھا جانے کیوں ان کو یہاں لمبی قطاروں شہر کی گنجان گلیوں دفتروں شاہراہوں راستوں اور ریستورانوں جلسے جلوسوں ریلیوں اور ایوان ہائے بالا و زیریں میں خوش لباسی کے بھرم میں ناچتی وحشت ...

مزید پڑھیے

اعتراف

بات کہنا نہیں آتی مجھے لکھنا نہیں آتا سطر کہنے کا ہنر نظم بنانے کا سلیقہ بات کرنے کا قرینہ مجھے کچھ بھی نہیں آتا کوئی صورت فن عرض ہنر آ جائے مجھے بھی شام کو شام کہوں اور نگاہوں پہ اندھیرے اتر آئیں صبح کو صبح لکھوں اور پس‌ سطر تپاں دھوپ بھرا دن نکل آئے کل بھی تاثیر تہی تھا مرا ...

مزید پڑھیے

رس کی کھیر

ایک روز کی بات ہے بھائی رس کی ہم نے کھیر پکائی پہلے رس کا میل نکالا اور پتیلی میں پھر ڈالا دیگچی پھر چولھے پہ چڑھائی اس کے نیچے آگ جلائی ڈالے رس میں چاول ستھرے اور چلایا دھیرے دھیرے کھچ کھچ کر کے پکتی جاتی ہم سب سے یہ کہتی جاتی چاول بولو کس نے بنایا کھیت میں گنا کس نے اگایا پک کر جب ...

مزید پڑھیے

لہو کا ذائقہ

سب جھوٹ بولتے ہیں میں جب ماں کے پیٹ میں تھا تب بھی جھوٹ نہیں بولتا تھا میں نے ماں کے پیٹ میں تازہ تازہ گرم سرخ خون پیا تھا پیدائش کے بعد سفید گاڑھا ٹھنڈا خون مجھے ملا جب سے میں مسلسل خون پی رہا ہوں میں نے بچپن سے لڑکپن تک لڑکپن سے جوانی تک بارہا اس خون کا ذائقہ چکھا ہے میں اس کے ...

مزید پڑھیے

آبلوں کی کرچیں

بہت دنوں کے بعد اس شہر میں بھٹکا ہوا بوندھ بوندھ بنتا ہوا مضبوطی سے پکڑے ہوئے مضمحل زخم آلودہ آبلوں کو چلا رہا تھا اپنے کاندھوں پر لادے اپنے ننگے سر کو مگر راستے کے وحشی ہنگاموں نے مجھے توڑ ڈالا بھاگنے کے سارے راستے بند خون کا دباؤ بڑھنے لگا تب میرے ہاتھ سے وہ گٹھری گر پڑی جسے ...

مزید پڑھیے

نیلی قندیل

ہمارا رجحان یقیناً حرامی پن تک جا چکا ہے ہمارے سروں پر خوف مسلط ہو رہا ہے کیا ہم جنون کی حد جاگتے ہوئے جذبات نہیں بک رہے واقعی ہماری بے داری ایک سوچی سمجھی سازش ہے ہم نے جنون کی حد تک عشق کیا ہم نے جنون کی حد تک مباشرت کا لطف لیا اب ہمیں ہمارا ہی کل جھنجھوڑ رہا ہے اسے کیسے الگ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 525 سے 960