رس کی کھیر
ایک روز کی بات ہے بھائی
رس کی ہم نے کھیر پکائی
پہلے رس کا میل نکالا
اور پتیلی میں پھر ڈالا
دیگچی پھر چولھے پہ چڑھائی
اس کے نیچے آگ جلائی
ڈالے رس میں چاول ستھرے
اور چلایا دھیرے دھیرے
کھچ کھچ کر کے پکتی جاتی
ہم سب سے یہ کہتی جاتی
چاول بولو کس نے بنایا
کھیت میں گنا کس نے اگایا
پک کر جب تیار ہوئی تو
تحفہ دیا پڑوسن بی کو
خوش ہو کر ہم سب نے کھائی
کھیر پڑوسن کو بھی بھائی
شکر ہے اس اللہ کا بھائی
جس نے ہم کو کھیر کھلائی