شاعری

پاگل ہوش

جب درد کی لہریں ڈوب گئیں جب آنکھیں چہرہ بھول گئیں تم سوچ کے آنگن میں کیسے پھر یاد کے گھنگرو لے آئے میں کیسی مہک سے پاگل ہوں پھر رقص جنوں میں شامل ہوں پھر چہرہ چہرہ تیرا چہرہ پھر آنکھ میں تیری آنکھوں کا پر کیف نظارہ جھوم اٹھا پھر سارا زمانہ جھوم اٹھا کب رات گئی کب دن جاگا کچھ ہوش ...

مزید پڑھیے

دن رات

جاگتے خیالوں کو، سوچتے سوالوں کو رتجگے کی عادت ہے عاشقی کی فطرت ہے تجھ کو نیند پیاری ہے تجھ پہ رات بھاری ہے نیند موت ہوتی ہے خواب کی، خیالوں کی زندگی کے سالوں کی تجھ کو ہر خبر جاناں! میری رات جلنے سے میرے سوچ کھلنے سے تیرا دن نکلتا ہے

مزید پڑھیے

ماں

جب بھی کبھی جنت کو تصور میں بسایا اے ماں مری خود کو ترے قدموں میں ہی پایا دنیا کے کسی پیڑ کی چھانو میں نہیں ہے جو مجھ کو عطا کرتا ہے ٹھنڈک ترا سایہ اس رب کا ادا شکر بھلا کیوں نہ کروں میں جس نے تری صورت میں ہی جنت کو دکھایا دھرتی پہ میں اب اس لیے پیروں پہ کھڑا ہوں میں چلتے ہوئے جب بھی ...

مزید پڑھیے

خواب صرف خواب ہیں

1 شام پھر تیرے تصور سے مہک اٹھی ہے رات ہونے کو ہے سلسلے خوابوں کے باقی ہیں ابھی آنکھوں میں 2 رات کے پچھلے پہر مجھ کو تری یادوں نے بستر خواب سے بیدار کیا اور احساس ہوا بے سر و سامانی کا سوچتا ہوں کہ مرے پاس زندہ رہنے کے ہیں سامان بہت مگر تیری کمی کھلتی رہتی ہے صدا ایک بے نام تصور کی ...

مزید پڑھیے

در مدح آم

شاہ اودھ سے فون پہ کل میں نے بات کی اسم گرامی شاہ کا عبدالسلام ہے پوچھا کہ لکھنؤ میں ہیں میں نے کہا کہ ہاں بولے کہ یہ بتائیے کے دن قیام ہے میں نے کہا کہ آج ہی آیا ہوں یا اخی یوں تو خلوص شاہ میں کس کو کلام ہے لیکن یہ آنے والے سے جانے کا پوچھنا کیا اس میں کوئی راز ہے یا کچھ پیام ...

مزید پڑھیے

روانگی

جہاں پہ میں ہوں بس ایک کہرا زدہ فضا ہے جدھر بھی دیکھو سفید چادر ٹنگی ہوئی ہے نہیں ہے کوئی زمین ایسی کہ جس پہ میں اپنے پاؤں رکھوں بلند و بالا پہاڑوں سے ہزاروں پتھر لڑھک رہے ہیں اور آندھیاں سیٹیاں بجاتی گزر رہی ہیں قدیم بھوری پہاڑیوں سے وہ کارواں بھی تو ٹوٹ آیا تلاش میں جو نہ جانے ...

مزید پڑھیے

بستیاں زندہ رہیں گی

تم زمیں پر ایک بھی سایہ اگر دیکھو تو سمجھو آسمانوں کے تلے یہ بستیاں زندہ رہیں گی وہ جو ماتم کر رہے ہیں رو رہے ہیں اپنے بچوں کو نہیں آتا یقیں ان کو وہ جیتے ہیں اب تک تتلیاں ان کے تعاقب میں گئی ہیں وہ جو ماتم کر رہے ہیں اپنے بچوں کا انہیں کہہ دو پہاڑوں سے ندا آتی نہیں تو یہ نہ سوچیں ...

مزید پڑھیے

لہو کو زوم کرتے ہیں

دریچے سے جہاں تک بھی نظر آتا ہے مسلسل خامشی ہے سڑک کی پیلی لکیر سر پیٹتی ہے دور تک فٹپاتھ پر روندے ہوئے سائے پول پر بجلی کے کھمبے سے لٹکتی ایک چمگادڑ صبح کا زرد چہرہ رات کے اندوہ کا احوال ایک چوپایہ اور نکڑ پر کھڑے ہو تم مسلسل خامشی ہے دریچے سے جہاں تک بھی نظر آتا ہے مسلسل خامشی ...

مزید پڑھیے

راون زندہ باد

جلا رہا ہوں کئی یگوں سے میں اس کو خود ہی جلا رہا ہوں جلا رہا ہوں کہ اس کے جلنے میں جیت میری ہے مات اس کی جلا رہا ہوں بڑے سے پنڈال میں سجا کر جلا رہا ہوں مٹا رہا ہوں مگر وہ مرے ہی من کی اندھیر نگری میں جی رہا ہوں وہ میری لنکا میں اپنے پاؤں پسارے بیٹھا کئی یگوں سے مجھے مسلسل چڑا رہا ...

مزید پڑھیے

نو مینس لینڈ

مجھے بتا کر کہ میری سمت سفر کہاں ہے کئی خزانوں کے بے نشان نقشے مجھے تھما کر کہا تھا اس نے کہ ساتویں در سے اور آگے تمہاری خاطر مرا وہ باب بقا کھلا ہے مگر وہاں پر تمام در وا تھے میری خاطر وہ ساتواں در کھلا نہیں تھا مگر وہاں پر کوئی بھی راز بقا نہیں تھا تمام اجسام تھے سلامت کوئی بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 524 سے 960