مقام جاں
نمک کے صحرا میں اپنی پلکوں سے ٹکڑے ٹکڑے یہ خواب چن لوں تو تجھ کو دیکھوں شکستہ ہاتھوں سے حسرتوں کے عذاب چن لوں تو تجھ کو دیکھوں جو تجھ کو دیکھوں تو جان پاؤں کہ اس صف دوستاں میں تیرا مقام کیا ہے نقیب جاں تو کہاں کھڑا ہے وہ صف کہ جس نے محبتوں کے گلاب پہنے عظیم چاہت کے سرخ لمحوں کی ...