شاعری

مقام جاں

نمک کے صحرا میں اپنی پلکوں سے ٹکڑے ٹکڑے یہ خواب چن لوں تو تجھ کو دیکھوں شکستہ‌ ہاتھوں سے حسرتوں کے عذاب چن لوں تو تجھ کو دیکھوں جو تجھ کو دیکھوں تو جان پاؤں کہ اس صف دوستاں میں تیرا مقام کیا ہے نقیب جاں تو کہاں کھڑا ہے وہ صف کہ جس نے محبتوں کے گلاب پہنے عظیم چاہت کے سرخ لمحوں کی ...

مزید پڑھیے

وہ اور میں

جب زمیں کے پیاسے ہونٹ بوند بوند کو ترسے اس کی کوکھ نے جب بھی سبز بچے جننے کی آرزو میں لب کھولے تب شفیق بادل نے اپنی جاں کے امرت سے اس زمیں کے سینے میں قطرہ قطرہ رس گھولا بے بدن دراڑوں سے زندگی اگا ڈالی ہاں یہ سب ہوا لیکن کوئی آ کے بادل سے صرف اس قدر پوچھے تیری پیاس کا دوزخ سرد ہے کہ ...

مزید پڑھیے

لمحے کی موت

کچھ دور تلک کچھ دور تلک وہ لمحہ اس کے ساتھ چلا جب اس نے دل میں یہ سوچا یہ گرتی دیواریں یہ دھواں یہ کالی چھتیں یہ اندھے دیئے سنولاتے ہوئے سارے چہرے اب اس کی نگاہوں سے اوجھل ہو جائیں گے جب نگر نگر کی سیاہی ان ٹیڑھی میڑھی سڑکوں کی آوارہ گردی ہنستے جسم کھنکتے پیالوں کی موسیقی اس کو ...

مزید پڑھیے

نیا جنم

ابھی اک سال گزرا ہے یہی موسم یہی دن تھے مگر میں اپنے کمرے میں بہت افسردہ بیٹھا تھا نہ کوئی سانولے محبوب کی یادوں کا افسانہ نہ ایوان زمستاں کی طرف جانے کی کچھ خواہش کسی نے حال پوچھا تو بہت ہی بے نیازی سے کہا جی ہاں خدا کا شکر ہے میں خیریت سے ہوں کوئی یہ پوچھتا کیوں آج کل کوئی غزل ...

مزید پڑھیے

کتبہ(۵)

یہ کتبہ فلاں سن کا ہے یہ سن اس لیے اس پر کندہ کیا کہ سب وارثوں پر یہ واضح رہے کہ اس روز برسی ہے مرحوم کی عزیز و اقارب یتامیٰ مساکین کو ضیافت سے اپنی نوازیں سبھی کو بلائیں کہ سب مل کے مرحوم کے حق میں دست دعا کو اٹھائیں زباں سے کہیں اپنی'' مرحوم کی مغفرت ہو'' بزرگ مقدس کے نام مقدس پہ ...

مزید پڑھیے

نئے آدمی کی تلاش میں:

اور پھر یوں ہوا جو پرانی کتابیں، پرانے صحیفے بزرگوں سے ورثے میں ہم کو ملے تھے انہیں پڑھ کے ہم سب یہ محسوس کرنے لگے ان کے الفاظ سے کوئی مطلب نکلتا نہیں ہے جو تعبیر و تفسیر اگلوں نے کی تھی معانی و مفہوم جو ان پہ چسپاں کئے تھے اب ان کی حقیقت کسی واہمے سے زیادہ نہیں ہے اور پھر یوں ...

مزید پڑھیے

ذاتیات

جو مجھ پہ بیتی ہے اس کی تفصیل میں کسی سے نہ کہہ سکوں گا جو دکھ اٹھائے ہیں، جن گناہوں کا بوجھ سینے میں لے کے پھرتا ہوں، ان کو کہنے کا مجھ کو یارا نہیں ہے، میں دوسروں کی لکھی ہوئی کتابوں میں، داستاں اپنی ڈھونڈھتا ہوں جہاں جہاں سرگزشت میری ہے ایسی سطروں کو میں مٹاتا ہوں روشنائی سے ...

مزید پڑھیے

حروف و الفاظ کے ذخیرے

حروف و الفاظ کے ذخیرے یہی ہیں وہ دائرے کہ جن میں اسیر تم بھی ہو اور میں بھی تمھارا جو نام چند حرفوں سے مل کے بنتا ہے چاہے مفہوم اس کا کچھ بھی ہو چاہے مفہوم سے وہ خالی ہو چاہے اس کیفیت کے برعکس ہو جو تم میں نمود پاتی ہے ایسی اک روح جو کسی جسم میں کسی آئینہ میں اتری ہو ایک پیکر میں ڈھل ...

مزید پڑھیے

اپنے بچے کے نام

اے مرے سن و سال کے حاصل میرے آنگن کے نو دمیدہ گلاب میرے معصوم خواب کے ہم شکل میری مریم کے سایۂ شاداب صبح تخلیق کا سلام تجھے زندگی تجھ کو کہتی ہے آداب اے مقدس زمیں کے شعلۂ نو تو فروزاں ہو ان فضاؤں میں میرے سینے کی جو امانت ہیں جو مری نارسا دعاؤں میں اس طرح مسکراتی ہے جیسے نغمگی ...

مزید پڑھیے

دوسری ملاقات

کہہ نہیں سکتا کہاں سے آئے ہو، تم کون ہو ایسا لگتا ہے کہ یہ صورت ہے پہچانی ہوئی خاک میں روندا ہوا چہرہ مگر اک دل کشی آنکھ میں ہلکا تبسم، دل میں کوئی ٹیس سی پاؤں سے لپٹی ہوئی بیتے ہوئے لمحوں کی گرد پیرہن کے چاک میں گہرے غموں کی تازگی پرسش غم پر بھی کہہ سکنا نہ اپنے جی کا حال کچھ کہا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 519 سے 960