بادل
شور مچاتے اٹھے بادل
زور لگاتے اٹھے بادل
اب ہیں گورے اب ہیں کالے
اب ہیں لال اور اب مٹیالے
کیا کیا رنگ بدلتے آئے
پل میں ہاتھی پل میں گائے
پل میں روئی کا اک ڈھیر
پل میں بکری پل میں شیر
ابھی تھا پاؤ اب ہے سیر
ابھی تھا تیتر ابھی بٹیر
اب اک سقہ مشک اٹھائے
اب کشتی سی دوڑی جائے
درخت ابھی تھا یہ پیپل کا
اور اب ہے یہ پھول کنول کا
ابھی ابھی تھی سانپ کی چھتری
دھول ہے اب یہ ایٹم بم کی
اونٹ تھا اب کوہان اٹھائے
اب ہے کتا کان اٹھائے
پل میں دوڑ لگاتا گھوڑا
پورا نہیں پر تھوڑا تھوڑا
گھوڑا پگھلا بن گیا بگلا
بگلا پھیل کے بیل میں بدلا
بیل اک مینڈک سے ٹکرایا
بادل کا مینڈک ٹرایا
یہ سن کر ننھا چلایا
بادل آیا بادل آیا