شاعری

فیصلہ

اب کے دیوار میں دروازہ رکھوں یا نہ رکھوں اجنبی پھر نہ کوئی درپئے آزار آ جائے ایک دستک میں مری ساری فصیلیں ڈھا جائے اب کے دیوار میں دروازہ رکھوں یا نہ رکھوں ایک اہرام نہ چن لوں صفت دود حریر کوئی آئے تو بس اک گنبد در بستہ ملے راز سر بستہ ملے لاکھ سر پھوڑے صدا کوئی نہ مجھ تک ...

مزید پڑھیے

ہم زاد

میں آج دفتر میں صبح پہنچا تو اک نیا زرد زرد چہرہ نظر پڑا جس کو دیکھتے ہی معاً مرے دل میں اک دریچہ کھلا اور اس کے عقب سے اس زرد شکل کی ہم شبیہ اک سرخ شکل ابھری شریر گستاخ بے تکلف ابھر کے میرے قریب آئی قریب آ کر نظر ملا کر وہ کھلکھلا کر ہنسی اور اپنے شریر پوروں سے میرے کالر کی سختیاں ...

مزید پڑھیے

محاسبہ

ہوا کہیں نام کو نہیں تھی اذان مغرب سے دن کی پسپا سپاہ کا دل دھڑک رہا تھا تمام رنگوں کے امتیازات مٹ چکے تھے ہر ایک شے کی سیہ قبا تھی جگہ جگہ بام و در کے پیکر افق کے رنگین چوکھٹے میں مثال تصویر جم گئے تھے شجر حجر سب کے سب گریباں میں سر جھکائے محاسبہ کر رہے تھے دن بھر کے نیک و بد ...

مزید پڑھیے

قرب قیامت

یہ چڑیا جو پنکھے سے ٹکرا گئی ہے اسے تو فقط آشیانہ بنانے کی دھن تھی اسے وقت کی پیٹھ سے لاکھ دو لاکھ سالوں کے گرنے کا اندازہ کب تھا اسے کیا خبر تھی وہ سر سبز ایام مرجھا چکے ہیں وہ انساں سے پہلے کے شاداب جنگل جہاں گھونسلوں اور اڑانوں کے مابین دھاتوں کی پراں فصلیں نہیں تھیں عقابوں کے ...

مزید پڑھیے

ابو کی یاد میں

اب رہا کون مجھے آس دلانے والا گھپ اندھیروں میں دیا گھر کا جلانے والا خواب غفلت سے جو بیدار کیا کرتا تھا سو گیا آج وہ کیوں مجھ کو جگانے والا جب کہ منزل کی تجسس میں تھا گمراہ سفر چل دیا چھوڑ کے کیوں راہ دکھانے والا روٹھ جانے کا رویہ یہ مناسب تو نہ تھا روٹھ کیوں مجھ سے گیا مجھ کو ...

مزید پڑھیے

ضد

دونوں کو بس ایک ہی ضد ہے میں کیوں اس کو یاد دلاؤں کہ کبھی آج ہی کے دن ہم تھے ملے تھے ہر سو بڑے خوشیوں کے سلسلے لیکن آج پھر یہ کیسی ہے بد گمانی اور کتنے گلے کہ جیسے کبھی زمیں آسماں نا ملے

مزید پڑھیے

تحفہ

سوچتا ہوں کہ تمہیں کون سا تحفہ بھیجوں اپنے ہونٹوں کی جلن اپنی نگاہوں کی تھکن اپنے سینے کی گھٹن اپنی امیدوں کا کفن جادۂ زیست پہ بکھرے ہوئے کانٹوں کی چبھن عمر بھر کا مرا سرمایہ یہی ہے اے دوست سوچتا ہوں کہ تمہیں کون سا تحفہ بھیجوں آرزو تھی کہ رخ غم کی چمک نذر کروں ترے مخمور تصور کی ...

مزید پڑھیے

جاناں

روٹھنا تھا کسے منانا تھا وقت کے ساتھ گنگنانا تھا لہر دریا کے ساتھ رہتی ہے بجلی بادل میں ہے عجب رشتہ سانس کی ڈور بن کے جسم کے ساتھ روح ہر لمحہ ہے روانی میں کھیلتی ہے وہ آگ پانی میں وقت کی بات ہے الگ جاناں حسن سوغات ہے الگ جاناں پھول سے روٹھتی ہے کب خوشبو رات سے روٹھتا ہے کب ...

مزید پڑھیے

عشق ناتمام

کون کہتا ہے ہم تم جدا ہو گئے زندگی سے اچانک خفا ہو گئے ہجر عالم پہ چھایا تھا کچھ اس طرح وصل کے خواب وقف دعا ہو گئے وقت میزان میں جانے کیا بات تھی تیر جو بے خطا تھے خطا ہو گئے ہم کہ جس بت کو بے جان سمجھا کیے وہ زمانے میں کیوں دیوتا ہو گئے ایک دن یوں ہوا حسن سرکار میں مدعی جو نہ تھے ...

مزید پڑھیے

پہلا منظر

سرد یخ بستہ موسموں کی نوید جانے کس کس کے نام آئی تھی کہر آلود تھی فضا ایسی صبح کچھ اونگھتی ہوئی جاگی اس کی آغوش سے ہمکتا ہوا ایک سورج قلانچیں بھرتا ہوا آسمان فسوں کے میداں میں شوخ کرنوں کو چھیڑتا نکلا ہو گیا خطۂ افق گل رنگ میں تھا محبوس اپنے کمرے میں دفعتاً دیکھتا ہوں نور کریم ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 513 سے 960