ایک پیدل چلنے والے دوست کا نوحہ
ہجوم سے بچ کے سونے سونے خموش رستوں پہ چلنے والا وہ اس زمانے میں پا پیادہ مسافرت کا امین رستہ بدل چکا ہے نظر عبث اس کا نقش مانوس راستوں پر تلاش کر کے چونکتی ہے مجھے خبر ہے وہ جا چکا ہے وہ جا بجا راہ میں ابھرتی شبیہ اس کی نگاہ کی تشنگی نے مثل سراب ایجاد کر رکھی ہے جب آخری بار اس کو ...