شاعری

ایک پیدل چلنے والے دوست کا نوحہ

ہجوم سے بچ کے سونے سونے خموش رستوں پہ چلنے والا وہ اس زمانے میں پا پیادہ مسافرت کا امین رستہ بدل چکا ہے نظر عبث اس کا نقش مانوس راستوں پر تلاش کر کے چونکتی ہے مجھے خبر ہے وہ جا چکا ہے وہ جا بجا راہ میں ابھرتی شبیہ اس کی نگاہ کی تشنگی نے مثل سراب ایجاد کر رکھی ہے جب آخری بار اس کو ...

مزید پڑھیے

ایک خواب

ساتھ اگر تم ہو تو پھر ہم ہنستے ہنستے چلتے چلتے دور آکاش کی حد تک جائیں کالی کالی سی دلدل سے تپتا تانبا پھوٹ رہا ہو مکڑی کے جالے کا فیتہ کاٹ کے ہم اس باغ میں جائیں جس میں کوئی کبھی نہ گیا ہو کوکنار کے پھول کھلے ہوں بھونرے ان کو چوم رہے ہوں پتھر سے پانی چلتا ہو میں پانی کا چلو بھر ...

مزید پڑھیے

چند لمحے

چند لمحے جنہیں اک لغزش پا نے میری کہیں ماضی کے اندھیروں میں کچل ڈالا تھا چوٹ کھائی ہوئی ناگن کی طرح لہرا کر میرے احساس کے ہر گوشے پہ چھا جاتے ہیں میری آنکھوں سے مے خواب اڑا جاتے ہیں رات بھر کے لیے دیوانہ بنا جاتے ہیں خون ہو جاتا ہے جب سوزش پنہاں سے بھڑکتا ہوا دل تیرنے لگتا ہے رگ ...

مزید پڑھیے

دھند اچھی ہے

دھند اچھی ہے مرے ذہن کی ہم زاد ہے دھند دھند اچھی ہے ہر اک جبر سے آزاد ہے دھند دھند میں ڈوبے ہوئے خار و گل او سنگ و زجاج اچھے ہیں ایک ابہام میں تحلیل ہوئے جاتے ہیں منظر سارے پردۂ ذہن پہ کجلائے ہوئے شہر کی تصویر ہے دھند خواب میں دیکھے ہوئے خواب کی تعبیر ہے دھند ہاں مگر دھند کے اس ...

مزید پڑھیے

ہوک

جب کتابوں کے نوشتوں سے پھسل کر مری درماندہ نگاہ چار سو پھیلے ہوئے صفحۂ ایام پہ جا پڑتی ہے دل میں اک ہوک سی اٹھتی ہے ابھر آتے ہیں دکھتے ہوئے جاں کاہ سوال پھر اسی ہوک کے لہجے میں خدا بولتا ہے زندگانی کی کڑی شرطیں ہیں یہ عبادت ہے تمہاری کہ مرے بخشے ہوئے دکھ جھیلو ان پرندوں کا، ...

مزید پڑھیے

پہچان

کہیں تم ملو تو مسائل کو الجھا ہوا چھوڑ کر ہم علائق کی زنجیر کو توڑ کر ہم چلیں اور کنج چمن میں کہیں سایۂ تاک میں بیٹھ کر بھولے بسرے زمانوں کی باتیں کریں اور اک دوسرے کے خد و خال میں اپنے کھوئے ہوئے نقش پہچان کر محو حیرت رہیں اور نرگس کی صورت وہیں جڑ پکڑ لیں

مزید پڑھیے

ایک اچانک موت کا نوحہ

بظاہر یہ لگتا ہے اس ملگجی صبح کو سب سہاروں نے جیسے اچانک ترا ساتھ چھوڑا سحر نے زمیں پر قدم جب رکھا تو اچانک زمیں بے وفا ہو گئی ابھرتا ہوا آفتاب ایک ہی ناگہاں لغزش پا سے یوں لڑکھڑایا کہ مغرب کے پاتال میں منہ کے بل جا سمایا اچانک فرشتے کفن سائباں کی طرح تان کر آسمانوں سے اترے گلوں ...

مزید پڑھیے

نا بینائی میں ایک خواب

میں ہوں سر چشمۂ اول سے بہت دور پئے نور بھٹکنے والا روشنی عکس بہ عکس آتی ہے ان آنکھوں تک آئنے اپنی خیانت سے نہیں خود واقف ان کو معلوم نہیں زاویے ان کے بدل دیتے ہیں کرنوں کا مزاج آج اس نور محرف سے ہے آنکھوں میں تھکن دل میں خناس کی سرگوشیٔ پیہم کی چبھن کاش سر چشمۂ اول سے اتر آئے ...

مزید پڑھیے

جانے کیا ہے

جانے کیا ہے موت، کیا ہے زندگی چلتے چلتے کیسے تھم جاتی ہیں تصویریں تمام خاک ہو جاتی ہے پھر سے مشت خاک گاہے گاہے سنگ ہو جاتے ہیں چہروں کے نقوش اپنے اپنے زاویے پر منجمد دم بخود رہتے ہیں محو انتظار

مزید پڑھیے

جست

مرا حال یہ تھا زمستاں میں جب برف زاروں میں چلتے ہوئے گرسنہ بھیڑیوں کی قطاریں گزرتیں تو میں کپکپاتا یہ جی چاہتا عرصۂ زیست کو چھوڑ کر کوہساروں کے اس پار ڈیرا لگا لوں ادھر میرے جاتے ہی برفیں پگھل جائیں گرگان بے مہر میرے نقوش قدم سونگھ کر مجھ تک آنے نہ پائیں مگر اب تو جیسے مری روح ...

مزید پڑھیے
صفحہ 512 سے 960