ساحلوں سے کہو، میں نہیں آؤں گا
ساحلوں سے کہو، میں نہیں آؤں گا اب کسی شہر کی رات میرے لیے جگمگائے نہیں دھوپ بوڑھے مکانوں کی اونچی چھتوں پر مرا نام لے کر بلائے نہیں میں نہیں آؤں گا یاد آتا ہے، اک دن کسی سے کہا تھا تجھے پہن کر دور کے شہر کی اجنبی دھرتیوں میں اتر جاؤں گا میں عقیدہ ہوں: مر جاؤں گا یاد آتا ہے، اک دن ...