شاعری

ساحلوں سے کہو، میں نہیں آؤں گا

ساحلوں سے کہو، میں نہیں آؤں گا اب کسی شہر کی رات میرے لیے جگمگائے نہیں دھوپ بوڑھے مکانوں کی اونچی چھتوں پر مرا نام لے کر بلائے نہیں میں نہیں آؤں گا یاد آتا ہے، اک دن کسی سے کہا تھا تجھے پہن کر دور کے شہر کی اجنبی دھرتیوں میں اتر جاؤں گا میں عقیدہ ہوں: مر جاؤں گا یاد آتا ہے، اک دن ...

مزید پڑھیے

خواب تماشا(2)

تم بتلاؤ کیا جانتے ہو کیا سوچتے ہو اور اس بیکار تماشے میں کیوں زندہ ہو اوپر نیچے دائیں بائیں آگے پیچھے ہے ایک رنگ جو کچھ بھی تھا وہ سب کالک میں ڈوب گیا جو کچھ بھی ہے وہ رفتہ رفتہ رنگ بدلتا جاتا ہے یہ چاند یہ سورج سیارے یہ منظر منظر نظارے اک خواب ہے سوئے آدمی کا جو سویا ہے شاید ...

مزید پڑھیے

خواہش کا جرم

اس نے خواہش کی تو وہ ظاہر ہوا رنگ تاریکی سے نکلے اور صدا دینے لگے سایہ سایہ ہو گئی کالی گپھا کی تیرگی اور ہر منظر نمایاں ہو گیا میں بھی تھا اک روشنی اور تیرگی کے درمیاں مجھ کو بھی ظالم ہوا نے ڈس لیا اور میں بھی زندگی کی آگ میں جلتے لگا خاک و خوں کے رنگ میں ڈھلنے لگا اس نے خواہش کی ...

مزید پڑھیے

ٹھہرو! میں آتا ہوں

اگر میرے فسانے میں مسرت کا کوئی پہلو نظر آئے سمجھ لینا تمہارے واسطے میں رات کے گنجان جنگل سے چمکتے جگنوؤں کی قیمتی سوغات لایا ہوں مرے اندر اندھیرے کا سمندر ہے ابھرتا ڈوبتا رہتا ہوں میں جس میں تمہیں معلوم ہے میرا عمل اب ختم ہے، اور رات باقی ہے ابھی اک گھات باقی ہے مرے آکاش کی حد ...

مزید پڑھیے

نظم

میں نے اک انجان نگر میں ایک مکاں پر دستک دی ہے مجھ کو یہ آشا تھی کوئی فرشتہ سیرت اپنی بصیرت اپنے نور دل سے میرا رہبر ہوگا لیکن اب میں دیکھ رہا ہوں سناٹے کا بھوت کھڑا ہے بے حس وحشت کا اک پیکر زہر آمیز ہنسی ہنستا ہے

مزید پڑھیے

انتظار کی رات

تیری وادی کے صنوبر میرے صحرا کے ببول ان پہ اک لرزہ سا طاری ان کے مرجھائے سے پھول تیرا جی ان سے خفا اور میرا دل ان پر ملول کیا یہ ممکن ہے کہ ان کا فاصلہ ہو جائے کم خاک کے سینے پہ آخر کب تلک یہ بار غم

مزید پڑھیے

پیاس

دور سے چل کے آیا تھا میں ننگے پاؤں ننگے سر سر میں گرد زباں میں کاٹنے پاؤں میں چھالے ہوش تھے گم اتنا پیاسا تھا میں اس دن جتنا چاہ کا مارا ہو چاہ کا مارا وہ بھی ایسا جس نے چاہ نہ دیکھی ہو اتنے میں کیا دیکھا میں نے ایک کنواں ہے ستھرا سا جس کی من ہے پکی اونچی جس پر چھاؤں ہے پیڑوں کی چڑھ ...

مزید پڑھیے

نئی مریم

کیسی توانا کیسی چنچل کتنی شوخ اور کیا بیباک کیسی امنگیں کیسی ترنگیں کتنی صاف اور کیسی پاک ہوش کی باتیں شوق کی گھاتیں جوش جوانی سینہ چاک خندہ ایسا جیسے رقص باتیں ایسی جیسے ساز کیسی توجہ کیسی محبت جس میں شامل کم کم ناز

مزید پڑھیے

انقلاب

وہ کاروان گل تازہ جس کے مژدے سے دماغ عشق معطر ہے اور فضا معمور دلوں سے کتنا قریں ہے نظر سے کتنی دور

مزید پڑھیے

سبز سے سفید میں آنے کا غم

نظر اٹھاؤں تو سنگ مرمر کی کور بے حس سفید آنکھیں نظر جھکاؤں تو شیر قالین گھورتا ہے مرے لیے اس محل میں آسودگی نہیں ہے کوئی مجھے ان سفید پتھر کے گنبدوں سے رہا کرائے میں اک صدا ہوں مگر یہاں گنگ ہو گیا ہوں مرے لیے تو انہیں درختوں کے سبز گنبد میں شانتی تھی جہاں مری بات گونجتی تھی

مزید پڑھیے
صفحہ 511 سے 960